ایک رات کبھیکی جھیل کے دامن می
رات آدھی سے زیادہ بھیگ چکی تھی۔ اکتوبر کے سنہرے بدن سے جلا پاتی خنکی دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی۔ یہاں پر خصوصاً اور پنجاب بھر میں عموماً اکتوبر سرما کا آغاز ہی سمجھا جاتا ہے جہاں سکول کالجوں میں یونیفارم و اوقات کار بدلنے شروع ہوتے ہیں وہیں پر گھروں میں لحافوں کو دھوپ لگانے کی مہم بھی تیز ہوتی ہے۔ اور پھر ہمارے بڑے بوڑھوں کے مطابق تو اسوج پہلا پتر سیالے کا ہوتا ہے۔ اور اکتوبر میں ہی تو اسوج کا پنکھ جوبن پر ہوتا ہے۔
شبنم آسمان سے مسلسل ضوفشانی کرتی عمدہ عمارتی لکڑی کی بنی میز کرسیوں کو مدہم مدہم نمی بخش رہی تھی۔ دھیمے سروں میں راگ الاپتی نصرت کی آواز اور دور میٹھے مدہم سروں میں ہلکورے لیتا ہوا کبھیکی جھیل کا یخ بستہ ٹھنڈا پانی۔ چاروں اور دودھیا چاندنی میں مبہوت کرتا جھیل کا ماہتابی عکس اور اس میں چھن چھن کر اترتا ملکوتی حسن جس پر زرد و سفید مصنوعی روشنیوں کا امتزاج سحر انگیز تھا۔ میری نظروں کے سامنے عجیب سی بیضوی ہیئت کا بنا ہوا گلیمپنگ پوڈ تھا۔ جو میرا آج کی شب بسری کا ٹھکانہ تھا۔
میں آج رات کبھیکی جھیل کے کنارے قیام پذیر تھا۔
وادیٔ سون سے میری محبت کوئی آج کی نہیں ہے۔ میں ہمیشہ سون کی جانب کھنچا چلا آتا ہوں۔ وجہ کچھ بھی رہی ہو، سون کے بلاوے میں مجھے اپنے پرکھوں کی صدا سنائی دیتی ہے۔ اعوان چاہے کسی بھی خطے میں بستا ہو، اس کا کوئی نہ کوئی دادا بابا یہیں سے اذن ہجرت لے کر گیا ہو گا۔ میں بھی کسی نہ کسی برتے اسی سون کا پوتا پڑپوتا لگتا ہوں۔ اب کی بار بھی جیسے ہی برقی رابطوں پر سفر کرتی مصدقہ خبر ملی کہ TDCP نے کبھیکی اور کنہٹی پر مختلف ساخت کے بنے جدید گلیمپنگ پوڈز نصب کر دیے ہیں، میں بھی سائیبیرین مہاجر فلیمینگوز کی ہم رکابی کا شرف حاصل کرتا ہوا یہاں آ پہنچا۔
کبھیکی، مردوال اور دھدھڑ سے تو میں آشنا تھا ہی مگر اب کی بار منزل TDCP تھی، چنانچہ مغرب کے دھندلکوں میں بہت چوکس ہو کر بیٹھنا پڑا تاکہ پتہ چل سکے کہ کون سی پگڈنڈی، کون سی گلی منزل مقصود تک لے کر جاتی ہے مگر صدقے جائیے میزبانوں کے انداز نمود کے، برقی قمقموں کے ایک جال نے خود ہی آشکار کر دیا کہ یہی نشیب کو اترتا راستہ TDCP کا داخلی دروازہ ہے۔ سرمئی بالوں والے ایک خوش مزاج شخص نے پھولوں سے سواگت کیا تو خوش گوار حیرت ہوئی، مزید اطلاع بہم پہنچائی گئی کہ ان نئے نویلے پوڈز میں قیام کرنے والی پہلی شخصیت کا سہرا بھی میرے ہی سر سجا ہے تو خوشی دو چند ہوئی کہ چلو کسی بہانے سہی، سون کی محبت کا کوئی تو سرٹیفکیٹ ہمارے حصے میں بھی آیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شخصیت TDCPکے مینیجر معظم نذیر کی ہے، جن کے نام ”معظم میاں“ سے سماجی روابط کے ذریعے شناسائی کی باس موجود تھی، گویا انجان نگاہوں میں مانوس سی خوشبو رچی بسی تھی۔ اس شخصیت نے ابھی مزید آشکار ہونا تھا، اس کا احساس بعد میں ہوا۔ کبھیکی کا حسین منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ اور آج کی اس حسین شام جھیل کنارے دھیمے سروں میں خنک ہوتے موسمی لہجوں کو نصرت کی آوازوں سے گرماہٹ پہنچاتے میں کبھیکی کے سکون کو اپنے اندر اترتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
لاہور کے مخصوص راوی بار لہجے میں تیز تیز اونچی گفتگو کرنے والی دمساز شخصیت نے پھولوں سے تہنیت پیش کر کے دل تو پہلے ہی موہ لیا تھا کہ اس خوبصورت جگہ پر ایسا حسین امتزاج گویا کیؔٹس کا کوئی مصرعہ فیضؔ کی زباں سے عطا ہو رہا ہو۔ کبھیکی تو پہلے بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ یہ جنگل میں منگل کا سماں، لذیذ کھابے، مصنوعی روشنیاں، سائیکلنگ کا مکمل ماحول، بورڈ واک اور ان سب پر TDCP کی چھتر چھایا، یقیناً یہ ایک نئی جہت کی جانب جاری عظیم سفر کی داستاں کہہ رہی تھی۔ TDCP نے حق میزبانی ادا کر دیا تھا۔ خوش اخلاق اور اپنے دائرے سے ہٹ کر کچھ منفرد سوچ رکھنے والے لوگ کسی بھی ادارے کا سرمایہ ہوتے ہیں اور یقیناً سیاحت کے فروغ کے لیے ان کے نقوش پا استقلال و استدلال کا مظہر ہیں۔
نمکین پانیوں کی یہ خوبصورت جھیل، اچھالی جھیلوں کے مجموعے (کمپلیکس) ۔ اچھالی، کبھیکی، جاہلر۔ میں سے ایک ہے جو دنیا کی ان رامسر آب گاہوں میں شامل ہے جہاں ناپید ہونے کے خطرات سے دوچار جنگلی حیات اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ سندھ اور جہلم کے پانیوں کے درمیان کوہ جودھ کے نمکین پہاڑوں کے درمیان پیالہ نما شکل میں قدرت کے حسین نظاروں سے مرصع سوہن دھرتی وادیٔ سون سکیسر کے ماتھے کا جھومر یہ تین جھیلیں جنہیں کل ملا کر اچھالی ویٹ لینڈ کمپلیکس کا نام دیا جاتا ہے، پاکستان کی قیمتی آب گاہوں میں سے ایک ہے۔
اچھالی ویٹ لینڈز کمپلیکس کا کیچمنٹ ایریا 381 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے جبکہ تینوں جھیلوں کی مجموعی سطح قریباً 12 مربع کلومیٹر ہے۔ ان جھیلوں کے گرد 13 گاؤں موجود ہیں جہاں کی قریب قریب 70 ہزار نفوس پر مشتمل آبادی ان جھیلوں سے منسلک معیشت پر زندگی گزار رہی ہے۔ رامسر کنونشن نے ان جھیلوں کے مجموعے کو 22 مارچ 1996 ء کو بین الاقوامی اہمیت کی حامل آب گاہ یعنی رامسر سائٹ قرار دیا تھا۔
دلکش نظاروں اور کثیر النوع قسم کے آبی پرندوں کا قدرتی مسکن کبھیکی جھیل، دو گاؤں کبھیکی اور دھدھڑ کے درمیان موجود ہے جس کا کل سطحی رقبہ 1421 ایکڑ ہے اور یہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آج سے دو تین سال قبل، کبھیکی جھیل محدود ہوتے ہوتے بالکل چھوٹے آبی ذخیرے کی شکل اختیار کر گئی تھی مگر ان دو سالوں کے مون سون نے اسے پھر سے اپنی قدرتی اصلی شکل میں بحال کر دیا ہے۔ رات اپنے پنکھ پھیلائے دوسرے سے تیسرے پہر میں داخل ہو رہی تھی۔ میری نگاہوں کے سامنے حد نگاہ کبھیکی کا وسیع دامن اپنی حدیں پھیلائے گنگناتا گزر رہا تھا۔ دور پانیوں میں فلوٹنگ جیٹی پر شام غزل جاری تھی۔ کوئی لوکل فوک گلوکار شفاء اللہ خان روکھڑی اور عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کو مسلسل خراج تحسین پیش کر رہا تھا۔
میں کاغذ قلم سنبھالے واردات قلب کو مصرعوں کی صورت پرونے میں مصروف عمل تھا جبکہ پاکستان کے مشہور وائلد لائف فوٹوگرافر طارق سلمانی صاحب۔ جو آج کی ہی رات اس جھیل پر قیام پذیر تھے۔ اپنے منفرد انداز میں اس جھیل کے حسن نظارہ کو داد دینے کی منصوبہ بندی میں مشغول تھے۔ وہ اسی شام غزل کے گروپ میں شامل تھے اور رات کے آخری پہر تین بجے اچھالی جھیل پر جا کر سرمائی مہمان پرندوں۔ جنوبی ایشیاء میں فقط ان جھیلوں پر پائی جانے والی سفید سر والی مرغابی۔ اوکسوورا لیکوسی فالا۔ اور ہمارا یہاں کا مقبول ترین مہمان فلیمینگوز۔ یعنی کہ ہماری اردو زبان کا لم ڈھینگ۔ کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں مقید کر کے ان کے حسن کے فسوں کو پورے پاکستان پر مل دینا چاہ رہے تھے۔ اور وہ اپنے اس فن میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔
رات کا آخری پہر سر پر آ پہنچا تھا۔ ہمارے میزبان و سبھی مہمان کیمپوں اور گلیمپنگ پوڈز میں محو استراحت تھے جبکہ طارق سلمانی صاحب کا پورا گروپ اچھالی لم ڈھینگوں کی تلاش میں جا چکا تھا۔ کبھیکی کا پانی بھی تھک ہار کر کناروں سے سر پٹخ رہا تھا۔ موسم سرد ہو گیا تھا اور میں۔ مجھے کبھیکی کنارے کبھیکی کا غم لاحق ہو چکا تھا۔
میں اسی کبھیکی کا تازہ نوحہ لکھنے والا تھا۔
میں اس رات کبھیکی کنارے تھا اور مجھ پر کبھیکی کے دکھوں کا نزول ہو رہا تھا!



نیا اضافہ ۔ بہت خوب