ریٹائرمنٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کا خمیر بھی خدا نے عجیب مٹی سے اٹھایا ہے، وہ ہر اس چیز کو یاد کرتا ہے اور آہیں بھرتا ہے جو اسے میسر نہیں ہوتی اور ہر اس چیز سے اغماض اور بے پرواہی برتتا ہے جو اسے حاصل و میسر ہوتی ہے۔ جوانی کے دنوں میں بچپن اور بڑھاپے کے دنوں میں جوانی کو یاد کر کے آنسو بہاتا ہے، مصروفیت میں فراغت کے خواب دیکھتا ہے اور فراغت کے دنوں میں اپنی مصروفیت کے قصے سناتا پھرتا ہے، غریبی کے دنوں میں بھی امیری کی کھوج میں رہتا ہے اور امیر ہو جانے پر غربت کے دنوں کی سادگی اور بے فکری کو یاد کرتا رہتا ہے، کنوارا ہو تو شادی شدہ لوگوں کو حسرت سے دیکھتا ہے اور شادی ہو جائے تو عہد کنوارگی میں کھویا رہتا ہے، بے روزگار ہو تو نوکری یا بزنس کا خیال چوبیس گھنٹے ستاتا رہتا ہے، نوکری مل جائے تو زمانہ طالب علمی کی خوشگوار یادیں اسے کچوکے لگاتی رہتی ہیں، نوکری کرتا ہے تو اسے لگتا ہے نوکری کا کوئی فائدہ نہیں ہر وقت جی حضوری کرنی پڑتی ہے ہے، اصل مزہ بزنس کا ہے اور بزنس کر لے تو اسے لگتا ہے کہ ساری دنیا کی مصیبتیں اس نے اپنے گلے میں ڈال دی ہیں، نوکری اچھی ہے صبح جاؤ شام کو واپس گھر آ جاؤ، جی بھر کے چھٹیاں کرو اور تنخواہ پوری لوں۔

اس کے ساتھ ہر نوکری پیشہ آدمی ایک خواب ضرور دیکھتا ہے اور وہ ہے باعزت ریٹائرمنٹ کا خواب کہ کب اس کرب مسلسل سے نجات ملے گی اور کب عیش و نشاط کے دن آئیں گے، اپنی مرضی سے سوئیں گے اپنی مرضی سے اٹھیں گے، لیکن بڑی عجیب بات ہے کہ جب وہ ریٹائر ہو جاتا ہے تو عدم مصروفیت اور بیکاری ایک اذیت بن کر اس کے رگ و ریشے میں اتر جاتی ہے، ویران کمرے اسے کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں، بات کرنا چاہتا ہے مگر کوئی سامع نہیں ملتا، ہنسنا چاہتا ہے مگر کوئی ساتھ ہنسنے والا نہیں ملتا، رونا چاہتا ہے تو کوئی کندھا نہیں ملتا جس پہ سر رکھ کے وہ چار آنسو بہا لے اور دل کا بوجھ ہلکا کر لے، پہاڑ جیسا دن کاٹتا ہے تو اس سے رات نہیں کرتی رات کاٹتا ہے تو دن نہیں کٹتا، ایسے میں وہ اپنے ماضی کے دھندلکوں میں سے یادوں کا بکس نکالتا ہے انھیں الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے اور اپنے دل کو بہلانے کی کوشش کرتا ہے۔

وہ یاد کرتا ہے مصروفیت کے دنوں میں صبح کب ہوتی تھیں اور شام کب ہو جایا کرتی تھی پتہ ہی نہیں چلتا تھا، کیسے کیسے سنگی ساتھی تھے، روز ملتے تھے، ہنستے مسکراتے تھے، لطیفے سناتے تھے، دعوتیں اڑاتے تھے، کوئی ہنس مکھ تھا کوئی سڑیل کوئی لالچی کوئی ضدی کوئی خود سر اور مغرور، کوئی عاجز و خاکسار، کئی ایک تو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور کئی آواز پر کان دھرے بیٹھے ہیں کہ کب بلاوا آ جائے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد انسان کو ہر چیز بڑی تفصیل سے یاد آتی ہے لیکن وہ ماضی کی پیشہ وارانہ مصروفیات اور میکانکی اصول و ضوابط کا کم ہی تذکرہ کرتا ہے مثلاً ایک ریٹائرڈ آدمی کم ہی ڈسکس کرے گا کہ اس کی ذمہ داریاں کیا کیا تھیں، اس کی کارکردگی کیا تھی اس کے ٹارگٹس کیا تھے، کتنے ٹارگٹ حاصل کیے، کتنے رہ گئے۔ وہ زیادہ تر جن واقعات کو بتانا اور تذکرہ کرنا پسند کرتا ہے یہ وہی واقعات ہوتے ہیں جن میں اس نے کسی کی مدد کی ہوتی ہے، کسی کا جائز کام کیا ہوتا ہے، کسی کا حوصلہ بڑھایا ہوتا ہے، کسی کے زخم پر مرہم دھرا ہوتا ہے، کسی روتے ہوئے کو ہنسایا ہوتا ہے، گرے ہوئے اٹھایا ہوتا ہے اور گلے لگایا ہوتا ہے، کسی کو نقصان سے بچایا ہوتا ہے، کسی ڈوبتے ہوئے کو اچھالا ہوتا ہے یا کسی سے کسی بھی انداز میں دعا لی ہوتی ہے۔ یہ وہ یادیں ہیں جو قطار اندر قطار چراغوں کی طرح اس کے قلب و روح کو روشن کرنے کا باعث بنتی ہیں۔

آپ اکیسویں سکیل کے سیکریٹری یا آئی جی ریٹائرڈ ہوجائیں یا ساتویں سکیل کے کلرک، قیمت آپ کے اخلاق اور کردار کی ہی لگتی ہے۔ آپ کو معاشرے میں بکھرے ایسے بے شمار لوگ مل جائیں گے جنھیں بعد از ریٹائرمنٹ کوئی منہ لگانا پسند کرتا ہے نہ ان کو اپنے پاس بٹھانا پسند کرتا ہے، ان کے شاندار ڈرائنگ روم تنہائی اور وحشت کا نمونہ پیش کرتے ہیں، وجہ صرف اور صرف ان کا اخلاق سے عاری رویہ ہوتا ہے، انہوں نے طاقت اور اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر یہ سمجھ لیا ہوتا ہے کہ یہ کرسی ان سے کبھی نہیں چھنے گی، مگر ”حسن اور حکومت کی عمر کتنی ہوتی ہے“ وقت کا پہیہ گھومتا ہے اور یہ تنہائی اور بے مائیگی کی دلدل میں دھنس کر رہ جاتے ہیں اور روتے پیٹتے اپنا بڑھاپا کاٹ کر ملک الموت کی انگلی تھام کر راہ عدم سدھار جاتے ہیں

دوسری طرف آپ کو چھوٹے بڑے عہدوں سے ریٹائرڈ ایسے بے شمار لوگ بھی ملیں گے جن کی بیٹھکوں، چوپالوں کا رش نہیں ٹوٹتا، حقے کی گڑگڑاہٹ تھمنے کا نام نہیں لیتی، دو جا رہے ہیں تو چار آ رہے ہیں، سب کو چائے پانی بھی مل رہا ہے، پنچایت لگ رہی ہیں، معاملات حل ہو رہے ہیں، ہر طرف خوشی اور طمانیت کا دور دورہ ہے، اس پر کیف ماحول کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اخلاق اور دردمندی اور احساس کے اعلی عہدے پر فائز ہوتے ہیں، انھوں نے طاقت اور اختیار کے دنوں میں انسان اور انسانیت کی قدر کی ہوتی ہے، خود کو حاکم نہیں بلکہ سائل کی جگہ پہ رکھ کے سوچا ہوتا ہے، اور ان سے جب ان کے ماضی کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو فضاؤں میں گھورتے ہیں نہ ان کی آواز گنگ ہوتی ہے بلکہ ان کی آنکھیں چراغوں کی طرح روشن ہو جاتی ہیں، ان کی باتوں سے علم و دانش کے سوتے پھوٹتے ہیں، ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اخلاق و کردار کے بلند عہدے پہ فائز ہوتے ہیں اور ان عہدوں پہ براجمان لوگ کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، کبھی بھی نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments