مستقبل ویل چیئر پر گزرنا تھا، شاید اسی لیے بڑے کام بچپن میں ہی کر لیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارم خان کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ حرام مغز کی چوٹ کا شکار ہیں۔ سوشل ورک میں ایم۔ اے کیا ہے۔ زندگی کا مشن انسانیت کی خدمت ہے۔ ڈی۔ سی ویلفیئر کی وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ فطرت کے قریب رہنا پسند کرتی ہیں۔ پودوں کے پاس بیٹھنا، پرندوں سے باتیں کرنا پسند کرتی ہیں۔

ارم کے والد صاحب کا انتقال آٹھ ماہ قبل ہوا، ریٹائرڈ انجینئر تھے۔ جبکہ والدہ صاحبہ چودہ سال قبل خالق حقیقی سے جا ملیں۔ خاندان تین بہنوں اور ایک بھائی پر مشتمل ہے۔ بھائی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ ارم کے علاوہ سب شادی شدہ اور خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ارم کا بچپن نہایت شاندار گزارا۔ والدہ صاحبہ بہترین دوست تھیں۔ جو کام کرتیں ارم فوراً سیکھ لیتیں۔ کم عمری میں سلائی کڑھائی، کھانا پکانا، گھر کی دیکھ بھال سارے کام سیکھ لیے تھے۔ گاؤں کے لوگ بڑے حیران تھے کہ ارم اتنی کم عمری میں بڑوں والے کام کیسے کر لیتی ہیں۔ ارم کہتی ہیں کہ انھوں نے بقیہ زندگی میں آرام کرنا تھا شاید اسی لیے خدا نے بہت سے کام کم عمری میں ہی سکھا دیے۔

ارم نے ابتدائی تعلیم گھر کے قریبی سکول سے حاصل کی۔ اچھے نمبروں سے میٹرک پاس کرنے کے بعد کالج میں داخلہ لے لیا۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ حادثے کے دن بارش ہو رہی تھی۔ روڈ پر کام ہو رہا تھا۔ ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ تھی۔ روڈ کے اطراف میں پتھر پڑے ہوئے تھے۔ موٹر سائیکل پر سوار ارم موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ اچانک موٹر سائیکل پھسلا اور ارم موٹر سائیکل سے گر پڑیں۔ ارم کی گردن پتھر سے جا ٹکرائی۔ چوٹ کچھ ایسی لگی کہ خون نکلا اور نہ ہی فریکچر ہوا۔

ارم کا جسم جیسے مفلوج سا ہو گیا۔ حادثے سے کچھ عرصہ قبل والدہ صاحبہ کی وفات ہوئی تھی۔ ارم کہتی ہیں کہ اگر حادثہ والدہ صاحبہ کی زندگی میں ہوتا تو شاید وہ اسے برداشت ہی نہ کر پاتیں۔ مقامی ڈاکٹرز اور گھر والوں کا خیال تھا کہ شاید ارم کو والدہ کی وفات کا شدید صدمہ پہنچا ہے شاید اسی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہیں۔ ایک ڈیڑھ سال تک ارم کو ڈپریشن کی دوائیاں دی جاتی رہیں۔ پھر کسی نے لاہور لے جانے کا مشورہ دیا۔ مختلف ٹیسٹ کیے گئے جن کی رپورٹس تسلی بخش تھی۔ ایم۔ آر۔ آئی سے پتہ چلا کہ حرام مغز مہروں میں دبنے کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ کچھ عرصہ علاج کے بعد ڈاکٹرز نے آپریشن کا مشورہ دیا۔

مسئلہ یہ درپیش تھا کہ ارم کے ساتھ لاہور میں کون رہے گا۔ دیکھ بھال کون کرے گا۔ اس موقع پر بھابھی نے ارم کے ساتھ رہنے کی حامی بھری۔ جنھیں سات سال بعد خدا نے اولاد کی نعمت سے نوازا تھا۔ ماں جیسی بھابھی نومولود بچے کو چھوڑ کر ارم کا آپریشن کروانے لاہور چلی آئیں اور پندرہ دن ارم کے ساتھ رہیں۔ ارم کو جب کبھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو آنکھیں نم ہو جاتیں ہیں۔

آپریشن کے بعد فزیوتھراپی اور ورزشوں کا طویل سلسلہ چلا۔ ارم زندگی سے مکمل طور پر مایوس ہو چکی تھیں۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آ رہا تھا۔ مشکل وقت میں گھر والوں، ڈاکٹرز اور کرامت نام کے خصوصی بھائی جیسے دوست نے بہت حوصلہ دلایا۔

ارم کے بھائی اور بھابھی دونوں ڈاکٹرز ہیں۔ خاندان میں بہت سے نامی گرامی ڈاکٹرز ہیں۔ علاج بھی اچھے ہسپتالوں سے ہوتا رہا۔ لیکن جو حوصلہ انھیں کرامت کی باتوں سے ملتا وہ اور کسی سے نہ ملتا۔ اس کی وجہ شاید اس لیے کہ کرامت خود بھی سپائنل انجری کا شکار تھے۔ کرامت نے ارم کو بستر سے اٹھنے اور گھر سے باہر نکلنے کے لئے موٹیویٹ کیا۔ مایوسی کا یہ دور دو سال تک یونہی چلتا رہا۔ ارم زندگی سے اتنی مایوس ہو چکی تھیں کہ انھوں نے دعا تک مانگنا چھوڑ دی تھی۔

گھر والوں کی سپورٹ سے دو سال بعد ارم نے کالج میں داخلہ لے لیا۔ کالج کی دوست اور اساتذہ کرام نے تعلیمی عمل میں بھر پور تعاون کیا۔ ارم کی خوب حوصلہ افزائی کی جاتی پیریڈ گراؤنڈ فلور پر رکھے جاتے۔ ارم کو جس کلاس میں آنے جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا والد صاحب وہاں ریمپ بنوا دیتے۔ اس طرح ارم نے کالج میں بہت سی ریمپس بنوائیں جن سے اب دوسرے خصوصی افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

ٹیچرز کہتی تھیں کہ آپ پریکٹیکلز نہیں کر سکتیں، ارم کا جواب ہوتا کہ میں ہر کام کر سکتی ہوں۔ پھر ارم نے پریٹیکلز بھی کر کے دکھائے۔ ارم اپنی محنت اور گھر والوں کی سپورٹ سے ایم۔ اے کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

سوشل میڈیا نے ارم کو اپنے جیسے بہت سے لوگوں سے رابطہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ایک روز ارم کا اپنے ہی علاقے کے نوجوان سے رابطہ ہوا۔ عثمان بھلوال شہر میں انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر کا کام کر رہے تھے اس کے ساتھ ساتھ ایک این۔ جی۔ او بھی چلا رہے تھے۔ ارم نے عثمان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ پہلی ہی ملاقات میں ارم ڈی۔ سی ویلفیئر کا حصہ بن گئیں۔

ارم سوشل میڈیا اور دوستوں کے تعاون سے اپنے علاقے کے خصوصی افراد کو تلاش کرتی ہیں۔ پھر ان کے گھر جاتی ہیں۔ خصوصی فرد اور اس کے گھر والوں کو معذوری کے حوالے سے لیکچر دیتی ہیں۔ خصوصی افراد کو معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقے سکھاتی ہیں۔ ملاقات کے دوران خصوصی فرد کی مشکلات اور ضروریات کے حوالے سے پرچہ تیار کر لیا جاتا ہے۔

جن لوگوں کو ویل چیئرز، مصنوعی اعضاء، وائٹ کین یا سننے کے آلات کی ضرورت ہو ان کی بھرپور مدد کی جاتی ہے۔ صحت مند خصوصی افراد کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔ جنھیں موٹیویشن کی ضرورت ہو انھیں تعلیم اور ہنر کے حوالے سے آگہی فراہم کی جاتی ہے اور جنھیں علاج معالجے کی ضرورت ہو انھیں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ علاج سرگودھا میں ممکن نہ ہو تو لاہور کے کسی مشہور ڈاکٹر سے ٹائم لے لیا جاتا ہے۔

اسکے علاوہ ارم مشہور ڈاکٹروں سے ٹائم لے کر بیماریوں کی آگہی کے حوالے سے سیشنز بھی منعقد کرواتی ہیں۔ خصوصی افراد کو گھر سے باہر نکالنے کے لئے مختلف شہروں اور شمالی علاقہ جات کی سیر کے ٹرپ بھی کروائے جاتے ہیں۔ ارم نے سرگودھا میں کھیلوں کے فروغ پر بھی بہت کام کیا ہے۔ خصوصی افراد میں صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کے لئے مقامی سطح پر مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی اور قومی سطح کے مقابلوں میں حصہ لینے کی بھر کوشش کی جاتی ہے۔

ارم آٹھ سالوں سے ڈی۔ سی ویلفیئر سے منسلک ہیں۔ این۔ جی۔ او کو رجسٹرڈ کروانے کی بھر پور کوشش کر چکی ہیں۔ لیکن ہر مرتبہ مزید کام کا کہ ٹال دیا جاتا ہے۔

ارم نے اپنا آفس ڈاکٹر احمد حسن کے ہاسپٹل میں بنا رکھا ہے۔ ڈاکٹر احمد حسن نہ صرف خصوصی مریضوں کا مفت علاج معالجہ کرتے ہیں بلکہ اپن بیٹی سعدیہ کے ساتھ مل کر ڈی۔ سی ویلفیئر کی اخلاقی اور مالی معاونت بھی کرتے ہیں۔

ارم فطرت کے قریب رہنا پسند کرتی ہیں۔ گھر میں رنگ برنگے پودے اور پرندے پال رکھے ہیں۔ فارغ اوقات میں پودوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ پرندوں سے باتیں کرتی ہیں۔

ارم مستقبل میں جدید طرز کا بحالی سینٹر قائم کرنا چاہتی ہیں۔ جہاں خصوصی افراد کو تعلیم اور ہنر کے ساتھ ساتھ رہائش کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ارم اپنی ساری جائیداد ویلفیئر کے نام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔

ارم نے سرگودھا کے سابقہ ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مل کر شہر کی تمام سرکاری عمارتوں میں ریمپس بنوانے کا کام شروع کیا تھا۔ کام تیزی سے جاری تھا۔ کرونا وبا اور ڈپٹی کمشنر صاحب کے تبادلے کی وجہ سے معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ ارم کہتی ہیں کہ خصوصی افراد کی زندگی میں اس وقت تک بڑی تبدیلی نہیں آ سکتی جب تک حکومت خصوصی افراد کے مسائل میں سنجیدگی ظاہر نہیں کرے گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments