بدترین موسمی حالات آنے والے ہیں!

اگست 2021 میں عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزرے پچاس سال میں جتنے بھی طوفان یا قدرتی آفات وقوع پذیر ہوئیں ان کی اوسط شرح کا حساب لگایا جائے تو ہر دن ایک طوفان یا قدرتی آفت رونما ہوتی ہے۔ ایک اور رپورٹ میں عالمی تنظیم کا کہنا تھا کہ زہریلی گیسوں کا اخراج جس طرح جاری ہے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے موسمیاتی تغیر

Read more

کرہ ارض بمقابلہ انسان

اسپین کے شہر میڈرڈ میں دو دسمبر سے تیرہ دسمبر 2019 تک منعقد ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ۔ 25 میں 200 ملکوں کے مندوبین شریک ہوئے تھے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد متفقہ طور پر طے پانے والے پیرس معاہدے کے تناظر میں ایک لائحہ عمل ترتیب دینا تھا، لیکن افسوسناک حقیقت یہ رہی کہ 2015 میں ہونے والے پیرس معاہدے کے تین سال بعد ( 2019 ) میں دنیا کے صنعتی ممالک معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں پر قائم نہیں رہے۔

Read more

موسمیاتی تبدیلیاں: ہماری بقا کے لیے بڑا چیلنج

دنیا بھر کے سائنس دان، ماحولیاتی ماہرین، دنیا کے معتبر ترین اداروں کی جانب سے تیار کی جانے والی سینکڑوں تحقیقی رپورٹوں میں بتایا جا چکا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہیوں سے کرہ ارض کو دوگنا زیادہ آفات و سانحات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ زہریلی گیسوں کا اخراج ہے، ان زہریلی گیسوں جنہیں گرین ہاؤس گیسز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، کے فضا میں بے پناہ

Read more

کاغذوں میں آدھا ملک جنگل

عالمی ادارے جرمن واچ کی جاری کردہ رپورٹ ”گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس 2020“ میں کہا گیا ہے کہ 1999 سے 2018 کے دوران جو ممالک موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوئے ان میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں شدید گرمی، شدید سردی، بے وقت کی شدید بارشیں، سیلاب، گلیشیر کا پگھلاؤ، لینڈ سلائیڈ ینگ کے ساتھ ملک کی ساحلی پٹی پر سمندری سطح میں ہونے والے اضافے کے بڑھتے ہوئے خطرات، غرض کہ

Read more

جزائر کی تعمیر، کراچی کی تباہی

عالمی بینک کی جاری کردہ رپورٹ ”کلائمیٹ چینج پروفائل آف پاکستان“ میں کراچی کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کے خطرناک شہروں میں پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ ملک کی 1040 کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ساحلی پٹی اور جزائر کے باسیوں کا گزرے کل سے لے کر آج تک کوئی پر سان حال تھا اور نہ ہے۔ ان باسیوں کی اکثریت ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہے، لیکن اپنی آنکھوں میں بہتر زندگی کے خواب سجائے یہ لوگ اس امید پر ہر وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ضرور ڈالتے ہیں کہ شاید ان کے حالات زندگی تبدیل ہو جائیں، لیکن ان کی زندگیوں میں تا حال کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکی۔ تا ہم، ان کی تعلیم، صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کی غالب اکثریت کی زندگیاں ضرور تبدیل ہو چکی ہیں۔

Read more