احساس کی چادر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چی گویرا نے کہا تھا کہ ”میں نے قبرستان میں ان لوگوں کی بھی قبریں دیکھی ہیں جنہوں نے موت کے خوف کی وجہ سے حق اور مظلوم کا ساتھ نہیں دیا“ ۔

چی گویرا ارجنٹائن میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ وہ پڑھائی میں کافی تیز تھا۔ اچھے نمبر آئے اور پھر اس کا داخلہ میڈیکل اسکول میں ہو گیا۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کو جنوبی امریکہ کے ملکوں کے لوگوں کے حالات سے بھی ہمدردی تھی۔ وہ میکسیکو گیا اور وہاں اس کی ملاقات فیڈل کاسترو سے ہوئی۔

فیڈل کاسترو اس وقت اپنے بھائی راول کاسترو کے ساتھ میکسیکو میں تھا اور اپنے ملک کیوبا پر امریکی تسلط کے خلاف جنگجوؤں کی ایک فوج تیار کر رہا تھا۔ چی گویرا نے ڈاکٹری کی تعلیم ادھوری چھوڑی اور فیڈل کاسترو کے ساتھ کیوبا چلا آیا اور امریکہ کے خلاف مزاحمتی اور گوریلا جنگ شروع کر دی۔

چی گویرا دن کے وقت لڑتا، زخمی ہونے والے فوجیوں کا علاج کرتا اور رات کو ان ہی کیوبن لڑکوں اور مردوں کو پڑھاتا اور تعلیم دیتا۔ وہ جن لڑکوں کو جنگ کے لئے بھرتی کرتا، ان سے پہلے یہ کہتا کہ آپ کو لڑائی کے ساتھ تعلیم بھی حاصل کرنی ہو گی۔

فیڈل کاسترو اور چی گویرا کی طویل جدوجہد کے بعد جب کیوبا آزاد ہوا تو فیڈل کاسترو صدر اور چی گویرا وزیر بن گئے لیکن چی گویرا کو کب دولت اور شہرت سے لگاؤ تھا۔ چی وزارت چھوڑ کر جنوبی امریکہ کے دوسرے مظلوم لوگوں کی مدد کو نکل گیا اور آخر میں بولیویا آ گیا جو امریکہ کے تسلط میں تھا۔

چی گویرا بولیویا کے لوگوں کے لئے لڑتا رہا لیکن مقامی لوگوں کی مخبری کے باعث امریکی سی آئی اے کے ہاتھوں مارا گیا لیکن تاریخ میں زندہ رہ گیا۔ وہ وزیر بننے کے بعد آرام دہ زندگی گزار سکتا تھا لیکن اس کو پتا تھا کہ

ظلم سہنا بھی تو ظالم کی حمایت ٹھہرا
خامشی بھی تو ہوئی پشت پناہی کی طرح

آئیے اب ہم ہالی وڈ کی فلم جنرلز ڈاٹر (General ’s Daughter ) کی طرف چلتے ہیں۔ جنرل جو کیمبل کی بیٹی جو خود بھی امریکی فوج میں کیپٹن ہے، فوجی کیمپ زیادتی کا شکار ہو جاتی ہے۔ جنرل جو کیمبل اپنے اوپر والے جنرل سے تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے لیکن وہ جواب دیتا ہے کہ تحقیقات سے فوج کا مورال گر جائے گا۔ تمہاری ترقی بھی ہونے والی ہے۔ تم امریکہ کے نائب صدر کے ساتھ بھی کام کر سکتے ہو لیکن اگر تمہیں اپنا کیریئر آگے لے کر جانا ہے تو اپنی بیٹی کو کہو کہ اس واقعہ کو بھول جائے۔

جنرل جو کیمبل اسپتال میں زیر علاج اپنی بیٹی سے ملنے آتا ہے۔ بیٹی اپنے باپ کو دیکھ کر جذبات کی شدت سے اس سے لپٹ جاتی ہے اور زار و قطار رونے لگتی ہے۔ وہ اپنے جنرل باپ سے سوال کرتی ہے کہ اس واقعہ کے ملزم کو پکڑ کر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ جنرل جو کیمبل اپنی بیٹی کا ہاتھ چھوڑ کر کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے کہتا ہے کہ اس واقعہ کو بھول جائے اور اپنے مستقبل کی طرف توجہ دے۔ اس کی بیٹی جواب دیتی ہے کہ مجھے اب اپنے rape سے زیادہ اس بات کا افسوس ہے کہ میرا باپ حق اور مظلوم کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا۔

اب فلمی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں واپس آتے ہیں اور اسلام آباد میں ہونے والے نور مقدم کے وحشیانہ قتل کی طرف چلتے ہیں۔ ملزم زاہر جعفر نے اپنی دوست نور مقدم کو اپنے اسلام آباد والے گھر میں انتہائی بیدردی سے قتل کر دیا۔ گھر کے ملازمین نے اس قتل سے پہلے بھی ملزم کے والد کو اطلاع دی کہ آپ کا بیٹا کوئی انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے لیکن کراچی میں موجود ملزم کے والد ذاکر جعفر نے اس بات کو سنجیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔

وہ لڑکی شدید زخمی حالت میں گھر کے دروازے تک بھی آ جاتی ہے اور چوکیدار سے کہتی ہے دروازہ کھولو ورنہ ظاہر مجھے مار دے گا لیکن چوکیدار کا ضمیر نہیں جاگتا اور وہ لڑکا واپس اس لڑکی کو بالوں سے گھسیٹتا ہوا اوپر کمرے میں لے جا کر قتل کر دیتا ہے۔ معصوم لڑکی قتل کر دی گئی۔ ملازمین نے پھر کراچی فون کر کے ذاکر جعفر کو بتایا کہ یہ ظلم ہو گیا ہے مگر ملزم کے باپ نے جواب دیا کہ گھبرانے کی بات نہیں ہے، ابھی بندے بھیج رہا ہوں اور وہ لاش کو ٹھکانے لگا دیں گے۔

یہاں بھی حق اور مظلوم کا ساتھ نہیں دیا گیا۔ اگر ذاکر جعفر نور مقدم کو اپنی بیٹی سمجھتا، اپنے بیٹے کو فون پر سمجھاتا یا پولیس کو اطلاع کر دیتا تو شاید ایک باپ کی بیٹی جس کو اس نے ناز و نعم سے پالا تھا، بچ سکتی تھی۔ ایک بیٹی کو بڑا کرنے میں ماں باپ کتنا ایثار کرتے ہیں، اس کا احساس ہمیں اپنے معاشرے کو دلانا ہو گا۔

چی گویرا، جنرل جو کیمبل اور ذاکر جعفر جیسے کرداروں کو سامنے رکھ کر آپ خود فیصلہ کریں کہ آپ کو کون سا انسان اچھا لگا۔ آپ کس کی تقلید کریں گے۔ ہمارے حکمران، جج، جنرلز، وکیل، ڈاکٹر، کاروباری حضرات اور معاشرے کے دیگر لوگ اگر یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم صرف سچ اور مظلوم کا ساتھ دیں گے اور جو صحیح ہو گا وہی کریں گے تو پھر ایک نیا معاشرہ جنم لیے گا۔ پھر نور مقدم زخمی حالت میں جب بنگلے کے دروازے پر آئے گی تو چوکیدار اور گھر کا باورچی تماشا دیکھنے کی بجائے اس کی مدد کریں گے۔ اور اگر ہمیں حق اور مظلوم کا ساتھ دینے میں دقت پیش آئے تو ہم چی گویرا کے اس قول کو ذہن نشین کر لیں کہ ”میں نے قبرستان میں ان لوگوں کی بھی قبریں دیکھی ہیں جنہوں نے موت کے خوف کی وجہ سے حق اور مظلوم کا ساتھ نہیں دیا“ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments