تعلیم سے کھلواڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ملک کی ترقی کا راز جاننا ہو تو اس ملک کی تعلیم کے حوالے سے پالیسیوں اور فنڈ کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ آپ کے ملک میں تعلیم کو کس ترجیح پر رکھی گئی ہے۔ بلاشبہ کرونا نے پوری دنیا میں اس میدان کو متاثر کیا لیکن جب پالیسی ساز نکمے ہوں تو وہ نقصان میں ازالہ کرنے کی بجائے اسے دوگنا کر دیتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں تعلیمی ادارے بند کرنے پر وزراء قوم سے معافی مانگ رہے تھے تو ہمارے ہاں وزیر تعلیم سندھ یہ فرما رہے تھے کہ اگر ہمیں تعلیمی ادارے 5 سال بھی بند کرنے پڑے تو ہم کر دیں گے۔

ترقی یافتہ بلکہ تہذیب یافتہ ممالک عملی تعلیمی امور پر توجہ دیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں پر نمبر گیم چلتی ہے۔ بچوں کو کنسیپٹ کی بجائے رٹے پر زور کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں یہاں پر آئن سٹائن کم اور گدھے زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔ آج انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کا رزلٹ آیا تو اس پر دو گھنٹے تحقیق کے بعد ہوشربا حقائق سامنے آئے۔ قریبا 53 بچوں نے لاہور بورڈ میں 1100 / 1100 نمبر حاصل کیے جبکہ 1099 اور 1097 مارکس پر کوئی بچہ شامل نہیں ہے۔

151 بچوں نے 1098 جبکہ 193 بچوں نے 1096 نمبرز حاصل کیے۔ یہی حال باقی بورڈز کا بھی ہے۔ فیصل آباد بورڈ میں قریبا 27 جبکہ ملتان بورڈ میں قریبا 48 بچوں نے 1100 / 1100 نمبرز حاصل کیے۔ ہمارے پالیسی ساز اس قدر احمق واقع ہوئے ہیں کہ رزلٹ آج جاری کر رہے ہیں جبکہ پبلک سیکٹر اکثر یونیورسٹیز کے ایڈمیشن اب تک بند ہو چکے ہیں۔ ایک اور بات قابل غور ہے، اس دفعہ 700۔ 950 کے درمیان صرف چند بچوں نے مارکس حاصل کیے اور قریبا

5000 بچوں نے 1000 سے اوپر نمبرز حاصل کیے۔ تعجب کی بات یہ کہ اگر بورڈز کی رزلٹ پالیسی کو فالو کیا جاتا تو قریبا 20 بچوں کے 1100 سے بھی اوپر نمبرز بن رہے ہیں جب کو 1100 کر کے ایڈجسٹ کیا گیا۔ اگر کوئی مارچ 2020 سے اب تک ہمارے تعلیمی نظام اور اس پر وفاقی و صوبائی تعلیمی وزراء اور ان کی ٹیمز کی حکمت عملی کا بغور جائزہ لے تو سوائے حماقت کے کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔ پہلے بچوں کو پرموٹ کیا گیا پھر پارٹ ٹو (میٹرک، انٹر) میں پیپرز کا اعلان کر دیا گیا۔

اول سمارٹ سلیبس اور پھر اس میں بھی لازمی مضامین کے امتحان کو ختم کر دیا گیا۔ ہر وقت پیپرز سے لے کر رزلٹ تک بچوں کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا گیا۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور اپنے تعلیمی نظام کو بہتر کریں۔ تعلیم کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو ہی بورڈ میں بٹھائیں۔ ستم بالائے ستم کہ گورنر جو تمام یونیورسٹیز کا چانسلر ہوتا ہے وہ ایف اے پاس لگا دیا جاتا ہے۔ اگر ہم نے اسی طرح ٹرین گدھے ہی تیار کرنے ہیں تو براہ کرم تعلیمی بورڈز کو تالا لگا دیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments