سمری بڑی چالاک ہے!
سمری آ رہی ہے، سمری جا رہی ہے۔ سمری اب ادھر سے ادھر ہو گئی ہے، سمری میں تبدیلی درکار ہے۔ یہ جملے ہیں جو کم و بیش دو ہفتوں سے اسلام آباد کی گلیوں، سوشل میڈیا کی شاہراہ پر گونج رہے ہیں، یہ سمری کس کی ہے؟ کس کے بارے میں ہے؟ اس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اگر ان کے نام آ گئے تو شاید تحریر ناقابل اشاعت بن جائے۔
لیکن یہ سمری ہے بڑی چالاک۔ اس کا تعلق عوام سے ہو تو یہ بڑی تیزی سے کام کرتی ہے، بھاگ بھاگ کر وزارتوں کے چکر لگاتی ہے۔ لیکن اس کا تعلق کسی اور سے ہو تو ڈینگی مریض کی طرح بن جاتی ہے بالکل نحیف اور لاغر۔
کھانے پینے کی اشیا، پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھانی ہوں، عوام کو بجلی کے ”جھٹکے“ لگانے ہوں۔ کسانوں پر مہنگائی کے کوڑے برسانے ہوں، غریبوں کے دن کا چین، رات کا سکون حرام کرنا ہوتو یہ سمری بہت تیزی سے کام کرتی ہے۔ اس وقت تو یہ یوسین بولٹ بن جاتی ہے۔
اب دیکھیں ایک سمری ہے جو عوام سے تعلق نہیں رکھتی، اس کا تعلق حکمرانوں سے ہے۔ یہ کہیں پہاڑوں میں گم ہے یا شمالی علاقہ جات کے جنات کلب میں اس کا کوئی علم نہیں، حالانکہ سراغ رساں کتے۔ جاسوس سبھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ سمریاں ہیں جو عوام پر قہر ڈھا گئی ہیں۔
ایک سمری وہ ہے جو بجلی مہنگا کرنے کے لئے جاری کی گئی اور وہ منظور بھی ہو گئی۔ کابینہ نے انتہائی پھرتی سے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 39 پیسے فی یونٹ اضافہ منظور کر لیا ہے۔ ملبہ سابق حکومتوں پر ڈالتے ہوئے بجلی کی قیمت خرید اور فروخت میں 2 روپے کا فرق بھی بتا دیا ہے۔
ادھر یوٹیلٹی سٹورز پر عوام کے استعمال کی تمام اشیا مہنگی کردی گئی ہیں۔ مختلف برانڈز کا گھی 15 سے 49 روپے فی کلو مہنگا ہو گیا، کوکنگ آئل کی قیمت میں 14 سے 110 روپے فی لیٹر اضافہ ہو گیا۔ کپڑے دھونے کے 2 کلو پاؤڈر کی قیمت میں بھی 10 سے 21 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے، باڈی لوشن کی 100 گرام قیمت 20 روپے تک بڑھ گئی ہے، جوتے چمکانے والی 42 ملی گرام کریم کی قیمت میں 10 روپے، کپڑوں کے لیے 500 ملی لیٹر لیکوئیڈ بلیچ کی قیمت میں 20 روپے اور ایک لیٹر ٹائلٹ کلینر کی قیمت 41 روپے تک بڑھا دی گئی۔ شیمپوز کی 180 ملی لیٹر قیمت میں 4 روپے، نہانے کے صابن کی 60 گرام قیمت میں 15 روپے، ہینڈ واش کی 228 ملی لیٹر قیمت میں 9 روپے، شربت کی 800 ملی لیٹر بوتل کی قیمت میں 40 روپے اضافہ ہو گیا۔ اچار کی 300 گرام قیمت 20 سے 44 روپے تک بڑھا دی گئی ہے۔
ٹھہریے ابھی تو ایک اور سمری وزارت پٹرولیم کے پاس پہنچی۔ اس نے تو حد ہی کردی۔ یہ بنائی تو کم پیسوں کی گئی تھی لیکن بڑھا زیادہ دیے گئے۔ وزیر اعظم نے اوگرا کی تجویز کے برعکس پٹرول تقریباً 11 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 44 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا، پٹرول ملکی تاریخ میں سب سے بلند سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مٹی کا تیل 10 روپے 95 پیسے مہنگا کیا گیا۔ لائٹ ڈیزل آئل 8 روپے 84 پیسے مہنگا کیا گیا ہے۔
ادارہ شماریات نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد پر پہنچ گئی۔ عوام کے استعمال تقریباً تمام اشیا مہنگی ہوئیں۔
واشنگٹن میں ہونے والے آئی ایم ایف سے ”نئے امدادی پیکج“ کے لئے مذاکرات بھی اپنا رنگ دکھائیں گے۔ مہنگائی کا ایک طوفان آئے گا جو عمران خان کے فلیگ شپ منصوبوں، خوابوں کو بہا لے جائے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کا یہ خواب تھا، وہ چاہتے ہر پاکستانی کو گھر ملے، وہ چاہتے تھے کہ ملک سے کچی آبادیاں ختم ہوجائیں، سب چیزیں چلتی رہیں لیکن جب میٹریل کاسٹ آئی تو یہ بڑھ گئی۔ چیزیں کنٹرول نہیں ہوئیں۔ وزیر اعظم کا یہ پراجیکٹ اب خواب نظر آتا ہے۔ وزیر اعظم کا ایک اور منصوبے ”کامیاب پاکستان پروگرام“ تھا۔ اس کی بنیاد پر عمران خان نے اگلا الیکشن لڑنا تھا۔ یہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ آئی ایم ایف اتنا بڑا پروگرام کرنے سے منع کر رہا ہے بلکہ کورا جواب دے دیا ہے۔
حکومت تیل کی قیمتوں میں اضافے کا موازنہ علاقائی ممالک سے کر کے بتاتی ہے کہ وہاں اتنے روپے اضافہ ہوا، بھارت میں اتنے روپے تیل مہنگا ہے، بنگلہ دیش یا سری لنکا میں کیا قیمت ہے؟ یہ نہیں بتاتی کہ وہاں کی حکومتوں نے اپنے عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے کیا کیا؟
اعداد و شمار کا اندازہ لگایا جائے تو جی ڈی پی میں پاکستان کا بینکنگ سیکٹر بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پیچھے ہے، کرنٹ اکاؤنٹ اور سیونگ میں بھی بہت بڑی اماؤنٹ ہونی چاہیے، سٹاک مارکیٹ کا جی ڈی پی کا 18 فیصد ہے، اس کو زیادہ ہونا چاہیے، بھارت کا 180 فیصد ہے، امریکا کا اس سے بھی زیادہ حصہ ہے۔ جی ڈی پی کی گروتھ کا رونا اپنی جگہ۔ نوکریاں دینے کے وعدے پر وزرا کہتے ہیں کہ بات ایک کروڑ سے آگے نکل چکی ہے حالانکہ زمینی حقائق یہ ہیں 20 لاکھ مزید بیروزگار ہوچکے ہیں۔
حکومت نے معیشت بچانے کے لئے شرح سود میں اضافہ کیا ہے، روپے کی قدر میں کمی آئی لیکن آئی ایم ایف اس سے قبل ٹیکس کلیکشن کی وجہ سے مطمئن نہیں تھا۔ حکومت گروتھ ریٹ کو سلو کرنے جا رہی ہے کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے۔ اس ساری صورتحال کو آئی ایم ایف بھی دیکھ رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ پاکستان منی بجٹ لے آئے۔ منی بجٹ سے انکم ٹیکس کی چھوٹ واپس لی جائے گی، تنخواہ دار طبقہ اس سے متاثر ہو گا۔ حکومت اس پر آمادہ ہو جائے گی، اس سے مہنگائی بڑھے گی۔ پاکستان کے لئے مزید مشکلات آ سکتی ہیں۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اتنے شاندار نہیں ہیں۔ پہلے ہم جب پھنس جاتے تھے تو امریکا کی آئی ایم ایف سے پروگرام لینے میں مدد حاصل ہو جاتی تھی۔


