میرے دل میرے مسافر(قلعہ دیدار سنگھ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سفر میں ایک واردات یہ ہوئی کہ بچپن اور نوجوانی کی یادیں، جنہیں وقت کی گرد نے ڈھانپ دیا تھا وہ سب قصے اور کہانیاں انگڑائیاں لیتی بیدار ہو گئیں۔ ہوا یوں کہ بچپن کے دوست نبیل نے ہمارے آبائی علاقے میں واقع اپنے فارم پر بلاوا بھیجا، اور میرے پاس گاڑی میسر نا ہونے ہونے کے بہانے کو ٹالتے ہوئے مجھے لے جانے اور چھوڑنے کی ذمہ واری بھی اپنے سر لے لی۔

بچپن کا عرصہ گجرانوالہ اور حافظ آباد کے درمیان ایک چھوٹے سے قصبے قلعہ دیدار سنگھ میں گزرا۔ سکھوں کا چھوڑا ایک بڑا سا گھر، باہری دروازے سے داخل ہوتے ایک بڑی سی ڈیوڑھی، اس سے گزر کر ایک بڑا صحن، سامنے قریب ایک صدی پرانے ستونوں پر کھڑے برآمدے اور تین جانب رہائشی کمرے۔ اس گھر میں بسے چار بھائی ان کا خاندان اور ہمارے دادا۔

گرمیوں میں سر شام صحن میں خوب چھڑکاؤ کرنے کے بعد چارپائیاں بچھ جاتی اور رات کو پنکھے یا کولر لگا کر وہیں سویا جاتا۔ شاید تب ابھی گرمی کی شدت ایسی نا تھی یا ہم اے سی وغیرہ کی لذت سے شناسا نا تھے کہ جون جولائی کے مہینوں میں بھی رات باقاعدہ کھیس اوڑھے جاتے اور کئی بار ٹھنڈک کی بنا پر صبح سے پہلے ہی کمروں میں چلے جاتے۔

گھر کے سامنے ایک بڑا سا احاطہ تھا جسے کھولا کہتے تھے۔ وہ تھا تو ہمارے گھر کا حصہ، مگر یہاں شام میں سارے محلے کے بچے جمع ہو کر بنٹے، لٹو، باڈا، کو کلا شپاکی، باندر کلا وغیرہ جیسی دیسی کھیلوں سے لطف اندوز ہوتے۔ بعد ازاں اس احاطے میں چھوٹے چچا کا مکان بن گیا تو محلے کے بچوں سے ان کا پارک چھن گیا۔

ہمارے گھر سے بائیں ہاتھ چند قدم کے فاصلے پر ایک چوراہا تھا جو بچوں کے گھومنے پھرنے کی آخری حد تھی۔ چوراہے پر آمنے سامنے بابا کھڈی اور بابا مجیدا کی کریانہ دکانیں تھیں جو سارا دن دکانداری کم اور سرحدی محافظوں کی طرح بچوں کو محلے کی حدود رکھنے کے فرائض زیادہ سر انجام دیتے۔ بابے مجیدے نے اس اہم ذمہ داری کے واسطے ایک لمبی ڈانگ رکھی ہوتی اور اپنی دکان پر بیٹھے بیٹھے اسے ایک بیریئر کی طرح استعمال کرتا۔ جہاں ہم میں سے کسی نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی وہیں ڈانگ باہر نکل آتی۔

ہمارے گھر سے دوسرے چوک پر ایک دوست ”گورائیہ جنرل سٹور“ چلاتا تھا۔ جب بھی کبھی بوتل کے ڈھکن سے انعامی سکیم شروع ہوتی وہ ایک گتے کا ڈبہ پیروں میں رکھ لیتا اور ہر رات اس امید پر ڈھکن کا اندرونی چھلکا اتارتا کہ کبھی کسی ڈھکن میں اس کی قسمت کی گاڑی پارک ہو گی۔ مگر سالہا سال ڈھکن بننے کے باوجود اسے یہی پیغام ملتا کہ دو بارا کوشش کیجیے۔

اس سے ذرا آگے ڈاکٹر لطیف والے گلے میں تایا روندو بیٹھا ہوتا جس کی کل دکان ہی ایک پیڑھی، سامنے رکھا گیا گیس کا چولہا اور اس پر دھری ایک کڑاہی تھی، جس سے نان ٹکیاں اور بیسن والے نانوں کی خوشبو سے ساری گلی مہکتی رہتی۔ سکول سے چھٹی کے بعد بچوں کی بھیڑ اس کی سب سے بڑی خریدار ہوتی۔

ہمارے بچپن کی یادداشت میں سے ایک چمکتا نام شفیق عرف شیکو کانے کا ہے۔ شیکو، قد کاٹھ میں چھوٹا مگر عمر میں ہم سے دو چار برس بڑا رہا ہو گا۔ اس نے اپنی واحد سلامت آنکھ سے ہم سے زیادہ زمانہ دیکھ رکھا تھا۔ نوے کی دہائی اور الیکشن کا زمانہ تھا، اپنی عمر یہی کوئی نو دس سال ہو گی، ایسے میں شیقو نے ہمیں چائے اور مٹھائی کی دعوت دی۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ شیقو کا بھائی ہمارے علاقے کے ایم این اے کے ڈیرے پر ملازم تھا اور نظر بچا کر ایک آدھ مٹھائی کا دانہ شیقو کے ہاتھ پر دھر دیتا۔

شیقو اب اپنے بھائی کے اونچے مرتبے کا رعب ڈالنے کے واسطے مجھے بھی ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ اب وہاں پہنچے تو لوگوں نے والد کی نسبت مجھے پہچان لیا اور بڑی عزت سے، ایک میز کرسی پر باقاعدہ چائے، مٹھائی اور سموسے کی پلیٹ سج کر آ گئی۔ شفیق نے اس آؤ بھگت کا خوب مزہ لیا اور اب ہوا یوں کہ ہر دوسرے روز منت سماجت کر کے مجھے وہاں لے جاتا اور چائے سموسے اڑائے جاتے۔ اس قصے کا ڈراپ سین یوں ہوا کہ ایک دن کسی واقف نے خبر ہمارے گھر تک پہنچا دی اور ڈھیر سی بے عزتی کروانے کے بعد ہماری اس الیکشن کمپین اور شیقو سے ملاقات پر پابندی لگا دی گئی۔

شیقو نے ہمت نہیں ہاری، ایک دن روتا دھوتا میرے پاس آیا اور بولا کہ محلے میں بارات آ رہی ہے اور اسے میری مدد درکار، پوچھا میں کیا کروں تو بولا کہ برات پر سکے لٹائے جانے ہیں، اب ایک تو اس کا قد چھوٹا تھا جس وجہ سے اس کے ہاتھ بچا کھچا سکہ ہی آتا دوسرا ایک آنکھ سے نا دیکھ سکنے کے باعث آدھا میدان اس کی آنکھ سے ویسے ہی اوجھل ہوتا۔ اب طے یہ پایا کہ میں فضائی کارروائی کروں گا یعنی اچھل اچھل کر پیسے لوٹنا اور شیقو کا اصل میدان زمین اور نالیاں تھیں جہاں وہ لوگوں کے پیروں کے نیچے اور بہتی نالیوں سے سکے نکالنے کا ماہر تھا۔

خیر بارات آ پہنچی، اشرفیاں اچھالی گئیں۔ ابھی ہم نے پہلی چھلانگ لگائی ہی تھی کہ واپس زمین پر پہنچنے سے پہلے اپنے چچا کے ہاتھوں میں آن پڑے جنہوں نے سیدھا گھر لا پٹخا۔ ایک بار پھر ڈانٹ ڈپٹ اور شیقو سے دور رہنے کی تلقین ہوئی مگر ہم کہاں سدھرتے۔ اب جانے شیقو کہاں ہو گا، بہت عرصہ ہوا سنا تھا کہ ڈونکی لگا کر کہیں یورپ جا پہنچا ہے اور چوہدری شفیق کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پانچویں کلاس میں ہاسٹل میں داخلے اور پھر کالج کے لیے لاہور منتقل ہونے کی وجہ سے قلعہ سے جو ناتا ٹوٹا تو وہ والد کی وفات کے بعد ہی جڑا۔ اب واپس آئے تو بچپنا ختم اور ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو چکا تھا۔ اب جو دوستیاں ہوئی وہ ہماری کرکٹ ٹیم بلیک ٹائیگرز کے واسطے سے ہوئی۔ ٹیم کا ۔ کپتان میرا بہترین دوست عثمان ملک تھا جو کئی سالوں سے برطانیہ منتقل ہو چکا ہے۔ نبیل بھی ٹیم کا حصہ تھا اور اس کی نسبت ڈاکٹر عثمان اور سہیل وغیرہ سے دوستی ہوئی۔

قلعہ دیدار سنگھ کی کرکٹ کی تاریخ کا ایک یادگار کردار ”گڈی“ تھا۔ اصل نام تو اب یاد نہیں مگر کھاتے پیتے گھر کا لڑکا، اچھا قد کاٹھ مگر ذہنی توازن مکمل درست نہیں تھا۔ جہاں دل کرتا اپنی منہ سے انجن کی آواز نکالتا، ٹانگوں کو چوتھے گیئر میں ڈالتا اور پوری رفتار سے بھاگنا شروع۔ بالنگ کا شیدائی، اپنی وکٹیں گیند اور بلا ساتھ رکھتا۔ اور ہائی اسکول نمبر ایک جا کر کسی بلے باز کو تلاش کرتا۔ اب ان زمانوں میں بلا تو دور کی بات ایک گیند منگوانے کو دس لڑکے پیسے ڈالتے۔

تو ہر وہ لڑکا جسے بیٹنگ کا شوق تو ہوتا، مگر کسی ٹیم میں شامل نا ہو پاتا، وہ گڈی اور اس کے گیند بلے کا انتظار کرتا۔ گڈی دور سے شعیب اختر کی طرح رن اپ لیتا اور گھنٹوں تک زناٹے دار وٹہ بال کرواتا رہتا۔ اب گیند پچ پر پڑتی یا آپ کی پسلیوں میں یہ قسمت کی بات۔ کتنے ہی بلے باز گڈی کی جارحانہ بالنگ کی زد میں آئے۔

اور وہ سجاد کی بیکری جہاں ہر رات سامنے رکھے بینچ پر دوستوں کی محفل جمتی جو قریب آدھی رات تک جاری رہتی۔ گرمیوں میں تو رات خنکی ہو جاتی اور سردیوں کی راتوں میں لکڑیوں کی آگ تاپتے راتیں لمبی کرتے۔ نبیل، عثمان ملک، ڈاکٹر عثمان، سہیل اور میری تو مستقل حاضری ہوتی باقی دوستوں کا آنا جانا لگا رہتا۔ حال ہی میں ڈاکٹر عثمان کے والد کا انتقال ہوا۔ میں ان دنوں ڈی جی خان تھا، جنازے میں شرکت نا کر پانے کا دکھ رہے گا۔

اب کی بار کا قلعہ دیدار سنگھ اس قلعے سے مختلف تھا جو میری یادوں میں بسا تھا۔ گاڑی سے اتر کر پیدل قبرستان روانہ ہوئے کہ والد، دادا اور چچاؤں کی قبر پر حاضر ہوں۔ فرلانگ بھر کے راستے میں جن گلیوں اور بازاروں سے گزرتے ہر دوسرا شخص آپ کا واقف ہوتا وہاں اس بار خال ہی کوئی شناسا چہرہ نظر آیا۔ جو ہمارے ہم عمر تھے شاید کام کاج میں لگ گئے جو جوان دکھائی دیے وہ ہم سے اور ہم ان سے ناواقف۔ جو بڑے بزرگ یاد رکھتے تھے ان میں سے کچھ دنیا سے چلے گئے کچھ گھروں کے ہو رہے۔ وہاں کی گلیوں اور بازاروں میں اب کوئی روک کر گلہ کرنے والا نہیں رہا کہ پتر چکر جلدی لائی دا اے، قبراں اڈیکدیاں نیں۔ (جاری ہے )


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments