قدیم منٹو، جدید معاشرہ
جب حقیقت کو حقیقی رنگ کی چاشنی کے ساتھ خیال پرست معاشرے کے سامنے پیش کیا جائے تو ہر سمت سے مخالفت کا طوفان کھڑے ہو جانا غیر معمولی بات نہیں۔ یہ معاشرے کا قدیم اصول اور بے حس پتلوں کا فطرتی رویہ ہے۔ ایسا ہی ہوا سعادت حسن منٹو کے ساتھ جب انہوں نے بے باکی سے یہ کہتے ہوئے، کہ میں سوچتا ہوں اگر بندر سے انسان بن کر ہم اتنی قیامتیں ڈھا سکتے ہیں، اس قدر فتنے برپا کر سکتے ہیں تو واپس بندر بن کر ہم خدا معلوم کیا کچھ کر سکتے ہیں، معاشرے کی حقیقی تصویر معاشرے کے سامنے رکھی تو مخالفت کا طوفان ساون کی بارش کی طرح چاروں اطراف سے امڈ آیا۔
حقیقت کو عیاں کرنے کی دیر تھی کہ سعادت حسن منٹو کو عدالت کے اس کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا جو چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا کہ منٹو نے حقیقت کو بیان کرنے کا جو جرم کیا ہے اس کی سزا نیکی کے لبادے میں چھپے ہوئے ان مادہ پرستوں کو دی جائے جو اپنی اصلیت کو چھپانے کی خاطر کفر کے فتوے جاری کر رہے ہیں۔ منٹو نے کہا تھا اگر آپ کو میرے افسانے پڑھ کر فحش نگاری کا گماں ہوتا ہے تو معاشرے کا جائزہ لیں، اگر معاشرہ اس بات کی گواہی دیتا ہے جو میں نے بیان کی تو مجھ پر الزام لگانے کی گنجائش نہیں بچتی۔
آج جب میں نے منٹو کے افسانہ ٹھنڈا گوشت اور جدید معاشرے کا تقابلی جائزہ لیا تو آنکھیں تر اور لب پر گویا قفل لگ گیا ہو۔ اگر میں بات بیان کروں جدید معاشرے کی تو یہ دور ترقی وہی تصویر پیش کرتا نظر آتا ہے جو ہمیں منٹو کے افسانوں میں ملتی ہے۔ منٹو کا افسانہ ٹھنڈا گوشت اگر مردہ لڑکی کے ساتھ کی گئی جنسی زیادتی پر مبنی ہے تو موجودہ معاشرہ چیخ چیخ کر یہ بیان کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ تم بات کرتے ہو مردہ لڑکی کی یہاں تو وہ لڑکی بھی محفوظ نہیں جس کو دفن کر دیا گیا ہو۔
ٹھنڈا گوشت جس وقت تحریر کے مراحل سے گزر رہا تھا تب جنگ کا ماحول تھا۔ افراتفری کے عالم میں مردہ لڑکی کا جنسی شکار بننا، ہو سکتا ہے کیونکہ جنگ میں کسی کو یہ خبر نہیں رہتی کہ جس کو وہ اٹھا رہا ہے وہ مردہ ہے یا زندہ۔ مگر موجودہ دور میں جب رات کی تاریکی میں لڑکی کی قبر کھود کر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تو جنگ تو دور کی بات معمولی جھڑپ تک نہ تھی۔ اس ساری بحث کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی پر بھی الزام لگانے سے پہلے تحقیق کر لینی چاہیے۔ آخر میں میں اتنا ہی کہوں گا کہ چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر۔


