زمان و مکان کی تبدیلی ہیئت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج ڈاکٹر نعیم احمد کو پڑھتے ہوئے ایک عجیب و غریب سطر میری نظر سے گزری، لکھا تھا، ”عالم خواب میں زمان و مکان کے پیمانے یکسر بدل جاتے ہیں۔“ مجھے یہ سطر پڑھ کر جھٹکا سا لگا کیونکہ اس سے قبل میں ذاتی طور پر یہی سمجھتا تھا کہ زمان و مکان کے پیمانوں میں رد و بدل یا تبدیلی کسی بھی صورت میں ممکن نہیں کیونکہ یہ کائنات زمان و مکان کے تحت وجود میں آئی اور اسی کے مطابق اپنا سفر حیات طے کر رہی ہے۔ شاید اس کی وجہ علم کی قلت اور ذہنی نا بلیدگی ہو مگر میرا نظریہ یہی تھا۔

درج بالا سطر کو پڑھنے کے بعد اس پر تحقیق کرنے کا خیال بندہ خاکی کے کند ذہن پر سے گزرا۔ تحقیق مکمل ہوئی تو یہ راز مجھ پر عیاں ہوا کہ جب آدمی عالم رویا میں ہوتا ہے تو وہ طبیعیاتی دنیا سے قطع تعلق ہو جاتا ہے اور اسے اس بات کی کچھ خبر نہیں رہتی کہ وہ کہاں پڑا ہے اور کون سا وقت ہوا چاہتا ہے۔ کیونکہ زمان و مکان کا تعلق مادی دنیا سے بہت گہرا ہے اس وجہ سے عالم خواب میں اس کے پیمانوں کی ہیئت تبدیل ہو جاتی ہے۔

یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ عالم خواب اور طبیعیاتی دنیا کہ زمان و مکان کے پیمانوں میں آخر فرق کیوں آ جایا کرتا ہے تو اس کا جواب یہی دیا جاسکتا ہے کہ عالم خواب اور طبیعیاتی دنیا میں فرق ہے اس وجہ سے ان کے زمان و مکان کے پیمانوں کی ہیئت بھی تبدیل ہو جایا کرتی ہے۔ عالم خواب کا زمان و مکان وہ ہے جس میں فرد کو اس بات کا احساس ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ کہاں پڑا ہے اور وقت کس ترتیب سے گزر رہا ہے مگر دوسری طرف طبیعیاتی دنیا کا زمان و مکان وہ ہے جس میں فرد کیونکہ وہ شعوری طور پر طبیعیاتی دنیا میں موجود اور اس کے زمان و مکان کا اسیر ہوتا ہے اس لئے اسے چھوٹے سے چھوٹے لمحے کی بھی خبر ہوتی ہے کہ وہ کس انداز اور ترتیب سے گزر رہا ہے۔ اس بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زمان و مکان کی دو اقسام ہیں جن کے پیمانوں کی ہیئت ایک دوسرے سے یکسر جدا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی حسن اویس کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments