اب تو ماں بننا بھی گناہ ٹھہرا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ماں اپنی ہو یا پرائی، وہ لاکھ عزت و احترام کی مستحق ہے۔ جیسے ہی ہمارے معاشرے میں جنسی تفاوت شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، ہمارے زبان کی گندگی خواتین سے تجاوز کر کے ان ماؤں تک آ پہنچی ہے، جن کے پاؤں تلے جنت ہے، جن کا خدا کے بعد سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ ماں کی اہمیت و عظمت کو ایک مضمون میں بیان کرنا قطعی طور پر ممکن نہیں، پر حال ہی میں ایسی باتیں رونما ہوئی ہیں کے، سوچ کر شرمساری ہوتی ہے۔ ہم بدقسمتی سے تمام تر اپنی حدود پار کر چکے ہیں، جو ایک انسان کو دوسرے کی عزت کرنا سکھاتی ہے۔

محترم بینظیر بھٹو شہید کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو کی ماں بننے کی خوشخبری جوں ہی آئے، تو اس میں خلل ڈالنے کے لیے کچھ لوگ بداخلاقی پر اتر آئے۔ ایک عورت کو پہلی دفع ماں بننے پر مبارکباد دینے کے بجائے، سوشل میڈیا پہ کچھ آوارہ لوگوں نے یہ سوالات کھڑے کر دیے کہ، بختاور بھٹو کا بیٹا آٹھویں مہینے کیوں پیدا ہوا ہے، جس پہ ایک لمبی بحث چل پڑی، اور اس کی شادی کی تاریخ اور تصویریں نکال کر شیئر کی گئیں۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کے بچہ پہلے پیدا کیوں ہوا؟

بچے تو ساتویں مہینے بھی پیدا ہو جاتے ہیں، اور وہ بڑے ہو کر صحتمند زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ایک عورت کو ماں بننے کی مبارکباد دینے کے بجائے، یہ فالتو اور دل دکھانے والے سوال کرنا ہمارے معاشرے کا بڑا المیہ ہے۔ عورت کہیں کی بھی ہو، ہم اسے بخشتے نہیں، اور اسے ہر طرح سے یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کے، اس کا عورت بننا ہی بڑا گناہ ہے۔ بہت سا کیچر اچھالنے کے بعد بختاور صاحبہ نے وضاحتی طور پر ٹویٹ کیا کہ اس کا بچہ ڈاکٹروں کے مطابق اگلے مہینے نومبر میں پیدا ہونے والا تھا، پر خدا کے حکم سے وہ رواں ماہ اکتوبر میں ہی پیدا ہو گیا، وہ ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہے، اور اس کی طبیعت بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہے۔

بچے کی پیدائش پہ جب بھٹو خاندان خوشیاں منا رہا تھا، چیئرمین پیپلز پارٹی پارٹی بلاول بھٹو نے ماموں، اور آصفہ بھٹو نے خالہ بننے کی خوشخبری بانٹی، تو ان خوشیوں میں شریک ہونے کے بجائے، کچھ کم ظرف لوگوں نے جو ایک عورت کو ماں بننے پر کوسا، تو بڑا ہی دکھ ہوا کہ اب بھی ہم خواتین کو وہ عزت اور مقام دے نہیں پائے جس کی وہ مستحق ہیں۔ کچھ روز قبل ہی، جب پی ٹی آئی سندھ کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی دوسری بیوی دعا بھٹو کی ماں بننے کی خبر آئے، تو بھی بہت گالم گلوچ کیا گیا، اور اس عورت یعنی دعا بھٹو کو بھی نہ بخشا گیا جو پہلی دفع ماں بنی ہے۔

کیا اب ماں بننا بھی جرم ہو گیا ہے کہ کسی سیاسی عورت، سیلیبرٹی کی ماں بننے کی خبر ہمارے لیے خوش آئند نہیں ہوتی، پر سوالوں کی بوچھاڑ شروع کردی جاتی ہے کہ وہ آخر ماں کیوں بنی، کون سے ماہ سے وہ حمل سے ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ کیا ایک عورت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ہر کسی کو اپنی ماں بننے کی صفائیاں پیش کرتی رہے؟ یہ عورت دشمن بحث تب بھی ہوئی تھی، جب محترم بینظیر بھٹو اپنے پہلے حکومتی ادوار میں ماں بنی اور اس نے بلاول بھٹو کو جنم دیا تھا۔

ہم سمجھے کہ وہ وقت اور تھا، اب کافی چیزیں بدل چکی ہیں، لوگوں میں شعور آ چکا ہے تو ایسی گھناؤنی باتیں نہیں کی جائیں گی۔ پر سالوں گزرنے کے بعد بھی ہماری ذہنی کیفیت اس قدر معذور ہے، جو معذوری اب لاعلاج بن چکی ہے۔ ہمارے ہاتھوں میں ٹی وی ریموٹ کی جگہ ٹچ موبائل آ گئے ہیں، ہم سوشل میڈیا کے توصل سے اپنی آواز دنیا تک پہنچا سکتے ہیں، پر وہ علم و آگاہی نہیں آئی جس کی ہمیں شدت سے ضرورت ہے۔ اس کی ایک اور مثال دیتی چلوں کے مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز کو بھی تب بہت کوسا گیا، جب وہ نانی بنی تھی۔

نانی نانی کہہ کر مختلف ٹرینڈز چلائے گئے، اور ایسا جاہلانہ رویہ اختیار کیا گیا جیسے نانی بننا گناہ ہو۔ مریم نواز نے خود آ کر کہا کہ مجھے نانی بننے پر فخر ہے، میں خوش ہوں کہ میری بیٹی نے اپنے اولاد کو جنم دیا ہے۔ ہم اسلام مذہب کے پیروکار، قرآن و حدیث کو ماننے والے، اگر ایک ماں کا احترام نہیں کرتے تو مسلمان کہلانے کا بھی کوئی حق نہیں رکھتے۔ مذہب اسلام میں خواتین کا مقام بہت اونچا ہے اور ایک ماں کا مقام تو اتنا اونچا ہے کہ اس کے پاؤں تلے جنت رکھ دی گئی ہے اور ماں کو ناراض کرنا اللہ تعالی کو ناراض کرنے کے مترادف ہے۔

ایسے میں ہمارے یہ مشترکہ سماجی رویے اس انتہاپسندی کو مدعو کر رہے ہیں، جس میں عورت کو ایک انسان تک نہیں سمجھا جاتا۔ ہم برے بھلے کی تمیز بھول کر، خواتین کو اتنا ہراساں کرنا چاہ رہے ہیں کہ وہ کچھ اچھا کرے، تو بھی شرمندہ ہو۔ خدارا ہمیں اپنے سماجی رویوں پہ سنجیدگی سے غور کر کے تبدیل کرنا ہوں گے۔ مرد اور عورت دونوں کی موجودگی اور برابری سے ہی ایک صحتمند معاشرہ تکمیل پاتا ہے۔ عورت ماں بننے کے بعد اس دنیا کی مقدس ہستی بن جاتی ہے، اگر ہم اس کے لیے بی تکی باتیں کرتے رہیں گے، گالم گلوچ کی زبان اپنائیں گے تو ہماری اپنی ماں کا احترام کون کرے گا جس نے ہمیں جنم دے کر نازوں سے پال کر بڑا کیا ہے اور ہمیں بے حد پیاری ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments