محسن پاکستان کی رحلت اور ہمارے قومی و سماجی رویے
محسن پاکستان اور ایٹم بم کے بانی ڈاکٹر عبد القدیر خان کا سانحۂ ارتحال نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کا بہت بڑا نقصان ہے۔ پورا ملک سوگ میں ڈوبا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی خدمات آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ہے بلکہ دنیا بھر میں موجود تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا تاوان ادا کیا ہے۔ سورہ انفال میں ارشاد باری تعالٰی ہے
”جہاں تک ممکن ہو کافروں کے مقابلے میں قوت اور جنگی گھوڑے تیار رکھو جن سے تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو خوفزدہ کر سکو، جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے“ ۔
اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی حربی صلاحیتوں کو بہترین شکل میں تیار رکھیں تاکہ انہیں دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی کی احتیاج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسلامی ریاست اگر دشمن کے مقابلے کے حوالے سے کسی چیز یا ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گئی ہے تو اس ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے حصول کی تگ و دو کرے۔ آج تمام مسلم ممالک جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے غیر مسلموں کے دست نگر ہیں۔ آج اگر امریکہ گوگل کی لینڈ نیویگیشن، میرین نیویگیشن، ائر و نوثک نیویگیشن اور سپیس نیویگیشن کی سروسز معطل کردے تو ہمارے تمام جہاز، بحری جہاز اور گاڑیاں وغیرہ بھٹک جائیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب حربی میدان میں پاکستان کی بالخصوص اور عالم اسلام کی بالعموم اس احتیاج سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ اس ہر وقت کڑھتے رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو شروع کیا اور اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اس لحاظ سے وہ نہ صرف پاکستان کے بلکہ پورے عالم اسلام کے محسن ہیں۔ 1998 میں جب ہندوستان نے پوکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کیے تو ہم نے جواب میں سات ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو اس کی اوقات یاد دلا دی اور یوں اس کی مہم جوئی کے گھوڑے کو لگام ڈالی۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ سائنسدان نہیں بلکہ ادیب ہیں اور شعر و ادب سے گہرا تعلق رکھنے والے لوگ زود رنج ہوتے ہیں۔ کچھ تو واقعی ہم نے ان کے ساتھ بہت بے حسی والا رویہ رکھا اور کچھ ادیب ہونے کے ناتے وہ زود رنج بھی بہت تھے۔ جس کے باعث اپنی بے قدری اور بے توقیری پر ہر وقت شکوہ سنج رہتے تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ میر، غالب، اقبال سمیت بے شمار نابغۂ روزگار ہستیوں کو زمانے کی بے قدری کا گلہ رہا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم مردہ پرست معاشرے کا حصہ ہیں، زندوں کی بے قدری کرتے ہیں مگر جنازوں میں بصد شوق شرکت کر کے مرنے والوں کو اعزاز سے دفناتے ہیں۔ بقول احمد ندیم قاسمی
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
آمر مطلق جنرل مشرف نے استعماری طاقتوں کے دباوٴ پر خود کو اور اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے محسن پاکستان کو سنگ ہائے الزام اور تیر ہائے دشنام سے لہو لہان کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان کی آزادانہ نقل و حرکت سلب کر لی گئی تھی۔ ان پر یہ بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے بہت سے ملکوں کو ایٹمی راز بیچ کر چالیس کروڑ ڈالرز جمع کیے تھے اور بعد ازاں دبئی جا کر اس کالے دھن کو سفید کیا تھا۔ لیکن تا وقت مرگ دنیا کی کسی عدالت میں ان کے خلاف کوئی بھی جرم ثابت نہ کیا جا سکا۔
محسن و مسیحائے پاکستان کو تمغۂ حسن کارکردگی اور نشان امتیاز سمیت بے شمار اعزازات سے نوازا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ اتنی بڑی شخصیت کے لیے یہ اعزازات کچھ معنی نہیں رکھتے۔ ہماری حکومت کو انہیں کوئی ایسا منفرد اور ممتاز اعزاز دینا چاہیے تھا جو صرف انہیں کے لیے خاص ہوتا۔ جو اعزازات ڈاکٹر صاحب کو ملے ہیں ان سے ان اعزازات کی توقیر میں تو کما حقہ اضافہ ہوا ہے مگر یہ اعزازات محسن پاکستان کی شخصیت اور خدمات کے شایان نشان ہرگز نہیں۔
جسے ہم اپنا ”ازلی دشمن“ ملک کہتے ہیں اس نے تو ایٹم بم کے خالق کو ملک کا صدر بنایا اور اس کے جنازے میں ملک کا وزیراعظم بہ نفس نفیس شریک ہوا اور اسے مکمل سرکاری پروٹوکول سے دنیا سے رخصت کیا مگر ہم نے اپنے ملک کے محسن کو خود ہی مجرم بنا کر عالمی کٹہرے میں کھڑا کر دیا اور ہمارے وزیراعظم اسلام آباد میں موجود ہونے کے باوجود ڈاکٹر صاحب کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے۔ ہم بحیثیت قوم اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس قوم کا کس قدر گراں بہا اثاثہ تھے۔
زندگی تجھ سے تو اپنی کوئی قیمت نہ لگی
موت آئے گی تو کر جائے گی مہنگا ہم کو


