؎ہم نے سونا سپرد خاک کیا
دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ( 1936۔ 2021 ) کو قومی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ عوامی، سیاسی، عسکری حلقوں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا قومی ہیرو کو زبردست خراج عقیدت۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا ہر باشعور محب وطن شہری ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی موت پر افسردہ ہے۔ اور ان کے لیے ہر زبان پر ان کی قومی شعبۂ دفاع میں خدمات پر خراج عقیدت کے کلمات ہیں۔
عبدالقدیر خان اے کیو خان کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ ایک پاکستانی ایٹمی طبیعیات دان اور میٹالرجیکل انجینئر تھا۔ انہیں ”پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا باپ“ کہا جاتا ہے۔ یکم اپریل 1936 ء میں بھوپال، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر خان نے 1952 ء میں اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے تھے۔ مغربی یورپ کی ٹیکنیکل یونیورسٹیز سے میٹلرجیکل انجنیئرنگ شعبہ جات سے تعلیم حاصل کی۔ وہ میٹل الائز اور یورینیم میٹلرجی کے فیز ٹرانزیشن کے راہنما سائنس دان تھے۔ پڑوسی ملک ہندوستان کے نیوکلیر پروگرام ”Smiling Buddha“ کے تحت 1974 ء میں نیوکلیر دھماکوں کے بعد سنجیدگی سے ملک کے لئے نیوکلیر ٹیکنالوجی کے میدان میں کام کرنے کا سوچا۔
وفات سے قبل ایک ویڈیو بیان میں ڈاکٹر خان نے بتایا کہ 1971 ء کی جنگ میں شکست اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی عسکری اور عوامی حلقوں میں رنج اور افسوس پایا جاتا تھا اور قوم کے حوصلے پست تھے۔ ہماری افواج اور بہت سے سویلین موجودہ بنگلہ دیش میں قیدی بنا لیے گئے تھے۔ ان حالات میں انہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ( 1928۔ 1979 ) سے ملاقات کر کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے اپنی خدمات پیش کیں تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو ہر طرح کی حمایت اور امداد کا وعدہ کیا۔
ڈاکٹر صاحب کی اپنے فیلڈ میں مہارت اور لگن کا یہ عالم تھا کہ چار سے پانچ سال کے اندر اندر پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا۔ 1976 ء میں جب ڈاکٹر خان نے سابق صدر جنرل ضیاء الحق کو آگاہ کیا کہ ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں تو بقول ڈاکٹر خان، جنرل ضیاء نے ان کا ماتھا چوم لیا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر خان، سابق صدر غلام اسحاق خان کے تعاون اور مدد کے بہت مشکور ہیں جس کی وجہ سے یہ ملکی اثاثہ محفوظ ہاتھوں میں رہا اور ترقی کرتا رہا۔
1998 ء میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے فوراً بعد پاکستان نے ایٹمی دھماکے میں کر کے اپنے کو ایک ایٹمی قوت کے طور پر دنیا میں تسلیم کروایا۔ اس بڑے ہدف اور سنگ میل کے حصول میں ڈاکٹر خان اور ان کے رفقاء ایٹمی سائنس دانوں کی ان تھک محنت اور لگن تھی۔ اس دن کے بعد سے پاکستان ایک ایٹمی قوت کی حیثیت سے اپنی تاریخ کے محفوظ دور میں داخل ہو چکا تھا۔ پاکستان اس وقت بڑھتا ہوا ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے، اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے اور جامع ایٹمی ٹیسٹ پابندی معاہدے (CTBT) دونوں سے باہر ہے۔
ڈاکٹر خان کو ایچ 8 قبرستان اسلام آباد میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس مقام پر تدفین کے لئے ڈاکٹر خان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک خط بنام چئیر مین سی ڈی اے، ڈائریکٹر ایچ 8، ایچ 11 قبرستان، اسلام آباد، بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بعد از وفات یہاں تدفین کے لئے درخواست کی ہے۔ جہاں ہر اس قومی ہیرو کی جدائی پر ہر پاکستانی کی آنکھ اشکبار ہے وہیں ان کی تدفین کے موقع پر آسمان بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور اشکبار ہو گیا۔ ڈاکٹر خان پر نثار پاکستانی قوم موسم کے موسلا دھار تیور اور ژالہ باری جیسی صورت حال کے باوجود صبرو تحمل سے ایک سچے پاکستانی کے آخری سفر میں شریک ہوئے اس طور انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے عقیدت مند اور کھرے دوست ہونے کا ثبوت دیا۔
کچھ عوامی حلقوں کی طرف سے ڈاکٹر خان کی تدفین پر حکومتی وزراء کی بے حسی اور عدم شرکت پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ردعمل بھی سامنے آئے۔ البتہ اخباری روایتی تعزیتی بیانات بڑی اخباروں کی بڑی سرخیوں کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ محسن پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کا وفات سے چند روز پہلے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو لکھا گیا آخری خط منظر عام پر آ گیا ہے۔ چار اکتوبر کو لکھے گئے خط میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے گلدستہ بھیجنے پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے کہ ان کے صوبے کے وزیر اعلی نے انہیں یاد رکھا، مشکل وقت میں وزیراعلیٰ سندھ کے یاد رکھنے پر وہ ان کے ممنون ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر نے یہ شکوہ بھی کیا کہ شاید وزیراعظم، اور پنجاب، کے پی اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ ان کے مر نے کی خبر کے منتظر ہیں۔ اور بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ہی اکلوتے وزیر ہیں جو کراچی سے اسلام آباد آ کر ڈاکٹر خان کی آخری رسومات میں شریک ہوئے۔ اس ساری صورت حال کو پڑوسی ملک ہندوستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالکلام کی وفات اور وہاں کے حکومتی اور عوامی ردعمل سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔
کہ انتہا پسند ظالم نریندر مودی ڈاکٹر عبدالکلام کی تدفین میں شرکت کرتا ہے۔ یہاں پر محسن پاکستان کا لقب پانے والے ڈاکٹر خان کے سفر آخرت میں شرکت کے لئے ہمارے معزز وزراء کے پاس وقت نہیں تھا۔ شاید ڈاکٹر صاحب کی روح بھی اس طرز عمل سے ملول ہو اور سوچتی ہو ”؎ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک“ اور اس طرح وطن عزیز کی سلامتی اور مخافظت کی خواہشات لئے وہ عظیم ہستی اس دنیا سے گزر گئی۔
معروف ادیب اور کالم نگار جبار مرزا اپنی ایک تحریر میں بیان کرتے ہیں، ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قومی خدمات کی انجام دہی میں گزشتہ 45 برس میں جو ایوارڈ ملے ان کا ایک بکس بھی ہے، جو میری کتاب“ نشان امتیاز ”کے صفحہ 16 پر طبع شدہ ہے۔ اس میں دو نشان امتیاز بھی ہیں جو پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ہے۔ ڈاکٹر خان کے علاوہ اور کسی کے پاس یہ دو نشان امتیاز نہیں ہیں۔ اس میڈل بکس کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مجھ سے کہا تھا کہ جب میں فوت
ہو جاؤں تو گھر والوں سے کہہ دیا ہے کہ یہ بکس میری قبر کے سرہانے رکھوا دیجیے گا۔ ”
آج ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جدائی پر انہیں ان کی کلیدی دفاعی خدمات کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات پر بحیثیت قوم ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں ملکی تاریخ میں انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان یقیناً معماران قوم کی صف میں کھڑے ہیں۔
؎ خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ۔ ہم نے سونا سپرد خاک کیا
۔ ۔ ٭٭٭۔


