آرٹسٹ ایس ایم خالد سے ایک مختصر ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہوسٹل کے دنوں میں ویک اینڈ پر میں اکثر اکیڈمی کے دوست نعیم سے ملنے اس کی یونیورسٹی یو ای ٹی کے ہوسٹلز چلا جایا کرتا تھا۔ ہم شام کے وقت کیمپس کے احاطے میں گھنٹوں چہل قدمی کرتے۔ ہوسٹلز کی فضا سگرٹ کے دھوئیں سے بوجھل ہوتی۔ اور کمروں سے بالی ووڈ کے گانوں کی آواز بلند ہو رہی ہوتی۔ ان دنوں کے کے کا ”بیتے لمحے“ سپر ہٹ ہوا ہوا تھا۔

شام کے جھٹ پٹے میں نغمے کے بول گونج اٹھتے۔ ”درد میں بھی یہ لب مسکرا جاتے ہیں۔ بیتے لمحے ہمیں جب بھی یاد آتے ہیں۔“

ہم اکیڈمی کے دنوں کی یاد کو تازہ کرتے۔ پھر ساتھ مارکیٹ سے کوئی ہارر مووی کی سی ڈی کرائے پر لے آتے۔ اور نعیم کے کمپیوٹر پر رات گئے فلم کے سنسنی خیز مناظر اور کپکپا دینے والی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے۔ اگلے روز میں ریفریش ہو کر اپنے ہوسٹل واپس آ جاتا۔

ایک روز میں نے مختلف پلان بنایا۔ میں نے اپنے سکیچز اٹھائے اور نعیم کے ہوسٹل جا پہنچا۔ میں نے اسے ہال روڈ ساتھ چلنے کا کہا۔ اس نے وجہ معلوم کی۔ میں نے بولا کہ مجھے تھوڑا کام ہے۔ اس نے بتایا کہ کیمپس کی بس کچھ دیر میں ہال روڈ کے لیے روانہ ہوگی۔ ہم اسٹینڈ پر پہنچے اور مطلوبہ بس میں سوار ہو گئے۔ نعیم مسلسل میرے سکیچز کی فائل کی طرف دیکھ رہا تھا۔

کچھ دیر کے بعد ہم میکلوڈ روڈ کے ہال روڈ اسٹاپ پر اترے اور وہاں سے پیدل لکشمی چوک کی طرف روانہ ہو گئے۔ تھوڑی دیر میں ہم آرٹسٹ ایس ایم خالد کے سٹوڈیو کے باہر کھڑے تھے۔ سامنے بورڈ پر ایس ایم خالد کے مخصوص سگنیچر موجود تھے۔ اب نعیم بھی ریلیکس محسوس کر رہا تھا۔

میرے ماموں (رشتے میں تایا) کے کلینک میں ایس ایم خالد کے بنائے ہوئے دو پورٹریٹ آویزاں تھے۔ انہوں نے بالترتیب تین اور پانچ ہزار روپے میں اپنا اور ابا جی (میرے دادا) کا پورٹریٹ بنوایا تھا۔ یہ پورٹریٹ رنگین پنسلوں سے بنائے گئے تھے۔ ماموں کا پورٹریٹ کاغذ پر اور ابا جی کا کپڑے پر بنایا گیا تھا۔ وہ ابا جی کی جوانی کی تصویر تھی۔ ان کے سیاہ اور چمک دار بال بنانے کے لیے آرٹسٹ نے پینٹ کا استعمال بھی کیا تھا۔

میں گھنٹوں ان پورٹریٹ کا مشاہدہ کرتا رہتا۔ میرا شوق دیکھ کر ماموں میرے لیے رنگین پنسلیں اور سکیچ بک لے آئے۔ کئی سالوں کی محنت کے بعد میں خود بھی وہ پورٹریٹ بنانے کے قابل ہو گیا۔ تصویروں کے نیچے ایک سائیڈ پر میں نے ایس ایم خالد کی طرح اپنے سائن کرنا شروع کر دیے۔ تاکہ زیادہ پروفیشنل لک آئے۔

ماموں نے اپنا کلینک دوسرے شہر شفٹ کر لیا۔ ان کی شاپ سے سینکڑوں کتابیں اور میگزین گھر منتقل ہو گئے۔ یوں ادب اور آرٹ کا ایک بہت بڑا خزانہ میرے ہاتھ لگ گیا۔ میں مذہب، تاریخ، فلسفہ اور ادب کی کتابیں پڑھتا اور میگزینوں کے سرورق سے تصویریں ڈھونڈ کر سکیچ کرتا۔ وہیں میں نے قائد اعظم، علامہ اقبال، فاطمہ جناح اور حمید نظامی وغیرہ کے پورٹریٹ دریافت کیے۔ وہ سب پورٹریٹ ایس ایم خالد ہی نے بنائے تھے۔

ایک روز میں نے کتابوں کی دکان پر لٹکے ایک میگزین پر علامہ اقبال کا پورٹریٹ دیکھا۔ نیچے ایس ایم خالد کے سگنیچر موجود تھے۔ دکان کے مالک سے میری دوستی ہو گئی۔ اس نے اپنا پورٹریٹ بنانے کے عوض وہ میگزین مجھے دے دیا۔ کئی کوششوں کے بعد میں نے علامہ اقبال کا وہ پورٹریٹ بنا لیا۔ اور پھر اس دن وہ میری فائل میں موجود تھا۔ جب میں نعیم کے ساتھ ایس ایم خالد سے ملنے ان کے سٹوڈیو کے باہر پہنچا تھا۔

ہم سٹوڈیو میں داخل ہو گئے۔ چاروں طرف ایس ایم خالد کے بنائے ہوئے پورٹریٹ آویزاں تھے۔ چھوٹے سے احاطے میں فربہ ایس ایم خالد پینٹ کوٹ میں دروازے کے ساتھ بیٹھے قدرتی روشنی میں کام کر رہے تھے۔ دو ملازم ان کی معاونت کے لیے موجود تھے۔ میں نے انہیں سلام کیا اور علامہ اقبال کا پورٹریٹ ان کی خدمت میں پیش کیا۔

”آپ نے یہ ٹریس کیا ہے؟“ انہوں نے پوچھا۔ ”نہیں سر،“ میں نے جواب دیا۔ انہوں نے گراف کا نہیں پوچھا۔ کیوں کہ گراف نظر آ جاتا ہے۔ تصویر کے نیچے میرے سگنیچر ہوئے ہوئے تھے۔ انہوں نے صفحہ پلٹا اور مجھے میرے سگنیچر کرنے کا کہا۔ میں اس تفتیش کی امید نہیں رکھتا تھا۔ ایس ایم خالد کی نقل میں میں نے یہ سگنیچر کرنا سیکھے تھے۔ آج وہی مجھے انہیں نقل کرنے کا کہہ رہے تھے۔ میں نے سگنیچر کر دیے۔

ان کے چہرے سے تشکیک کے بادل چھٹ گئے اور شفقت کی کرنیں نمودار ہونے گیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا کام پروفیشنل نوعیت کا ہے۔ اور کم وقت میں کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ تصویروں پر گراف لگاتے ہیں۔ اس طرح پورٹریٹ جلدی بنتا ہے اور زیادہ درست ہوتا ہے۔

ان کے ایک پکی عمر کے ملازم نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے اپنے سر سے لپٹا رومال اتارا اور اسے کھول کر مجھے اپنے ہاتھ سے بنا پورٹریٹ دکھانے لگے جو انہوں نے اپنی جوانی میں بنایا تھا۔ وہ بھی آرٹسٹ بننے کا خواب رکھتے تھے اور ایس ایم خالد سے آرٹ سیکھنے کی غرض سے لاہور آئے تھے۔ مگر فکر معاش کی وجہ سے ان کے سٹوڈیو کی دیکھ بھال پر مامور ہو گئے۔

میں نے سوچا کہ پاکستان میں کتنے نوجوان اپنی آنکھوں میں خواب سجائے رکھتے ہیں۔ ان کا اپنا آرٹ رومال میں چھپا رہتا ہے اور وہ دوسروں کے خوابوں کی تعمیل میں لگے رہتے ہیں۔ ہم نے ایس ایم خالد سے اجازت لی اور بس اسٹاپ پر پہنچ گئے۔ نعیم مجھے حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ میرا آرٹ پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ مگر اس کی تاثیر کا علم اسے غالباً آج ہوا تھا۔

ہم ہوسٹل واپس پہنچ گئے۔ نعیم کھویا کھویا لگ رہا تھا۔ میں نے اسے ریلیکس کرنے کے لیے بتایا کہ ایک نئی سائنس فکشن مووی ریلیز ہوئی ہے۔ آج رات ہم وہی مووی دیکھیں گے۔

کچھ سال بعد ہم نے انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کر لی۔ میں نے لاہور ہی میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی جوائن کر لی۔ اور نعیم بلوچستان میں ایک فیکٹری سائٹ پر چلا گیا۔

کچھ روز قبل میں کار میں ایک کام سے میکلوڈ روڈ پر ہال روڈ اسٹاپ سے لکشمی چوک کی طرف جا رہا تھا۔ مجھے ایس ایم خالد کا سٹوڈیو نظر نہیں آیا۔ دل بیٹھ گیا۔ ماس ٹرانزٹ، الیکٹرانکس اور پکوانوں کی بھیڑ میں آرٹ کہیں دب کر رہ گیا تھا۔ آرٹ، ادب اور کلچر اب ہماری ترجیح نہیں رہے تھے۔ اور شاید کبھی تھے بھی نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments