تم سے مجھے اختلاف ہے ، میں تمھیں انفرینڈ کرتا ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک دلخراش سلسلہ اپنی آنکھوں سے وقوع ہوتے دیکھا جس نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ دلخراش واقعہ کچھ یوں تھا کہ

ایک دوست نے فیس بک پوسٹ کی جس پر اس نے اپنا تجربہ ایک برادری کے ساتھ پوسٹ کر دیا، بظاہر غصہ آنے والی بات تھی مگر پوسٹ کے انداز اور الفاظ کے چناؤ نے اس پوسٹ کو انفرادی کے بجائے اجتماعی جانب موڑ دیا۔ یعنی ایک انسان کی غلطی تھی مگر الفاظ کے غلط استعمال کی وجہ سے ایسا محسوس ہوا کہ اس برادری کے سب لوگ نشانہ بن رہے ہیں۔

پوسٹ ہو گئی اور پھر کمینٹس پر مزید معاملات بگڑتے چلے گئے۔ جو بات بہت آسانی سے ہو سکتی تھی وہ بات الجھتی گئی۔ ایک طرف ہٹ دھرمی تھی تو دوسری جانب سختی، غلطی کرنے والا غلطی کو مان نہیں رہا تھا اور اس کو احساس دلانے والے احساس دلانے کے لئے کمر بستہ تھے۔ بات اتنی بڑھ گئی کہ اپنی اپنی آئی ڈی کی وال پر پوسٹ کی گئی اور پھر بات انفرینڈ کرنے تک پہنچ گئی۔ بہت اچھا تعلق صرف 3 سطروں کی تحریر سے ختم ہو گیا۔

ایک پوسٹ نے سالوں کی دوستی ختم کرا دی۔ یہ ہی نہیں صاحب پوسٹ سے کئی افراد کی دوستی ختم ہوئی اور کچھ دوستوں کے دل میں کجی اتر آئی اور انھوں نے اس بابت آپس میں رابطہ کر کے اس متعلقہ پوسٹ کو لے کر اپنی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے صاحب پوسٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مستقبل کے لئے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

میں نے اس سلسلے میں ایک با ادب دوست سے پوچھا تو وہ کہتے ہیں کہ دوستی کا مطلب باہمی احترام ہے، دوست سے آپ کا نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دوست کی بے عزتی کریں یا دوست کے مسلک، دین، مذہب کو لے کر طعنہ ماریں۔ خونی رشتوں میں مجبوریاں آڑے آجاتی ہے اور احترام بھی اسی وجہ سے ہوتا ہے۔ لیکن دوستی آپ خود کرتے ہیں بغیر مجبوری کے، کیونکہ اس رشتے میں ایک ذہنی ہم آہنگی اور احترام درمیان میں ہوتا ہے۔

اس واقعے کے علاوہ بھی بہت سے ایسے معاملات سوشل میڈیا پر وقوع پذیر ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی دوستیاں ٹوٹ گئی ہے۔ کچھ احباب مزاح اور مذاق اڑانے میں فرق ہی نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے معاملات خراب ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی کچھ سوشل میڈیا پر اکثر اوقات دیکھنے کو ملتا ہے۔ اکثر اوقات غلط فہمیاں بھی ہوجاتی ہیں جو بڑھ کر ایک دوسرے کے خلاف الزامات میں بدل جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر اوقات کمینٹس پر دوستوں میں لڑائیاں ہوتی دیکھی ہیں، جس میں دونوں طرف سے معاملہ اتنا سنگین نہیں ہوتا مگر الفاظ کے چناؤ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سامنے والے نے غلط الفاظ استعمال کیے ہوں۔ لیکن کمینٹس میں اظہار نہیں ہوتا صرف الفاظ ہوتے ہیں اس وجہ سے سامنے والے کو اندازہ نہیں ہوتا کہ کمینٹ کرنے والے کا لہجہ کیا ہے مگر لکھے گئے الفاظ کو سامنے والے شخص منفی انداز میں سمجھتا ہے جس کی وجہ سے معاملات بڑھتے ہیں اور پھر اچھا تعلق ٹوٹنے کے در پر آ جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے والوں سے یہ ہی درخواست ہے کہ اختلاف کی بنیاد پر دوستیاں نہ چھوڑیں۔ کمینٹس کرتے وقت ادب و احترام پر مبنی الفاظ استعمال کیجئے اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے دوست نے کچھ غلط پوسٹ کیا ہے تو کمینٹ کے بجائے انباکس جاکر اچھے لفظوں میں اس کو سمجھائے، ممکن ہے وہ بات سمجھ جائے اور اپنی بے عزتی بھی محسوس نہ کریں۔ کوشش کیجئے کہ سوشل میڈیا کے پوسٹ کی بنیاد پر دوستیاں ختم نہ کریں اور اپنے اندر برداشت اور روا داری پیدا کریں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments