کرہ ارض بمقابلہ انسان
اسپین کے شہر میڈرڈ میں دو دسمبر سے تیرہ دسمبر 2019 تک منعقد ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ۔ 25 میں 200 ملکوں کے مندوبین شریک ہوئے تھے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد متفقہ طور پر طے پانے والے پیرس معاہدے کے تناظر میں ایک لائحہ عمل ترتیب دینا تھا، لیکن افسوسناک حقیقت یہ رہی کہ 2015 میں ہونے والے پیرس معاہدے کے تین سال بعد ( 2019 ) میں دنیا کے صنعتی ممالک معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہے۔
رواں سال عالمی ماحولیاتی کانفرنس (کوپ۔ 26 ) 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک برطانوی علاقے اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو میں منعقد ہو نے جا رہی ہے۔ کوپ۔ 26 کے حوالے سے عالمی سائنسدان اور ماحولیاتی ماہرین ابھی سے اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس کانفرنس میں بھی عالمی پالیسی ساز ایسی پالیسیاں وضع کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے جو کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی شدت کو کم کرسکیں۔
بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC) کی جانب سے کانفرنس سے قبل 2 4 صفحات پر مشتمل ”چھٹی جائزہ رپورٹ“ کا پہلا حصہ جس کا عنوان ”کلائمیٹ چینج 2021 :دی فزیکل سائنس بیسیز“ جاری کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے ہر خطے میں موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور یہ تبدیلیاں ہر خطے کو مختلف طریقے سے متاثر کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں دنیا تمام خطوں میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات و مضمرات بیان کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں دنیا کے تمام علاقوں میں موسموں کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا جبکہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کے عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کے نتیجے میں گرمی کی شدید لہر (ہیٹ ویوز) میں مزید اضافہ ہو گا، گرمیوں کا موسم طویل اور سردیوں کا موسم مختصر ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے شہر زیادہ گرم ہو جائیں گے، زیادہ بارشوں سے سیلاب آئیں گے اور ساحلی شہروں میں سمندر کی سطح میں اضافہ ہو جائے گا۔ 21 ویں صدی کے پورے دور میں ساحلی علاقوں میں پانی کی سطح میں اضافہ جاری رہے گا جبکہ جن علاقوں میں پانی کی سطح نیچے ہے وہاں سیلاب آئیں گے۔ 100 سال میں سمندر کی سطح میں جتنی بار اضافے کے واقعات ہوئے اتنا اس صدی میں ہر سال رونما ہوا کریں گے۔
گو کہ ٹرمپ انتظامیہ کے جانے اور بائیڈن حکومت کے پیرس معاہدے میں واپسی کے مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع بھی کی جا رہی ہے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ امریکی مشیر اور اس وقت کے وزیر خارجہ جان کیری نے تاریخی پیرس معاہدے کو کامیاب بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور اس وقت بھی جان کیری کوپ۔ 26 کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن کا گرین ہاؤس گیسوں میں 52 فیصد کمی کرنے کا اعلان ہو، چینی صدر شی جی پنگ کا کوئلے کی استعمال میں کمی اور 2060 تک اپنے ملک کو کاربن فری بنانے کا ارادہ ہو یا یورپین یونین کا گرین ڈیل پیکیج ہو، یہ سب اپنی جگہ مثبت اقدامات ضرور ہیں لیکن عالمی سائنسدان، ماحولیاتی ماہرین اور دنیا معتبر ترین تحقیقی اداروں کی تحقیقی رپورٹیں بتا رہیں ہیں کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ دوسری جانب دنیا کے ترقی پذیر اور غریب ملکوں کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کے انھیں اس ضمن میں بھرپور مالی مدد فراہم کی جائے جس کا وعدہ پیرس معاہدے میں کیا گیا ہے۔
گلاسکو میں 31 اکتوبر سے 12 نومبر تک منعقد ہونے والی کوپ۔ 26 سے پہلے عالمی پالیسی سازوں پر ٹھوس اقدامات اٹھانے کے لیے دباؤ بڑھانے کے سلسلے میں مظاہروں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں خوش آئند امر یہ بھی ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے چوٹی کے مذہبی پیشواؤں نے بھی موسمیاتی و ماحولیاتی جنگ میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں پوپ فرانسس کی جانب سے روم ویٹیکن سٹی میں بلائے گئے اجلاس میں سنی، شیعہ، یہودیت، ہندومت، بدھ مت، تاؤ ازم، جین ازم اور سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے 40 چوٹی کے مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔
اس موقع پر پوپ فرانسس نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ الازہر کے گرینڈ امام شیخ احمد الطیب نے کہا کہ میں تمام نوجوانوں سے چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو ماحول کو نقصان پہنچانے والے یا موسمیاتی تبدیلی کے بحران کو بڑھانے والے کسی بھی اقدام کی خلاف لڑنے کی لیے تیار ہو ۔
مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے چوٹی کے مذہبی رہنماؤں کے اس اجلاس میں ”فیتھ اینڈ سائنس“ کے عنوان سے ایک اپیل جاری کی گئی جس میں دنیا کی حکومتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ کوپ۔ 26 کانفرنس میں ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کو پورا کرنے کا عہد کریں کیونکہ عالمی ماحولیاتی ماہرین گلوبل وارمنگ کو روکنے کے لیے اس کانفرنس ٓاخری موقعہ قرار دے رہے ہیں۔
مذہبی رہنماؤں نے عالمی پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے ساتھ امیر ممالک جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں وہ سب سے کمزور طبقات کو ”خاطر خواہ مالی مدد“ فراہم کریں۔
اپیل میں کہا گیا ہے کہ ہم کوپ۔ 26 میں جمع ہونے عالمی برادری سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ و ہماری زخمی انسانیت اور کرہ ارض جو ہمارا گھر ہے کی حفاظت اور شفا کے لیے تیز، ذمہ دارانہ اور مشترکہ اقدام اٹھائیں۔ مذہبی رہنماؤں نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ مذہب اور سائنس کو مل کر کرہ ارض کو بچانے کے لیے کام کرنا ہو گا۔
اس حوالے سے دوسری بڑی سرگرمی گزشتہ ہفتے کو یورپی یونین کے دارالحکومت برسلز میں ہوئی جہاں ہزاروں افراد نے موسمیاتی و ماحولیاتی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے مظاہرہ کیا۔ موسمیاتی و ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والی 80 تنظیموں کے اتحاد ”کلائمیٹ کولیشن“ کی جانب سے کیے جانے والے اس مظاہرے کے موقع پر برسلز میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ فری تھی۔ کوویڈ۔ 19 وبا کی وجہ سے برسلز میں طویل عرصے سے عوامی تقریبات پر پابندی تھی اس کے باوجود ہزاروں افراد نے ماحولیاتی مارچ میں حصہ لے کر عالمی پالیسی سازوں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔
اس موقعہ پر بڑی تعداد نے ماسک پہن رکھے تھے جبکہ بغیر ماسک والوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ کورونا وبا کے بعد یورپین یونین کے دارالحکومت میں ہونے والا یہ سب سے بڑا مظاہرہ تھا جس میں برسلز کے علاوہ بیلجیم کے دور دراز علاقوں کے نوجوانوں، خواتین، بچوں، بزرگوں، کسانوں اور محنت کشوں کی بہت بڑی تعداد کے علاوہ بیلجیم کے معروف سیاستدانوں نے بھی شرکت کی۔
مارچ کا آغاز برسلز کے مرکزی ریلوے اسٹیشن نارتھ برسلز سے ہوا جس کا اختتام cinquantenire پارک میں ہوا، شرکا نے انگریزی، فرانسیسی اور ڈچ زبانوں کے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ماحولیاتی تحفظ کے نعرے درج تھے۔ برسلز پولیس کے ترجمان کے مطابق شرکا کی تعداد 25 ہزار جبکہ مظاہرے کے منتظمین کے مطابق 70 ہزار تھی۔
اس موقع پر فلینڈر سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ووریوٹ کے سربراہ کو نور روسو نے کہا کہ ”آب و ہوا میں وقوع پذیر ہونے والا تغیر ایک معاشی اور سماجی مسئلہ ہے ہم سب کو اس کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا کیونکہ اس کا خمیازہ میری نسل کو ادا نہیں کرنا چاہیے“ ۔ اس موقعہ پر کلائمیٹ کولیشن کی رہنما زانا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے مربوط پالیسیاں چاہتے ہیں ”انھوں نے کہا کہ پچھلے مارچوں کے نتیجے میں کچھ پیشرفت سامنے آئیں جیسا کہ یورپین یونین کی گرین ڈیل۔
دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ہونے والے مظاہروں میں اب تک کروڑں لوگ شریک ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ موسمیاتی تبدیلی کے ایجنڈے کو انسانی حقوق کے کنونشن میں شامل کر چکی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے ملنے والی جی ایس پی پلس کی رعایت میں ملنے والی توسیع کی میں جو 6 نئے کنونشن شامل کیے گئے ہیں ان میں سے ایک ماحولیاتی تحفظ بھی ہے جسے یورپی یونین نے لازمی قرار دیا ہے۔
کوپ۔ 26 کو نتائج کے اعتبار سے ناکام نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کہہ چکے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کے تباہ کن نتائج انسانیت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، یہ عالمی بحران اب ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے۔ انسان کئی دہائیوں سے کرہ ارض کے خلاف حالت جنگ میں ہے لیکن اب سیارے نے انسان کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔


