خیانت کا سود


موٹروے کے اس سٹاپ اوور پر ایگزیکٹو کلاس بس سے ایک لڑکی اترتی ہے۔ اس کے ساتھ بالترتیب آٹھ اور چار سال کے دو بچے ہیں۔ رات دو بجے کا وقت ہے۔ گھر سے نکلتے ہوئے، باوجود اصرار کے، ان سب نے نہ کھانا کھایا اور نہ ساتھ رکھا کہ گرم موسم میں خراب ہو گا۔

بچے بس سے اترنے کے بعد بھی پر سکون ہیں اور ماں کو کسی چیز کے لئے پریشان نہیں کر رہے۔ ماں کے اصرار کے باوجود کہ کچھ کھا لیتے ہیں۔ بھوک لگی ہو گی، دونوں نہیں مان رہے۔ آگے لمبا سفر ہے اور ماں کافی محتاط ہو رہی ہے کہ ساتھ کچھ رکھ لے تاکہ آگے کوئی پریشانی نہ ہو۔ پھر وہ بچوں کی آسانی کے مطابق کچھ خریدنے کا سوچتی ہے۔

عید کا دوسرا دن ہے اور موٹروے کے اس سٹاپ پر رات کے اس پہر بھی دن کا سماں ہے۔ بے تحاشا گاڑیاں، ان گنت لوگ، دکانوں کی چاندی ہو رہی ہے۔ اللہ نے رزق کی فراوانی اتاری ہے۔ یوں، اتنی دیر سے سفر کرنا اس لڑکی کی مجبوری ہے لیکن اتنے ہجوم میں زیادہ دیر کھڑے رہنا اسے پسند نہیں۔ اسے اپنے بچوں کو گاڑی میں واپس لے جانے کی بھی جلدی ہے۔ اس لئے وہ باربی کیو آئٹمز کو پیک کرنے کا کہتی ہے تاکہ کھانے اور مینیج کرنے میں آسانی ہو۔

بل دینے کو پیسے نکالتی ہے تو کل رقم دیکھ کے حیران ہے۔ ہر چیز عام حالات سے ڈبل پر فروخت ہو رہی ہے۔ مزید اس میں، دکاندار اور ویٹر کا جہاں داؤ لگ رہا ہے اور اس لڑکی جیسا کوئی بیوقوف نظر آ گیا ہے تو دام اور بھی زیادہ ہیں۔ عید، رات، ہجوم اور لوگوں کی مجبوری کا خوب فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ کسی بھی گاہک کے سوال کرنے، اعتراض اٹھانے اور تنقید کرنے کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جا رہا۔

لڑکی بھی چار و نا چار اپنا آرڈر پکڑتی ہے، بچوں کا ہاتھ تھامتی ہے اور دوبارہ بس میں بیٹھ جاتی ہے۔ لیکن نا چاہتے ہوئے بھی خود کو یہ کہنے سے روک نہیں پاتی کہ اے اللہ! تو نے تو ہر خوشی اور غمی کے موقع پر گاہکوں کی لائن لگا دینی ہوتی ہے، رزق کو فراخ کرنا ہوتا ہے۔ کاروبار میں برکت ڈالنی ہوتی ہے۔ لیکن یہ انسان ہے، جو لالچی ہے۔ کم ظرف ہے۔ موقع پرست ہے۔ جو سیدھے راستے سے آتے رزق کو بے ایمانی کا تڑکا لگاتا ہے۔ بزنس کی برکت کو بددیانتی اور چالاکی کا زخم دیتا ہے اور پھر نادانی میں ساری زندگی خیانت کا سود بھرتا ہے۔ کبھی معاشرے میں بے وقعت ہو کے۔ کبھی اولاد کو حرام پہ پال کے۔ کبھی نا خلف اولاد کے ہاتھوں گھاؤ کھا کے اور کبھی زوال کا منہ دیکھ کے۔

بلاشبہ انسان اپنے اعمال کے کھوٹ کی وجہ سے خسارے میں ہے اور اپنی ہر بدنیتی کا سود تا حیات ادا کرتا ہے۔

Facebook Comments HS