جسم فروشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”عدالت کا کمرہ شہر کے لوگوں سے بھر چکا تھا۔ کچھ ہی دیر میں جج صاحب فیصلہ سنانے والے تھے۔ یہ مقدمہ ایک شہری نے جسم فروش خواتین کے خلاف دائر کیا تھا۔ الزام یہ لگایا گیا تھا کہ ان جسم فروش خواتین کی وجہ سے علاقے کی بدنامی ہو رہی ہے اور جرائم بڑھ رہے ہیں۔ اس علاقے کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ان پیشہ کرنے والی خواتین کی وجہ سے ان کے بچوں پر برا اثر پڑتا ہے لہذا عدالت ان خواتین کو علاقہ بدر کر دے۔

دوسری طرف پیشہ کرنے والی عورتوں کا کہنا تھا کہ ہم اسی معاشرے کی پیداوار ہیں۔ کوئی بھی عورت اپنی خوشی سے یہ پیشہ اختیار نہیں کرتی اور ہم مجبوری کی حالت میں یہ کام کرتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ ہم کسی کو ایذا نہیں پہنچاتے، نہ ملاوٹ کرتے ہیں، نہ جعلی دوائیاں بناتے ہیں اور نہ ہی کسی غریب کی زمین پر قبضہ کرتے ہیں لہذا ہمیں یہی رہنے دیا جائے۔ ہم اپنے بچوں کے ساتھ کہاں جائیں گے۔ ہمارا کوئی دوسرا ٹھکانہ بھی نہیں۔

جج صاحب کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی اور سب لوگ فیصلے کے منتظر تھے۔ جج نے بولنا شروع کیا ”دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ان پیشہ کرنے والی خواتین کو سات دن کے اندر علاقہ چھوڑنا ہو گا اور یہ خواتین پھر کبھی یہاں کا رخ نہ کریں۔“

ان خواتین پہ جیسے قیامت آ گئی ہو۔ بغیر کسی اسباب کے کہاں جائیں گے۔ تمام پیشہ کرنے والی عورتیں ان ہی سوچوں میں گم تھیں کہ ایک عورت نے کہا یہاں سے دو گھنٹے دور ایک ویران سا علاقہ ہے۔ وہاں کوئی نہیں آتا جاتا اور ہمیں سستے داموں میں گھر بھی کرائے پر مل جائے گا۔ سب عورتوں نے مل کر سامان باندھا اور اس علاقے کی طرف روانہ ہو گئی۔

وہاں پہنچ کر ان عورتوں نے ایک کھنڈر شدہ عمارت میں سب کمرے لے لئے۔ عمارت کو رنگ کرایا اور کچھ بلب لگائے اور اس طرح کے کچھ اور اضافی کام کیے ۔ عمارت کا اب نقشہ ہی بدل گیا تھا۔ اسی عمارت کے قریب ایک بزرگ کی قبر تھی۔ وہاں گندگی کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور وہاں کتے لوٹتے تھے۔ ایک جسم فروش خاتون سے یہ دیکھا نہ گیا اور اس نے خاکروب سے اچھی طرح قبر کی صفائی کروائی۔ کتبہ لگایا گیا اور مستقل بنیادوں پر اس قبر کی صفائی کا ذمہ کچھ پیسوں کے عوض اس خاکروب کے حوالے کر دیا گیا۔ جو گاہک آتے، وہ اس قبر پر بھی فاتحہ پڑھ لیتے۔

کسی نے محسوس کیا کہ لوگ بزرگ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں کیوں نہ یہاں ایک پھولوں کی دکان کھول لی جائے۔ اس نے پھولوں کی دکان کھولی اور خوب چل نکلی۔ ادھر ان خواتین کا بھی کام بہتر ہو رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس علاقے میں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہوتی چلی گئی۔ پھر مٹھائی کی دکان کھلی، ریسٹورنٹ، حجام، کریانہ غرض ہر طرح کی ضرورت کا سامان یہاں ملنے اور خوب بکنے لگا۔

کچھ ہی سالوں بعد بزرگ کی قبر بھی اب مزار میں تبدیل ہو چکی تھی اور سالانہ عرس ہونے لگا تھا۔ ان خواتین کا کاروبار بھی خوب چل رہا تھا۔ ایک پورا نیا شہر آباد ہو گیا تھا۔ اسکول، پولیس اور عدالتیں سب کھل چکے تھے۔ اچانک ایک دن ایک شہری عدالت میں درخواست دائر کرتا ہے کہ پیشہ کرنے والی ان عورتوں کو شہر بدر کر دیا جائے۔ ان کی وجہ سے ہمارے علاقے کی بدنامی ہو رہی ہے ”

پس نوشت: یہ تحریر اردو کے ایک بہت ہی مشہور افسانہ نگار کے افسانے سے ماخوذ ہے اور اس کا خلاصہ ہے۔ افسانہ نگار کا نام ذہن سے نکل گیا۔ بہت معذرت۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments