تعلیمی انحطاط کا ذمہ دار کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرصہ 20 سال سے تدریس کے ساتھ والہانہ وابستگی اور عشق اکثر مجھے اس بات پر اکساتا ہے کہ موجودہ تعلیمی انحطاط پر کچھ نہ کچھ تحریر کرتا رہوں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف مجھے دلی تسکین ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ قارئین بھی موجودہ تعلیمی مسائل سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ 10 سال کے دوران میرے مشاہدے کے مطابق ہمارے ملک میں گو تعلیم یافتہ افراد کی شرح میں تو خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ تمام طلباء جو موجودہ نظام تعلیم سے مستفید ہوئے ہیں، ان میں وہ تمام صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہیں جن کا ہونا ایک لازمی امر تھا۔

خاص طور پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس طالب علم نے کوئی گریڈ یا جماعت پاس کی ہے تو مستقبل قریب میں وہ ایک ایسا ہنر مند اور با صلاحیت نوجوان ہو گا جو ستاروں پر کمند بھی ڈال سکتا ہو۔ ہم کہہ سکتے ہیں ہمارے ماہرین تعلیم دور حاضر کی ضروریات مد نظر رکھتے ہوئے نصاب تعلیم کی تدوین اور تحریف تو کرتے رہتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے اور ملک کے تعلیمی مسائل کے بارے میں تحقیق و تفتیش کیے بغیر ایک عمدہ نقال کی طرح جدید ماہرین اور نفسیات تعلیم کے بنائے گئے اصول و ضوابط کو لاگو کرنے میں وہ ایسے ہی ہیں جیسے ایک، Cut، Copy، Paste کرنے والا جدید محقق یا انٹر نیٹ سے اپنی اسائنمنٹ ڈاؤن لوڈ کرنے والا اعلیٰ جماعت کا طالب علم، اپنے معاشرے اور ملک کی نوجوان نسل کو نقل پر مجبور کرنے میں سب سے زیادہ قصور تعلیمی پالیسی ساز حضرات کے ساتھ ان تمام اساتذہ کا بھی ہے جو اس نظام کی تبدیلی کے لئے آواز نہیں اٹھاتے۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کسی بھی طالب علم کی کارکردگی کا جائزہ صرف کسی امتحان یا ٹیسٹ کی بدولت ہی ممکن ہے، اگر اس طالب علم کا امتحان مربوط اور ٹھوس بنیاد پر لیا جائے تو لامحالہ مستقبل قریب میں وہ ایک مفید شہری بن سکتا ہے، دوسری صورت میں یہ ممکن ہے کہ وہ نہ صرف دوران تعلیم ہی اسے خیر باد کہہ کر بے روزگاری کے دھکے کھانے پر مجبور ہو جائے یا پھر ایک نا اہل افسر کی صورت میں ہمارے ملکی نظام کی جڑیں کھوکھلی کرنا شروع کر دے۔

نظام تعلیم کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہم دیکھیں گے کہ ہمارے تعلیمی نظام کو ایک تجرباتی ورکشاپ بنا دیا گیا ہے۔ جو بھی آمر یا جمہوریت پسند اس ملک پر مسلط ہوا، اس نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی ترجیح کی خاطر اس نظام میں وہ تحاریف کیں جو آگے چل کر دیمک کی طرح اس کو چاٹنے لگیں۔ ضیاء کی نصاب تعلیم کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ مربوط کرنے کے بعد ہمارے غیر ملکی آقا اس کوشش میں رہے کہ کسی نہ کسی طرح ہماری تعلیمی جڑوں پر کاری وار کر سکیں۔

اپنے اس مقصد کے حصول کی خاطر انہوں نے نہ صرف این جی اوز کا سہارا لیا بلکہ اپنے زر خرید ایجنٹوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کر کے ایسی پالیسی مرتب کی گئی جس سے ہمارے نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں بہت مدد ملی۔ میرے عمر رسید قاری اس بات سیے بخوبی واقف ہوں گے کہ وہ تعلیمی ادارے جہاں سکاؤٹنگ، گرل گائیڈنگ اور این سی سی کی لازمی تربیت کے ساتھ ساتھ سپورٹس اور مقابلہ نعت خوانی، مقابلہ حسن قرات اور تقریری مقابلہ جات جیسی ہم نصابی سرگرمیوں کو خاص اہمیت حاصل تھی ان کو یک بیک نہ صرف ترک کر دیا گیا بلکہ جدید نسل کو سختی کی بجائے نرمی اور مار نہیں پیار جیسا نعرہ دے کر اوائل عمری میں ہی ایک ایسا شتر بے مہار بنا دیا گیا، جو بعد میں والدین اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ کسی کے قابو میں نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید آلات عیاشی یعنی سمارٹ موبائل بھی معماران قوم کے ہاتھ میں پکڑا کر ان کو فحاشی اور جنسی لوازمات میں یوں گم کر دیا کہ وہ عالم مدہوشی میں بھول گیا کہ اس نے تو ایک ایسا مومن بننا تھا جس میں آفاق نے گم ہونا تھا، کجا یہ کہ وہ نادیدہ حسینوں کے جسم کی گرمیوں کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔

امتحانات کسی بھی جماعت یا فرد کی کار کردگی ماپنے کا ایک بہترین پیمانہ اور اگر یہ امتحان کڑی شرائط اور نظم و ضبط کے ساتھ لیا جائے تو یہ ناممکن ہے کہ میرٹ کی دھجیاں اڑیں یا مستحق اور قابل افراد کی حق تلفی ہو لیکن گزشتہ بیس سال سے ہمارے نظام امتحان میں اتنی تبدیلیاں اور تحریفات کی گئی ہیں جن کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے خاتمے کے ساتھ ہی ہمارے نظام تعلیم میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جس کو پر کرنا ممکن ہی نہیں۔

ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ جب طلباء کی کار کردگی کی پیمائش صرف وہی معلم اور ادارہ کرے گا جس نے اسے تعلیم دی ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ نا انصافی سے کام نہیں لے گا اور اپنی پورے سال کی نا اہلی کو چھپا نے کی کوشش نہیں کرے گا۔ خارجی امتحانات کا ایک اور فائدہ مسابقت کی فضا ہے، جب ایک سال کے بعد پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کے جماعت پنجم اور ہشتم کے نتائج کا اعلان ہوتا تھا تو ہر صاحب عقل فرد کم از کم ادارہ جات اور اساتذہ کی اہلیت کے بارے میں با خبر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے بچے کی کار کردگی سے بھی واقف رہتا تھا۔

اگر کوئی فرد یہ دلیل دے کہ کیا ہمیں اپنے اساتذہ کے مہیا کیے گئے نتائج پر اعتبار نہیں ہے؟ تو پھر اساتذہ کی مانیٹرنگ بھی بند کر دیں۔ کجا یہ کہ ایک میٹرک پاس مانیٹرنگ افسر ماسٹرز ڈگری ہولڈر استاد کی جماعت کا ماہانہ جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔ میں نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ جب سے پنجاب ایگزامینیشن سسٹم کے امتحانات ختم ہوئے ہیں، والدین کے لئے اپنے چھوٹے بچوں کے لئے ایک اچھے تعلیمی ادارے کا انتخاب مشکل ہو گیا ہے۔ والدین اب کسی بھی بچے کو ایک سکول میں داخل کر کے پورے دس سال کے لئے بے فکر ہو جائیں اور ان کو علم اس وقت ہو جب وہ میٹرک کے سالانہ امتحان میں ایک عام طالب علم جتنے کم نمبر حاصل کر کے اپنی زندگی کے دس سنہری سال ضائع کر کے مزدور بن جائے۔

معماران ملت کے کردار اور شخصیت کی تکمیل اور تشکیل کے لئے کھیل، سکاؤٹنگ اور این سی سی جیسی صحت مندانہ سرگرمیوں کی اہمیت ایک مسلمہ حقیقیت ہے لیکن ایک عرصہ گزر چکا ہے، اس طرح کی سرگرمیاں ہماری تعلیمی درسگاہوں میں معدوم او ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ سپورٹس ڈے اور گرلز سکولوں میں مینا بازار کے نام پر طلباء و طالبات سے کچھ رقم جمع کر کے حکام بالا کو بھیجنے کے علاوہ کوئی بھی سکول کسی بھی قسم کی غیر نصابی سرگرمیاں کروانے میں ناکام نظر آتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ بچپن میں مرکز کی سطح پر پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں میں سپورٹس کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں کے مقابلہ جات کروائے جاتے تھے، جن میں کرکٹ، ہاکی، کبڈی، کشتی، ہمیر تھرو، دوڑ اور والی بال کے ساتھ ساتھ فٹ بال کے مقابلہ جات قابل ذکر ہیں اس کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں میں مقابلہ نعت خوانی، حسن قرات اور تقریری مقابلہ جات کے ساتھ ساتھ خوش خطی کے مقابلہ جات کے لئے پورا ہفتہ مختص ہوتا تھا اور مقابلہ جات جیتنے والے طلباء و طالبات تحصیل اور ضلع کی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں حصہ لیتے تھے لیکن اب ہمیں ڈینگی کی صفائی مہم کی تصویریں اپ لوڈ کرنے سے فرصت ملے تو ہم بھی کوئی صحت مندانہ سرگرمی منعقد کروائیں۔

موجودہ دور میں جہاں ہر طالب علم کو مزدور، کلرک اور ایک عام کارکن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہاں طلباء کو علم سے دور رکھنے کے لئے کتاب لائبریری کی سہولت بھی دن بدن ختم ہو رہی ہے۔ کاش میری قوم کے زندہ و پائندہ مفکرین اس بات پر تھوڑا غور و فکر کریں اور ایک ایسی قوم کی بنیاد رکھنے کی کوشش کریں جو ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تندرست و توانا ہو۔ ہما را ہر طالب مستقل قریب کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جابر بن حیان اور ابن الہیثم بن سکتا ہے شرط یہ ہے کہ اس کو ایسا نظام دیا جائے، ایک ایسی تربیت گاہ دی جائے جہاں اس کی خفتہ صلاحیت اور جبلت کو بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ جلا بخشی جا سکے اور ایسا ایک ایسی تعلیمی درسگاہ میں ممکن ہے جو دور حاضر کی تمام ضروریات و آلات سے لیس ہو جہاں طلباء کو مزدور، کلرک، سپاہی، فوجی نہ بنایا جائے بلکہ اس کو ایسا منصوبہ ساز بنایا جائے جو مستقبل قریب میں درپیش چیلنج سے مقابلہ کر سکے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments