پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے ) کیا ہے؟ کچھ اعتراضات
گزشتہ کچھ روز سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نامی بل کو لے کر بحث ہو رہی ہے، اس حوالے سے صحافیوں نے ملک بھر میں اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس بل میں ایسی کون سی شقیں موجود ہیں جس کی بنیاد پر میڈیا انڈسٹری کی تمام نمائندہ تنظیموں اور ایسوسی ایشنز نے اس بل کو نہ صرف مسترد کیا ہے بلکہ اسے کالا قانون بھی قرار دیا ہے۔
یوں تو حکومت کی طرف سے ابھی تک اس بل کا مسودہ سامنے نہیں آیا ہے بلکہ اس حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اطلاعات و نشریات کے بارے میں قائمہ کمیٹیوں کے ارکان نے بھی حکومت سے اس بل کو پیش کرنے سے متعلق متعدد بار مطالبہ کیا ہے لیکن ابھی تک وزارت اطلاعات و نشریات کے حکام یہ کہہ کر بات ٹال دیتے ہیں کہ ابھی اس بل پر مشاورت جاری ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ حکومت نے ملک میں ذرائع ابلاغ کے لیے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے ) کے نام سے ایک ریگولیٹر بنانے کی تجویز دی ہے، جس میں میڈیا اداروں اور صحافیوں کے حوالے سے سخت قوانین تجویز کیے گئے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے والے 7 قوانین موجود ہیں، سوشل میڈیا کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، پریس کا انتظام پریس کونسل کے پاس ہے، الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا دیکھتا ہے، لیبر ریگولیشنز پر عمل درآمد کو ٹریبونل برائے اخبارات ملازمین (آئی ٹی این ای) دیکھتا ہے جبکہ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی) اخبار کی رجسٹریشن کے امور پر نظر رکھتا ہے۔
حال ہی میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے واضح طور پر کہا تھا کہ تمام قوانین کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی جگہ ایک اتھارٹی یعنی پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے ) لے سکے۔
حکومت کی تجویز کے مطابق پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی ملک میں پرنٹ، براڈکاسٹ اور ڈیجیٹل میڈیا ریگولیشن کی مکمل طور پر ذمہ دار ہوگی۔
اس مجوزہ قانون کے مندرجات میں صحافتی تنظیموں کو جن شقوں پر اعتراض ہے ان میں ایک یہ ہے کہ تمام اختیارات اس اتھارٹی میں شامل 12 افراد کے پاس ہوں گے اور اس اتھارٹی کا چیئرمین گریڈ اکیس یا بائیس کا سرکاری افسر ہو گا جس کا انتخاب صدر مملکت کریں گے جبکہ اس اتھارٹی میں ہر صوبے کا ایک ایک نمائندہ ہو گا جس کا انتخاب بھی صدر وفاقی حکومت کی سفارشات کی روشنی میں کریں گے۔ اس کے علاوہ اس کمیٹی میں سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری اطلاعات بھی ہوں گے۔
پی ایم ڈی اے کے تحت وفاقی حکومت ریگولیٹر اتھارٹی کو کوئی بھی ہدایت جاری کر سکتا ہے جس پر اتھارٹی من و عن عمل درآمد کرانے کی پابند ہوگی یعنی اس کمیٹی کو حکومت کی طرف سے جو ٹاسک دیا جائے گا وہ اس کو پورا کرنے کی پابند ہوگی۔
حکومت کی جانب سے تجویز کردہ اس اتھارٹی میں سب سے زیادہ متنازع سمجھی جانے والی شق غلط خبر کے نشر ہونے پر جرمانے اور سزا کی تجویز ہے۔ حکومت کی جانب سے غلط خبر نشر ہونے پر صحافتی ادارے پر 25 کروڑ جبکہ صحافی پر ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید تک سزا دینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
یہ کمیٹی جو ٹربیونل بنائے گی وہ ٹربیونل 21 روز میں فیصلے کا پابند ہو گا اور وہ جو بھی فیصلہ کرے گا اس پر اگر کسی کو اعتراض ہوا تو وہ اس کو صرف سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکے گا، یعنی اگر کسی خبر کو ”فیک نیوز“ قرار دیا گیا اور کسی صحافی یا صحافتی ادارے کو جرمانے کی سزا سنائی گئی تو اس فیصلے کو چیلنج صرف سپریم کورٹ میں ہی کیا جا سکے گا۔
اس اتھارٹی پر وجہ تنقید بننے والی دوسری بڑی شق ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے ہے، جس میں ڈیجیٹل میڈیا کو رجسٹر کرنے یا این او سی حاصل کرنا ضروری قرار دینے کی تجویز ہے۔
اس اتھارٹی کے تحت کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک مدت کے لیے کام کرنے سے روکنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ یہاں اس بات کا خیال رہے کہ حکومت اس شق کا استعمال کرتے ہوئے کئی میڈیا چینلز پر پابندی لگا سکتی ہے اور یوں ایک سیاہ دور کا آغاز ہو جائے گا۔
آخر میں، اس اتھارٹی کے تحت ریاست کے سربراہ، مسلح افواج کے سربراہ کے علاوہ قانون ساز اداروں کی بدنامی کا باعث بننے والے مواد نشر کرنے پر پابندی ہوگی۔
یہ تھی اس بل کی متنازع سمجھی جانے والی شقیں جو حکومتی ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔ اس بل کو لے کر کئی سوالات جنم لیتے ہیں جنہیں ہر فورم پر اٹھانا چاہیے تاکہ حکومت کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھا سکے جس سے میڈیا کی آزادی کو جبری طور پر دبا دیا جائے۔
سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اس بات کی تعریف کون کرے گا کہ کون سی خبر ریاست یا مسلح افواج کے سربراہ کے خلاف ہے اور کون سی نہیں؟ کیونکہ ہم میڈیا میں رہتے ہوئے ایک لفظ سے بہت آشنا ہیں : ”نیشنل انٹرسٹ یعنی قومی مفاد“ ہدایات کے مطابق کوئی بھی خبر نیشنل انٹرسٹ کے خلاف نہیں ہونی چاہیے، لیکن ستم یہ ہے کہ آج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ نیشنل انٹرسٹ کی تعریف کیا ہے۔ لہذا، اگر ریاست کا سربراہ بدترین کرپشن میں ملوث ہے تو کیا اس کی کرپشن پر خبر شائع کرنا جرم ہو گا اور اس پر سزائیں بھی دی جائیں گی؟
دوسرا یہ کہ فیک نیوز کی تعریف کون کرے گا؟ بہت سی خبریں ایسی ہوتی ہیں جو کسی صحافی یا ادارے کے پاس ایکسکلیوزیو ہوتی ہیں جو اسے مختلف ذرائع سے ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ذرائع سے چلائی جانے والی خبر حکومت کو پسند نہ آئے اور اسے فیک نیوز بھی قرار دیدیا جائے جس کے نتیجے میں صحافی 3 سال کی جیل کاٹ ہی رہا ہو کہ اسی دورانیے میں مذکورہ خبر سچ ثابت ہو جائے تو ایسے میں صحافی کا کیریر تباہ کرنے کی ذمہ داری کس شخص پر عائد ہوگی؟ کیونکہ بیشتر خبریں ایسی ہوتی ہیں جس کی تصدیق کئی مدت بعد سامنے آتی ہے جبکہ انہی خبروں کو کئی صحافی پہلے ہی اپنے ذرائع سے چلا دیتے ہیں۔ اس شق کا سادہ سادہ مطلب یہ ہوا کہ اس بل کو جواز بنا کر صحافیوں کو فیک نیوز کی آڑ میں خبر دینے سے روکا جائے گا۔
جہاں تک بات ڈیجیٹل میڈیا کو رجسٹر کرنے کی ہے تو یہاں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یوٹیوب پر بنائے جانے والے تمام چینلز کو یوٹیوب باقاعدہ مانیٹر کر رہا ہے، یوٹیوب کی ہدایات کی پوری لسٹ موجود ہے، اگر یوٹیوب کی پالیسی سے کوئی بھی مواد متصادم ہو تو یوٹیوب اسے فوری طور پر ہٹا دیتا ہے اور اگر پالیسی کے خلاف بار بار مواد اپلوڈ کیا جائے تو چینل مخصوص مدت کے لئے بند بھی ہوجاتا ہے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا حکومت پاکستان کی طرف سے بنائی جانے والی ہدایات کو یوٹیوب اپنائے گا اور اسے پاکستانی صارفین پر لاگو کرے گا۔
فرض کر لیں، اگر یوٹیوب ایسا کر لیتا ہے اور مخصوص ویڈیو کو پاکستانی صارفین کے لئے ہٹا بھی دیا جاتا ہے تو کیا اسے باقی دنیا کے صارفین نہیں دیکھ سکیں گے؟ تو اس کا سادہ جواب ہے بالکل دیکھ سکیں گے۔ دوسرا یہ کہ اگر حکومت پاکستان کو لگتا ہے کہ کچھ افراد پاکستانی ریاست کے خلاف یوٹیوب پر پراپیگنڈا کر رہے ہیں اور انہیں لگام دینے کی ضرورت ہے تو حکومت پاکستان کو یہ جان لینا چاہیے کہ ان افراد میں سے بیشتر بیرون ملک سے یوٹیوب چینلز چلا رہے ہیں، انہیں تو اس قانون سے کوئی فرق ہی نہیں پڑے گا۔
یہ تھے وہ تمام اعتراضات جو اس قانون کو لے کر اٹھائے جانے چاہئیں، اب دیکھنا ہو گا کہ کیا حکومت اس کالے قانون کو نافذ کرتی ہے یا نہیں، ویسے ایک بات تو واضح ہے کہ اگر یہ قانون نافذ کر دیا گیا تو پاکستانی میڈیا کی تاریخ میں عمران خان کو سنہری الفاظ میں یاد نہیں رکھا جائے گا۔

