کیا ہر فساد کی جڑ لباس ہے؟


شادی کے بعد شادی شدہ جوڑے ہنی مون منانے جاتے ہیں اور تصویریں بھی کھنچواتے ہیں اور سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں۔ شوبز سے تعلق رکھنے والے افراد ان سلسلوں کے علاوہ بھی سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً اپنی نجی لائف سوشل میڈیا پر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں مشہور اداکارہ اپنے شوہر کے ہمراہ ہنی مون منانے مالدیپ گئی۔ کچھ تصویریں انھوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس کے بعد ٹرول بریگیڈ ان کے پیچھے پڑ گیا اور ان کے لباس کو لے کر ان پر اور ان کے شوہر کی غیرت پر خوب تنقید کی گئی۔

تنقید کرنے والوں کی بڑی تعداد وہ ہی تھی جن کے نزدیک عورت فقط استعمال کی چیز ہے اور عورت کو نیچ اور کمزور سمجھنا ان کی فطرت میں شامل ہے۔ ان تنقید کرنے والوں میں سے بے شمار لوگ وہ ہی تھے جو پوری رات فحاش ویڈیو دیکھتے ہیں اور صبح اٹھ کر کسی اداکارہ کے لباس پر تنقید کر کے اس کو غیر مذہبی اور بے دین قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کیا یہ اسلامی ملک کے لوگ ہیں؟ کیا یہ مسلمان ہے؟ یعنی صرف چند تصویروں اور ویڈیو سے انسان دین سے خارج کر دیا جاتا ہے۔

ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ لباس کا تعلق مذہب سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟ کیا کوئی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ شلوار قمیض اور ٹوپی پہننے والا شخص بڑا نیک اور پارسا ہے جبکہ جینز اور ٹی شرٹ پہننے والا شخص گناہ گار اور بے دین ہے۔ کیا برقعہ پہننے والی ہر عورت پارسا اور نیک ہے اور نامناسب کپڑے پہننے والی لڑکی دین سے دور اور ملحد ہے۔ ایسا تو کوئی فارمولہ اسلام میں نہیں ہے کہ نامناسب لباس پہننے والا کافر ہوجاتا ہو۔ یقیناً مذہب کے حدود ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کو گناہ بھی ملتا ہے لیکن وہ دین کے دائرے سے خارج نہیں ہوتا۔ لیکن نا جانے کون لوگ ہیں جو جس کو چاہتے ہیں دین سے فارغ کر دیتے ہیں۔

اب جو لوگ منال خان کے تصویروں پر تبصرہ کر رہے ہیں وہ آخر چاہتے کیا ہیں؟ کیا دنیا آپ کی مرضی سے سارے کام کریں اور کیا لباس ہی ہر غلط کام ہونے کی علت ہے۔ آپ کو تصویر سمجھ نہیں آ رہی آپ نہیں دیکھیں، ضروری تو نہیں سوشل میڈیا پر ہوئی ہر وائرل چیز دیکھیں۔ آپ کے نزدیک اگر یہ گناہ ہے تو دیکھنے والا بھی گناہ گار ہے۔ تو آپ بھی گناہ گار ہے، ویسے بھی دینی تعلیمات میں یہ حکم ہے کہ غلط چیزیں آگے بھیجنے والا بھی گناہ گار ہوتا ہے۔ پہلی نظر غلطی سے پڑ گئی چلے مان لیتے ہیں مگر زوم کر کے دیکھنا کون سی نظر ہے؟ بھئی مسئلہ صرف خواتین کے کپڑوں کا نہیں بلکہ ہماری گھٹیا نفسیات کا ہے۔

میرے سرکل میں کچھ نوجوان دوست بھی ہیں۔ انھوں نے واٹس اپ پر اپنا ایک گروپ بنایا ہوا ہے جس میں وہ گندی گندی ویڈیوز کا ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کرتے ہیں۔ چند لوگوں کے اس گروپ میں اکثر کی شادیاں ہو چکی ہیں۔ ہنی مون تصویروں کے سلسلے میں اس گروپ کے ایک لڑکے سے رائے لی تو کہتا ہے کہ یار کیا بے ہودگی ہے، بھلا اس طرح کی تصویر آخر سوشل میڈیا پر کون شیئر کرتا ہے؟ یہ منافقت بہت عام ہے مگر یہ کرنے والے مانتے نہیں ہے کہ ہم منافق ہے۔

یہ جو درس کے نام پر درد دیتے ہیں ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے جو کسی فحاش ویڈیو کے شیئر ہونے پر اس کا لنک مانگتے ہیں اور ڈھٹائی کے ساتھ مانگتے ہیں اور پھر دیکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ ابے یار کیا بے حیائی ہے؟ عجیب بے غیرت لوگ ہیں۔ ہم میں سے اکثریت کی نفسیات لباس کی حد تک محدود ہے اور ہم وہ ہی لوگ ہیں جو بے لباس ویڈیو زکی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر فساد کی جڑ لباس ہے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “کیا ہر فساد کی جڑ لباس ہے؟

  • 11/10/2021 at 5:22 شام
    Permalink

    لباس نہیں کچھ اور

  • 11/10/2021 at 8:31 شام
    Permalink

    ٹھیک۔۔۔۔

Comments are closed.