فقط محنت


ہم تمام پچاس لوگ چپ چاپ دم سادھے بیٹھے ہوئے تھے کہ ٹریننگ کے اس کے لئے سیشن میں جن صاحب نے آنا تھا ان کے بارے ہمارے کووارڈینیٹرز ہمیں خوب ڈرا چکے تھے۔ اور شاید ایک آدھ جھلک ان کی دیکھ بھی رکھی تھی۔ بارعب شخصیت ’پاٹ دار آواز‘ گھنی سی مونچھیں ’ٹھیٹھ لاہوری لہجے کی اردو‘ یہ سب چیزیں ہمارے حواس پہ تو سوار تھیں لیکن ایک اور بم یہ پھوڑا گیا کہ ان کی نظر میں ڈسپلن کی خلاف ورزی ناقابل معافی جرم ہے۔ بس یہیں آ کے رہے سہے کانفیڈنس کی بھی واٹ لگ گئی تھی۔ کیونکہ یہ ڈسپلن کی حدود و قیود ہر کسی کی اپنی اپنی ہوتی ہیں۔ ابھی چند منٹ پہلے جو صاحب ایک بات پہ ہمارے ساتھ ہنس بول رہے تھے ’ہاسیاں کھیڈیاں کر رہے تھے عین ممکن ہے اسی اسی بات پہ کوئی اور صاحب ڈسپلن کا کلہاڑا چلا دیں۔

اس کا ایک تجربہ یونیورسٹی میں ہوا تھا۔ پتا نہیں دوسرا سال تھا کہ تیسرا لیکن یہ یاد ہے کہ سیشن کا ابھی آغاز ہی تھا۔ ایک ماسٹر تشریف لائے اور آتے ہی سوال داغ دیا کہ سائنس کیا ہے؟ بڑا بچوں نے کوشش کی کہ کوئی جواب بن پڑ جائے لیکن وہ ماسٹر ہی کیا جو مان جائے۔ کہیں پچھلے بنچوں سے آواز آئی کہ سائنس ایک آرٹ ہے۔ ارے وا اا اا اہ۔ ماسٹر صاحب کی خوشی دیدنی تھی۔ ایسی تعریف کی کہ ایک مرتبہ تو سب نے گردن گھما کے ایسے ’تھیٹے‘ شاگرد کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔

ٹریننگ ہال کا دروازہ کھلا اور وہ صاحب تیز تیز قدموں سے چلتے ڈائس پہ تشریف لائے۔ نہایت نپے تلے الفاظ میں اپنا تعارف کروایا اور ساتھ ہی لڑکوں کو اپنا ایک لائن میں تعارف کروانے کا حکم صادر فرما دیا۔ تیسرے لڑکے نے اپنے تعارف میں اپنی ڈگری کا تخصص بتانا بھی ضروری گردانا۔ بس یہیں سے وہ انگریزی مک گئی اور ایک جی دار لاہوریا برآمد ہوا۔ فرمانے لگے : کاکا جی یہاں یہ ڈگری آپ کی انٹری ٹکٹ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔

یہ سب گیٹ سے باہر چھوڑ کے آئیں۔ یہاں آپ کے لئے میدان کھلا ہے ’اپنی محنت سے اس کو فتح کیجئے‘ اپنی ہمت سے آگے ’اور آگے‘ اور اس سے بھی آگے بڑھتے جائیے۔ ایسی شاندار موٹیویشنل تقریر کی کہ اس سیشن کے بعد میں اٹھا اور سیدھا جا کے ان کے دفتر پیش ہو گیا کہ مجھے اپنی پڑھائی کے بالکل 180 ڈگری الٹ زاویے والا کورس کرنا ہے جس کا اس وقت تک پاکستان میں ایک ہی ماہر تھا۔ انہی کی شاباشی اور حوصلہ افزائی سے شروعات کا کچھ سفر طے کیا۔

اس تقریر میں ایک نقطہ یہ تھا کہ جیسے مسلمان چوبیس گھنٹوں کا مسلمان ہے ’ایسے ہی کام بھی آپ سے چوبیس گھنٹے کی‘ طارنا ’مانگتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے اور رمضان میں روزے کی حالت میں تو ہم مسلمان رہیں‘ اور مسجد سے باہر آ کر اور افطاری کے بعد ہم مسلمان نہ رہیں۔ ایسے ہی کام کرتے ہوئے محنت بھی چوبیس گھنٹے کا وقت مانگتی ہے۔ ایک بار دھیان کام کی طرف لگ جائے تو پھر ساری توانائی اور سوچوں کا محور وہی کام اور اس کی ترقی ہی ہونی چاہیے۔

اس بات سے مختلف نظریات کے باعث اختلاف ممکن ہے لیکن سیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو بھی کام کیا جائے وہ اپنی پوری استعداد ’پوری صلاحیت‘ پوری محنت اور بھرپور اعتماد سے کیا جائے۔ کسی بھی مرحلے میں تیاری سے چوک ناکامی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ مطلوبہ مہارت اور منصوبہ بندی کی پوری سعی کی جائے ’ممکن ہو تو کسی ماہر سے درپیش مسائل پہ بحث کر لیں۔ آخر میں اپنے وسائل کو دیکھتے ہوئے بہترین فیصلہ کیجئے اور پھر کامیابی کے لئے محنت کے ساتھ جت جائیے۔ جنتا غیر اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر متعلقہ لوگوں سے بات چیت بڑھائیں گے اتنا ہی حوصلہ کم ہوتا جائے گا۔ کامیابی کے لئے عملی محنت درکار ہے نہ کہ محض سینکڑوں لوگوں سے گفتنی مباحثہ

Facebook Comments HS