ایک درسگاہ یا ایک مافیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دینی چاہیے لیکن کچھ ادارے ایسے ہیں جو مزدوروں کے استحصال میں سر فہرست ہیں جو اپنی ٹیم کو دیہاڑی دار مزدور کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ اس بد سلوکی کی شاندار مثال جامعہ لاہور لیڈز ہے جو تعلیم کے نام پہ لوگوں کا بالخصوص اساتذہ کا خون چوسنے میں نمبر ون ہے۔ مظلوم ٹیچرز کو پانچ پانچ ماہ تنخواہ نہیں دی جاتی تا کہ وہ اس خیراتی ادارے کو مفت میں اپنی سروسز دیں اور اس کی ترقی کی راہ میں اپنی کاوشیں بغیر کسی معاوضے کے پیش کریں۔

اور اگر کسی ٹیچر نے انتظامین کو اپنی دکھ بھری داستان سنانے کی جسارت کی کہ اس کی بیٹی کا دودھ بند ہو گیا کیونکہ دودھ والے کو دینے کے پیسے نہیں تھے یا پھر اس کے بچے عید کے دن کسی معجزے کے انتظار میں بیٹھے رہے کی شاید ان کے باپ کو تنخواہ مل جائے اور وہ کچھ کھانے کو لے آئے۔ یا پھر کسی ماں نے یہ کہا کہ میرے پاس تو زیور بھی نہیں بچا اب کہ جس کو بیچ کے میں اپنے بچوں کا بوجھ اٹھا سکوں اور وہ اکاؤنٹس آفس جاتی ہے یہ پوچھنے کہ آخر کب تک اس کو اپنے بچوں کو جھوٹی تسلی سے بہلانا ہے؟ تو ایسی گستاخی کے عوض اس کو تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کو بلوا کے یا تو معافی نامے لکھوائے جاتے ہیں یا پھر استعفی دینے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔ تو ایسی اجارہ داری کو کیا کہا جائے؟ لیکن اپنی یونیورسٹی کی جھوٹی تشہیر کے لیے ان کے پاس بہت پیسہ ہے۔

Join Leads to excel

کس چیز میں مہارت؟ لوٹ مار میں؟ دھوکا دہی میں؟ لوگوں کی حق تلفی میں؟ یا پھر لوگوں کی زندگیوں میں اجارہ داری میں مہارت؟

اساتذہ کا مقام کسی بھی معاشرے کی ترقی کا پیش خیمہ ہوتا ہے لیکن جہاں پہ اساتذہ کو بھکاری کا درجہ دیا جائے اس قوم کی ترقی ایک بہت بڑا سوال ہے۔ کتنے معزز طریقے سے ایک چارٹر ہولڈر یونیورسٹی اساتذہ کا مذاق اڑنے میں سر گرم ہے۔ مزید حیرت یہ ہے کہ ریاست اسلامی اس تضحیک سے بے خبر ہے۔ ایک وہ دور تھا جہاں اساتذہ کے جوتے اٹھانے کے لیے لڑا جاتا تھا اور آج کے دور میں طلبا قرض حسنہ کی پیش کش کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے ٹیچرز کو پانچ پانچ  پیسے نہیں ملتے جو ان کے اپنے ہیں جو انہوں نے کمائے ہیں۔ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ان پیسوں کا مطالبہ بھی جرم ٹھہرایا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے بھی یہ صورتحال ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی درسگاہوں سے دور رکھیں جہاں اپنوں کا استحصال کرنا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ موضوع انسانی حقوق کے علمبرداروں کی توجہ بھی چاہتا ہے۔ یہ تعلیم کی بھاگ دوڑ کن غنڈوں کے ہاتھ میں ہے؟ ایسے مافیا کو کیوں چارٹر دیا جاتا ہے ایسے معزز شعبے کا اگر وہ لوگ اہل ہی نہیں؟ ریاست اسلامی کے حکمران سے گزارش ہے کہ یہ معاملہ آپ کی توجہ کا منتظر بھی ہے۔ براہ کرم اس پہ نظر کرم کریں۔ ایسی یونیورسٹی چارٹر ہولڈر ہونے کی مستحق نہیں ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments