یاسر پیرزادہ، غامدی صاحب اور میں



مورخہ 13اکتوبر2021 بروز بدھ کو روزنامہ جنگ میں محترم یاسر پیر زادہ صاحب کا مضمون ”غامدی صاحب سے معذرت کے ساتھ“ شائع ہوا جس میں یاسر بھائی نے میرے اور اپنے محترم استاذ جاوید احمد غامدی صاحب کے حالیہ خطبات پر خامہ فرسائی کی اور جس خوبصورت انداز میں تنقید کی اپنی تحریر میں حنا بندی فرمائی وہ ان کے طغرے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

استاذ مکرم کی جن باتوں پر یاسر بھائی نے نقد و جرح کی وہ واقعتاً کسی ایک جریح کا ہی کام ہے اور آج کل تو مسلمانوں میں ایسے نابغہ روزگاروں کا تو ویسے ہی قحط الرجال ہے، بقول شاعر

معشوق ایسا ڈھونڈیے قحط الرجال میں
ہر بات میں اگرتا مگرتا ہوا ساہو
یاسر بھائی نے اپنی تحریر میں اسی

اگر مگر کے مصداق غامدی صاحب سے اختلاف کی جسارت کی ہے اور لکھتے ہیں کہ غامدی صاحب نے مسلمانوں میں قائم عہد کہن کی ملوکیت کا جو جواز پیش کیا وہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا موجودہ دور میں کوئی متغلب اپنے غلبے کو درست ٹھہرانے کے لیے پیش کر سکتا ہے جس کی مثال بھی کچھ یوں دی ہے ”یہ وہی دلیل ہے جو آج آمریت کے حامی جمہوریت کے خلاف دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہاں کے جاہل عوام تو بریانی کی پلیٹ کے پیچھے اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں، یہ جمہوریت کے قابل ہی نہیں“

اور اس ساری بحث سے جس نتیجے کو رقمطراز کیا وہ بھی دیکھ لیجیے۔

”اس پورے مقدمے میں اگر غامدی صاحب کا استدلال درست مان لیا جائے تو پھر اسلام میں ظالم کے خلاف مزاحمت کی کوئی گنجائش نہیں بچتی، قانون اور اخلاقیات جیسے آدرش بھی اس میں جگہ نہیں پاتے، اگر کچھ بچتا ہے تو محض طاقتور کی اطاعت کا طریقہ بچتا ہے۔ یہ مذہب کی بالکل ایک میکانکی تعبیر ہے جس میں حالات، واقعات اور تاریخ کو صرف فاسق اور جابر کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے، اس میکانکی تعبیر میں اخلاقی اور قانونی جواز تلاش کرنے کی کھیکھڑ میں نہیں پڑا جاتا۔ صاف ظاہر ہے کہ اسلام کی یہ تعبیر درست نہیں“

میں ان کی اس تنقید سے بالکل متفق ہوں لیکن انھوں نے بات ادھوری کی ہے، اگر تاریخ کو طاقتور کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو حقیقت میں ان طاقتوروں کی طاقت ان کے دھن دولت اور ذرائع پیداوار میں ہی پنہاں تھی اور آج بھی ہے تو پھر ہم مارکس کے دریافت شدہ جدلیاتی مادیت کے قانون سے کیوں انکار کرتے ہیں اور کیوں اس حقیقت کو جو بار بار خود کو آج بھی ثابت کر رہی ہے سے آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔

اگر استاد محترم کی بات درست مان بھی لی جائے کہ اس وقت انسانی شعور اس جگہ نہیں پہنچا تھا کہ امروھم شوریٰ بینھم کے اصول سے درست طور پر ریاستی معاملات کو عبارت کرسکے تو یقیناً وہ اس وقت اس چیز سے بھی قاصر تھا کہ انسانی شعور جس سے انسان اپنی تہذیب، ثقافت، اخلاقی آدرشوں اور بسا اوقات مذہبی رسم و رواج کو ارتقاء کی پگڈنڈی پر چلاتا ہے اس کے پیچھے اقتصادی یا دوسرے لفظوں میں مادی اصول کار فرما ہیں، کو بھی سمجھ سکے، جن کو مارکس نے دریافت کیا؟

اور اگر ہم مذاہب کی تاریخ کو دیکھیں تو معذرت کے ساتھ میں یہ کہوں گا کہ ہمیشہ طاقتور کو ہی پناہ دی گئی۔ اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم کو کھلے ذہن سے چیزوں کو پرکھنا ہو گا اور مارکس کے فلسفے کے سقم دور کرتے ہوئے اس کو آگے بڑھانا ہو گا، مسائل کا حل مادی سطح پر کرنا ہو گا اور خاص طور پر ریاستی اور اجتماعی معاملات کو مابعد الطبیعیاتی قضیوں سے الگ کرنا ہو گا، اگر میں پلٹ کر کہوں کہ سیکولرازم اسی انسانی شعور کی ترقی کا ہی نتیجہ ہے جو اس وقت امروھم شوریٰ بینھم کو نہ سمجھ سکا، اور اس طرح دوسری طرف تاریخ کا مطالعہ بھی مظلوم کی آہوں سے خالی نہ رہے گا۔

Facebook Comments HS