فطرت اور محبت کے رازوں کا متلاشی سائنسدان: البرٹ آئن سٹائن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


تعارف

بیسویں صدی کی پہلی تین دہائیوں میں جس سائنسدان نے اپنے نظریات سے ساری دنیا کو حیران و ششدر کر دیا ان کا نام البرٹ آئن سٹائن تھا۔

آئن سٹائن نے سائنس کی اس عمارت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں جو عمارت نیوٹن کے قوانین حرکت اور کشش ثقل پر استوار تھی۔ آئن سٹائن نے اپنے نظریہ اضافت سے ہمیں اپنے ارد گرد پھیلی کائنات کو نئے انداز سے دیکھنے اور سمجھنے کی دعوت دی۔ انہوں نے ہمیں وقت ’توانائی اور روشنی کے راز ہائے سربستہ سے متعارف کروایا۔ اسے لیے انہیں نوبل کمیٹی نے 1922 کے فزکس کا نوبل انعام سے نوازا۔

آئن سٹائن کا بچپن اور نوجوانی

البرٹ آئن سٹائن 1879 میں جرمنی کے شہر ULM کے ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ علیحدہ بات کہ جوان ہو کر وہ نہ تو خود کو جرمن سمجھتے تھے نہ یہودی۔

آئن سٹائن ابھی ایک سال کے ہی تھے کہ ان کا خاندان میونخ منتقل ہو گیا جہاں ان کے والد اور چچا نے بجلی بنانے کی کمپنی کھولی۔

آئن سٹائن بچپن میں بالکل خاموش رہتے تھے۔ کسی کی بات کا جواب نہ دیتے تھے۔ بعض بزرگوں کو تو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ وہ کہیں ذہنی عارضہ آٹزم AUTISM کا شکار نہ ہوں۔ لیکن جب انہوں نے بولنا شروع کیا تو پورے جملے بولنے لگے۔ جب وہ ذرا اور بڑے ہوئے اور کسی نے رک رک کر بات کرنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں پہلے سوال پر غور کرتا ہوں پھر جواب دیتا ہوں۔

آئن سٹائن کے والدین یہودی تھے لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک کیتھولک سکول بھیجا جہاں انہوں نے تین سال تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے لوٹپوڈ جمنیزیم میں داخلہ لیا۔ ان دنوں انہیں بالکل خبر نہ تھی کہ ایک دن اس تعلیمی ادارے کا نام البرٹ آئن سٹائن جمنیزیم رکھ دیا جائے گا۔

آئن سٹائن زمانہ طالب علمی میں ان اساتذہ سے بہت ناخوش رہتے تھے جو انہیں مسائل سمجھنے کی بجائے رٹا لگانے کا مشورہ دیتے تھے۔ آئن سٹائن ساری عمر اساتذہ کے غیر جمہوری اور غیر منطقی اختیار و اقتدار پر سخت تنقید کرتے رہے۔ وہ اساتذہ اور طلبا کے درمیان دوستانہ رشتے کے حامی تھے۔

آئن سٹائن جب پندرہ برس کے تھے تو ان کے والدین کاروبار میں ناکامی کی وجہ سے اٹلی چلے گئے لیکن آئن سٹائن اپنی تعلیم مکمل کرنے کی خاطر میونخ میں ہی رہ گئے۔

سولہ برس کی عمر میں البرٹ آئن سٹائن اعلیٰ تعلیم کی خاطر سوٹزرلینڈ چلے گئے۔ وہاں وہ ایک پروفیسر ونٹیلر کے ہاں رہنے لگے۔ پروفیسر ونٹیلر آئن سٹائن سے بڑی شفقت سے پیش آتے۔ اس پروفیسر کی ایک جوان بیٹی میری ونٹیلر تھی وہ بھی آئن سٹائن کی طرح زیورک پولی ٹیکنک میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور ایک استاد بننا چاہتی تھی۔ پہلے مری اور آئن سٹائن کی دوستی ہوئی اور پھر وہ اس کی زلف کے اسیر ہو گئے۔ آئن سٹائن نوجوانی سے ہی عاشق مزاج واقع ہوئے تھے۔ وہ مہ رخوں اور مہ جبینوں میں بہت ہردلعزیز تھے۔ آئن سٹائن اور مری کے تعلقات چاند کی طرح وقت کے ساتھ گھٹتے بڑھتے رہے۔

زیورک پولیٹیکنک کے ریاضی کے جس شعبے می آئن سٹائن تعلیم حاصل کر رہے تھے اس شعبے میں پانچ مرد اور ایک عورت تھی جس کا نام MILEVA MARIC تھا۔ آئن سٹائن نے ملیوا سے بھی دوستی کر لی اور محبت کی پینگیں بڑھانے لگے ملیوا بھی آئن سٹائن کی ذہانت اور شخصیت سے بہت متاثر ہوئی اور تھوڑی ہی دیر میں۔ دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔

اکیس برس کی عمر میں آئن سٹائن نے 1900 میں تعلیم مکمل کی اور ایک استاد بننے کا فیصلہ کیا۔ ان کے لیے ملازمت کرنا اس لیے بھی اہم تھا کہ وہ اپنے خاندان کی مالی امداد کرنا چاہتے تھے۔ بدقسمتی سے انہیں ایک سال تک کسی نے کوئی ملازمت نہ دی اور وہ بہت دلبرداشتہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے کئی پروفیسروں سے بھی مدد مانگی لیکن وہ بھی خاطر خواہ مدد نہ کر سکے۔ ملازمت نہ ملنے کی ایک وجہ ان کی شہریت تھی۔ آخر آئن سٹائن نے جرمنی کی شہریت چھوڑ کر 1901 میں سوٹزرلینڈ کی شہریت اختیار کر لی اس کے بعد ان کے لیے برن شہر کے فیڈرل آفس میں اسسٹنٹ ایگزامنر کی ملازمت حاصل کرنے میں آسانی ہوئی۔ آئن سٹائن اس ادارے کے ساتھ سات سال تک منسلک رہے۔

اس ملازمت کے دوران آئن سٹائن نے برن شہر کے چند ذہین و زیرک نوجوانوں سے دوستی کی جن کے ساتھ مل کر وہ ادب فلسفہ اور سائنس کے مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال اور تحقیقی اور تنقیدی مکالمہ کرتے۔ ان دوستوں نے اپنے گروہ کو THE OLYMPIA ACADEMYکا نام دے رکھا تھا۔ سب دوست آئن سٹائن کے اپارٹمنٹ میں ملتے تھے اور انہیں اپنے گروہ کا صدر مانتے تھے۔

یہ وہی دور تھا جب آئن سٹائن نے اپنے ادبی اور نظریاتی دوستوں سے ساتھ مل کر جان سٹوارٹ مل ’ڈیوڈ ہیوم اور سپنوزا جیسے فلسفیوں کی کتابیں پڑھیں۔ سپنوزا کا تعلق فلسفے کی اس روایت سے تھا جو یہ کہتے ہیں کہ خدا کائنات سے علیحدہ کوئی ہستی نہیں بلکہ ساری کائنات ہی خدا ہے۔ ALL THAT EXISTS IS GOD۔ یہ فلسفہ روایتی مذہبی لوگوں کے ہمہ از اوست کے عقیدے کی نسبت سنتوں سادھوؤں اور صوفیوں کی روایت ہمہ اوست کے زیادہ قریب ہے۔

آئن سٹائن کو فلسفے کے ساتھ ساتھ موسیقی کا بھی بہت شوق تھا۔ ان کی والدہ نے انہیں بچپن میں ہی وائلن سکھایا تھا۔ میونخ میں آئن سٹائن نے نیا دوست میشیل بیسو بنایا اور اس کے موسیقی کے گروپ میں وائلن بجا کر شمولیت کی۔

آئن سٹائن کے رومانوی تضادات

آئن سٹائن جہاں فلسفے اور موسیقی کے دلدادہ تھے وہیں وہ ملیوا مارک سے بھی محبت کے جذبات کا اظہار کر رہے تھے۔ ملیوا کا تعلق ہنگری سے تھا اور وہ آئن سٹائن سے تین سال بڑی تھیں۔ ملیوا نے جب اپنی تعلیم مکمل کی تو وہ بہتر تعلیم کی خاطر ہیڈلبرگ یونیورسٹی منتقل ہو گئیں۔

جغرافیائی فاصلوں کے باوجود آئن سٹائن اور ملیوا میں جذباتی قربتیں بڑھتی گئیں۔ وہ ایک دوسرے کو طویل محبت نامے لکھتے۔ اس دوران آئن سٹائن کئی اور مہ جبینوں کے حسن کے گرویدہ و دلدادہ بھی ہوئے اور کئی مختصر محبتیں بھی کیں لیکن ملیوا سے محبت دیرپا تھی۔ آخر آئن سٹائن نے ملیوا کو دعوت دی کہ وہ زیورک آ جائیں اور ملیوا نے آئن سٹائن کی محبت کی شدت کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔

ملیوا ایک چھوٹے قد کی قدرے نحیف و ناتواں عورت تھیں۔ آئن سٹائن ان کی ذہانت اور قابلیت کے بہت دلدادہ تھے لیکن انہیں ایک خاندانی تضاد کا اس وقت سامنا کرنا پڑا جب ان کی والدہ پولین کی ملاقات ملیوا سے ہوئی۔ آئن سٹائن کی والدہ کو ملیوا ایک آنکھ نہ بھائیں اور وہ ان کے خلاف ہو گئیں۔

آئن سٹائن کی دوسری محبوبہ ملیوا سے ملنے سے پہلے وہ آئن سٹائن کی پہلی محبوبہ مری سے مل چکی تھیں جو پروفیسر ونٹلر کی بیٹی تھیں۔ آئن سٹائن کی والدہ کی نگاہ میں ان کی پہلی محبوبہ مری ان کی دوسری محبوبہ ملیوا سے نہ صرف زیادہ خوبصورت تھی بلکہ ایک اعلیٰ خاندان کی بیٹی بھی تھی۔ پولین نے اپنے بیٹے سے کہا کہ ملیوا کو چھوڑ دو کیونکہ اس میں نسوانی حسن کا فقدان ہے وہ ایک پرکشش عورت سے کہیں زیادہ ایک سپاٹ سی کتاب دکھائی دیتی ہے۔

آئن سٹائن اپنی والدہ کی عزت کرتے تھے لیکن وہ اپنی رومانوی فیصلوں میں خود مختار اور بے نیاز رہنا چاہتے تھے۔ آئن سٹائن کی والدہ کی ملیوا کے بارے میں نفرت اور کدورت کا پڑھ کر مجھے فریدڑک نیٹشے کی بہن یاد آ گئیں جو نیٹشے کی محبوبہ لو سیلوم سے اتنی نفرت کرتی تھیں کہ انہیں حرافہ اور قطامہ کہہ کر نیٹشے کو ان سے بددل کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں۔

جب ملیوا زیورک آ گئیں تو آئن سٹائن نے اپنے والدہ کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے ملیوا کے ساتھ شادی کے بغیر رہناشروع کر دیا۔ تھوڑے ہی عرصے کے بعد ملیوا نے آئن سٹائن کو بتایا کہ وہ حاملہ ہو گئی ہے۔ وہ حمل پورے خاندان کے لیے ایک بحران کا پیش خیمہ ہوا۔ ملیوا اور اس کے والدین کی خواہش تھی کہ ان کی شادی ہو جائے۔ آئن سٹائن بھی شادی کرنے کے لیے راضی تھے لیکن ان کی والدہ نے خاندان میں وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ آئن سٹائن بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اپنی مرضی کے باوجود ملیوا سے شادی نہ کر سکے۔

جنوری 1902 میں ملیوا کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام لیزرل رکھا گیا۔ چونکہ ملیوا اور آئن سٹائن کی شادی نہ ہوئی تھی اور ان کی بیٹی love child تھی اس لیے لیزرل کی پیدائش کو صیغہ راز میں رکھا گیا۔ آئن سٹائن اور ملیوا کے دوستوں نے بڑی اپنائیت سے لیزرل کو گود لے لیا اور اس راز کو راز ہی رہنے دیا۔ یہ آئن سٹائن کی زندگی کا وہ راز تھا جو ان کی موت کے نصف صدی بعد 1980 کی دہائی میں منظر عام پر آیا۔

بدقسمتی سے 1903 میں لیزرل بیمار ہو کر فوت ہو گئی۔ آئن سٹائن کو بیٹی کی موت کا دکھ ہوا اور یہ بھی احساس ہوا کہ انہوں نے اپنی والدہ کے ناراض ہونے اور ہنگامہ کھڑا کرنے کی وجہ سے ملیوا سے شادی نہ کی تھی۔ اس احساس ندامت کے بعد انہوں نے ملیوا سے دوبارہ راہ و رسم بڑھائے اور 1903 میں باقاعدہ شادی کر لی۔ اس شادی کے بعد آئن سٹائن اور ملیوا کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ہینز البرٹ رکھا گیا۔

ملیوا نے آئن سٹائن سے شادی تو کر لی لیکن انہیں آئن سٹائن کی عاشق مزاجی کا بالکل اندازہ نہ تھا۔ انہیں بالکل خبر نہ تھی کہ آئن سٹائن جس محفل میں جاتے ہیں وہاں نجانے کتنی پری چہرہ حسینائیں ان کی شیدائی ہوجاتی ہیں اور وہ بھی ان کی زلفوں کی خوشبو کو اپنے دل میں بسا لیتے ہیں۔ جب ملیوا کو آئن سٹائن کے یوسف ثانی ہونے اور بہت سی زلیخاؤں کے انگلی کاٹنے کی خبر ملی تو وہ حسد کی آگ میں جلنے لگیں۔ انہوں نے آئن سٹائن کو زلیخاؤں سے دور رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

آئن سٹائن کی محبتوں میں ایک اہم محبت اپنی کزن سے تھی جس کا نام ایلسا لوونتھال تھا۔

ایک طرف آئن سٹائن اپنی بیوی ملیوا کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے اور دوسری طرف ایلسا سے خط و کتابت کر رہے تھے۔ اسی دوران ملیوا نے آئن سٹائن کو خبر دی کہ وہ ایک دفعہ پھر حاملہ ہو گئی ہے۔ اس حمل کا نتیجہ ایک اور بیٹا تھا جس کا نام ایڈورڈ تھا جو 1910 میں پیدا ہوا۔ اس بیٹے کو ساری عمر بہت سے نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

ملیوا کے حسد کی آگ میں جلنے کے بعد ان کی آئن سٹائن سے شادی روز بروز رو بہ زوال ہوتی گئی۔

آخر آئن سٹائن نے ملیوا کو طلاق دے دی۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ملیوا کو طلاق دینے وقت آئن سٹائن نے زیورک کی عدالت میں اقرار کیا کہ وہ شادی کے باہر دوسری عورتوں سے رومانوی تعلقات اور adultery میں ملوث رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ آئن سٹائن کی ملیوا سے طلاق ویلنٹائنز ڈے 14 فروری 1919 کو ہوئی۔ طلاق کے وقت ملیوا نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئن سٹائن سے وعدہ کروا لیا اور قانونی طور پر لکھوا لیا کہ اگر انہیں مستقبل میں کبھی بھی فزکس کا نوبل انعام ملا تو وہ اس کی رقم ملیوا کو دے دیں گے۔ اور پھر چند سال بعد ایسا ہی ہوا۔

میلوا سے طلاق کے کچھ عرصہ بعد آئن سٹائن نے 1919 میں ہی اپنی کزن ایلسا سے دوسری شادی کر لی۔ دوسری شادی کے بعد انہیں اپنی پہلی محبت مری بہت یاد آئیں اور انہوں نے مری کو ایک محبت نامہ لکھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ جدائی کی راکھ کے نیچے ابھی بھی الفت کی چند چنگاریاں باقی ہیں۔

آئن سٹائن کی دوسری بیوی ایلسا نے ان کے ساتھ 1933 میں امریکہ ہجرت کی۔ ایلسا کو 1935 میں دل اور گردے کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور وہ 1936 میں فوت ہو گئیں۔

2006 میں جب آئن سٹائن کے نجی خطوط منظر عام پر آئے تو ان کے چاہنے والے پرستاروں کو ان کی رومانوی زندگی کی تفاصیل کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے ان خطوط میں اپنے رومانوی سچ کا اعتراف کیا تھا کہ کہ ایلسا سے شادی کے دوران ان کے جن خواتین سے رومانوی تعلقات تھے ان میں

ان کی سیکرٹری بے ٹی نیومین۔ جو ان کے قریبی دوست ہینس مہسم کی بیٹی تھیں
مارگریٹ لیبیچ۔ جو آسٹریا کی تھیں
ایسٹیلا کا ٹزینیلوگن جو ایک بزنس مین کی بیٹی تھیں
ٹونی منڈیل جو ایک یہودی بیوہ تھیں
اور
ایتھیل میچانوسکی جو برلن کے اشرافیہ کا حصہ تھیں
شامل تھیں۔

ایلسا کی وفات کے بعد آئن سٹائن کا ایک مختصر مگر بھرپور عشق مارگریٹا کونین کو وا سے ہوا جو ایک روسی مخبر تھیں۔ مارگریٹا کے شوہر ایک مشہور مجسمہ ساز سیریگئی کونین کو وا تھے جنہوں نے آئن سٹائن کا مجسمہ بنایا تھا۔ وہ مجسمہ پرنسٹن یونیورسٹی کے انسٹیچیوٹ آف ایڈوانسڈ سٹڈی کے باہر ایستادہ ہے۔

آئن سٹائن کئی حوالوں سے غیر روایتی انسان تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ خواتین ان کی ذہانت اور ظرافت پر فریفتہ ہوجاتی تھیں۔ وہ جون ایلیا کے اس شعر پر ساری عمر عمل پیرا رہے

؎ رہیے کچھ دیر خوش جمالوں میں
جان پڑ جائے گی خیالوں میں

آئن سٹائن جب اپنے رومانوی واقعات کا صاف گوئی سے ذکر کرتے تھے تو انہیں یقین تھا کہ لوگ ان کی زندگی کو مذہبی اور اخلاقی نگاہ سے دیکھنے اور فتوے لگانے کی بجائے نفسیاتی اور سماجی حوالوں سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ ایک فرشتہ نہیں انسان تھے اور ہر انسان کی شخصیت کے روشن اور تاریک پہلو ہوتے ہیں۔

آئن سٹائن کی سائنسی تحقیقات

1905 کا سال آئن سٹائن کی زندگی کا ایک اہم سال تھا۔ اس ایک سال میں انہوں نے جو تحقیقی مقالے لکھے انہوں نے آئن سٹائن کی زندگی کے ساتھ ساتھ سائنس کی دنیا میں بھی انقلاب برپا کر دیا۔ آئن سٹائن کے دشوار سائنسی نظریات کو عام فہم زبان میں بیان کرنا اتنا سہل تو نہیں لیکن میں اپنے تئیں کوشش کرتا ہوں۔

آئن سٹائن نے
پہلے مقالے میں یہ بتایا کہ کسی سیال مادے میں مولیکیولز کے سائز کو کیسے ماپا جاتا ہے۔
دوسرے مقالے میں یہ واضح کیا سیال مادے میں مولیکیولز کی حرکت کو کیسے جانچا جاتا ہے۔

تیسرے مقالے میں یہ بتایا کہ روشنی چھوٹے چھوٹے پیکٹز سے مل کر بنتی ہے جو فوٹونز کہلاتے ہیں اس تحقیق نے کوانٹم فزکس کی بنیاد استوار کی

چوتھے مقالے میں وقت اور جگہ SPACE AND TIMEمیں ایک نیا رشتہ تلاش کیا

پانچویں مقالے میں مادے اور توانائی کا نیا تعلق اور وہ فارمولا دریافت کیا جو سائنس کا سب سے زیادہ مقبول فارمولا جانا جاتا ہے E=MC 2

سائنس کے ماہرین جانتے ہیں کہ 1905 میں البرٹ آئن سٹائن کے پاس وہ تمام وسائل بھی موجود نہ تھے جو اکیسویں صدی کے سائنسدانوں کو میسر ہیں۔

آئن سٹائن نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ کوئی چیز روشنی سے زیادہ تیز سفر نہیں کر سکتی اور روشنی کی رفتار 180، 000 میل فی سیکنڈ ہے۔ اس رفتار سے جو روشنی دور کے ستاروں سے ہمارے پاس زمین تک پہنچتی ہے اسے کئی منٹ لگ جاتے ہیں۔

آئن سٹائن کے مقالے چھپنے کے بعد وہ سائنس کی دنیا کی ایک اہم شخصیت بن گئے اور اپریل 1911 میں انہیں پراگ کی ایک معزز یونیورسٹی میں سائنس کے پروفیسر کی ملازمت مل گئی۔ 1914 میں آئن سٹائن دوبارہ جرمنی لوٹے اور فزکس کے کیسر ولیم انسٹیچیوٹ اور برلن کی ہمبولٹ یونیورسٹی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے۔

اکیسویں صدی کے پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر سہیل زبیری جو ان دنوں ایک امریکی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اپنے مقالے نیوٹن ’آئن سٹائن اور ہاکنگ۔ میں رقم طراز ہیں

’آئن سٹائن نے اپنی تحقیق سے ہمیں بتایا کہ مادہ جو صدیوں سے ناقابل تسخیر و تخریب سمجھا جاتا تھا توانائی میں بدلا جا سکتا ہے۔ مادے کے چھوٹے سے ذرے کی تخریب سے ایک ایٹم بم جتنی توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

آئن سٹائن نے 1905 میں
THEORY OF SPECIAL RELATIVITY اور
1915 میں THEORY OF GENERAL RELATIVITY

پیش کی۔ اس نظریے میں انہوں نے ہمارا وقت اور جگہ SPACE AND TIMEکے نئے تعلق سے تعارف کروایا۔ اس تصور نے نیوٹن کے نظریات اور حرکت کے قوانین کو چیلنج کیا۔

اب سائنسدانوں کے سامنے آئن سٹائن اور نیوٹن کے دو نظریات تھے جو ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ ان دو عظیم سائنسدانوں کے نظریات میں جو تضاد تھا اسے ایک تیسرے سائنسدان نے حل کیا۔

مئی 1919 میں برطانوی سائنسدان آرتھر ایڈنگٹن افریقہ کے قریب ایک جزیرے پر نسپے پر گئے تا کہ وہ سورج گرہن کا مشاہدہ مطالعہ اور تجزیہ کر سکیں اور یہ جان سکیں کہ ستاروں کی روشنی سورج کے قریب سے گزرنے سے کتنی مڑتی ہے۔

اس تجربے سے ثابت ہو سکتا تھا کہ نیوٹن اور آئن سٹائن میں سے کس سائنسدان کا نظریہ درست ہے۔
جب ایڈنگٹن نے نتائج کا اعلان کیا تو نیوٹن کا نظریہ غلط اور آئن سٹائن کا نظریہ صحیح ثابت ہوا۔
اس تجربے کے نتائج کے اعلان کے بعد آئن سٹائن بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدان بن گئے۔ ’
ایٓڈنگٹن کے نتائج کے بعد لندن ٹائنمز نے سر ورق پر شہ سرخی لگائی
REVOLUTION IN SCIENCE…NEW THEORY OF THE UNIVERSE…NEWTONIAN IDEAS OVERTHROWN
اس شہرت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب انہیں 1922 میں فزکس کا نوبل انعام ملا۔

آئن سٹائن کو سائنسی دنیا میں جتنی زیادہ کامیابی ملی خاندانی زندگی میں اتنی ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1920 کی دہائی میں ان کے بیٹے ایڈورڈ نے خود کشی کی کوشش کی اور پھر سکزوفرینیا کی ذہنی بیماری کی تشخیص کے بعد وہ ایک پاگل خانے میں داخل کرا دیے گئے۔

آئن سٹائن جب 1933 میں امریکہ کا سفر کر رہے تھے تو انہیں پتہ چلا کہ جرمنی میں ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف ظلم و ستم کا آغاز شروع کر دیا ہے۔ اس خبر کے بعد آئن سٹائن نے امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور چند سال بعد 1940 میں امریکہ کی شہریت بھی حاصل کر لی۔

آئن سٹائن کی جن اہم اور ہر دلعزیز ہستیوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں فلسفی برٹنڈرسل کے علاوہ اداکار چارلی چپلن بھی تھے کیونکہ آئن سٹائن کو سائنس کے ساتھ ساتھ موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ میں بھی گہری دلچسپی تھی۔ انہیں موسیقی کا اتنا شوق تھا کہ ایک دفعہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر میں سائنسدان نہ ہوتا تو موسیقار ہوتا۔ آئن سٹائن کی ہندوستانی شاعر اور دانشور رابندرا ناتھ ٹیگور سے بھی ملاقات ہوئی اور ان دونوں نے ادب اور موسیقی پر تبادلہ خیال کیا۔

وفات

آئن سٹائن کی وفات اپریل 1955 میں ہوئی۔ ان کی لاش کو ان کی وصیت کے مطابق جلا دیا گیا اور اس راکھ کو بکھیر دیا گیا تا کہ ان کی قبر پر لوگ پھول نچھاور کرنے نہ آئیں۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ان کی لاش کو جلانے سے پہلے کو رونر اور طبیب قانونی تھامس ہاروی نے ان کا دماغ رکھ لیا تا کہ سائنس کی تحقیق میں کام آ سکے۔

فطرت اور محبت کے رازداں

آئن سٹائن بیسویں صدی کے سب سے زیادہ مشہور اور ہر دلعزیز سائنسدان تھے۔ وہ سائنسی زندگی میں جتنا کامیاب رہے اتنے رومانی اور خاندانی زندگی میں کامیاب نہ رہے یہ علیحدہ بات کہ انہوں نے رومانی مسائل کو مسکراتے ہوئے برداشت کیا اور اپنے ہاتھ سے رگ ظرافت کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔ یہ آئن سٹائن ہی تھے جنہوں نے فرمایا تھا

YOU CANNOT BLAME GRAVITY FOR PEOPLE FALLING IN LOVE


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 480 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
8 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments