ون ویلنگ۔ موت کا سفر


ون ویلنگ کے نقصانات پر لکھتے ہوئے کئی خوبصورت چہرے انکھوں کے سامنے گردش کر رہے ہیں یہ خوبصورت نوجوان کسی ماں کے لخت جگر کسی باپ کی آن اور بہن کا مان تھے یہ گھر سے ابھی واپس آنے کا کہہ کر جانے والے دنیا فانی کے سفر روانہ ہو گئے انتظار کرتی ہوئی انکھیں پتھرا گئیں پر ان لاڈلوں کو نہ واپس انا تھا اور نہ ہی یہ آئے ایسے ہی کئی گھرانوں سے ذاتی طور پر واقف ہوں جن کے یہ پیارے ون ویلر بن کر اپنے طور پر ہیرو تو بن گئے لیکن جنہوں نے ان کو اس قابل بنایا کہ وہ ان کے ہیرو بنتے ان کو داغ مفارقت دیے گئے اس کو ان کی بے وفائی کہہ لیں یا قدرت کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کر لیں ان کے جانے کا دکھ نہ بھلانے والا ہے۔

ون ویلنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کہاں اور کیسے جان سے گئے اس کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا پولیس کے پاس کتنے ون ویلروں کا ریکارڈ ہے اس کی تفصیل بھی کئی بار منظر عام پر آ چکی ان تفصیلات کو بار بار لکھ کر کچھ حاصل ہونے والا نہیں نہ اس سے کسی کا دکھ کم ہو سکتا ہے نہ ون ویلنگ کو کنٹرول کرنے والے ادارے حرکت میں آ سکتے ہیں۔ اتنی تعداد میں ون ویلروں کی ہلاکت کے باوجود اگر حکومتی ادارے حرکت میں نہیں آئے تو صرف ان کو احساس دلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان محرکات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جس کے باعث ایک ون ویلر کا جنم ہوتا ہے جی ہاں ہر کوئی ون ویلر نہیں بن سکتا اور نہ ہی ہر کوئی ون ویلنگ کرتے ہوئے موت کے سفر کا انتخاب کر سکتا ہے۔

بعض لوگ ون ویلنگ کو ایک کھیل بھی تصور کرتے ہیں جو کہ میرے ناقص علم کے مطابق انسانیت سے ایک سنگین مذاق ہے ایک ایسا مذاق جس سے صرف ایک فرد کی جان نہیں جاتی بلکہ اس سے وابستہ تمام لوگ زندہ ہونے کے باوجود شہر خاموشاں کا منظر لگتے ہیں ایسا شہر خاموشاں جس میں بسنے والے اپنے ہیرو کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ ایک ون ویلر کیسے جنم لیتا ہے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ایک بچہ جوان ہوا اس نے موٹر سائیکل پکڑی سڑک پر پہنچا اور ون ویلنگ کرتے ہوئے کسی فٹ پاتھ درخت یا گاڑی سے ٹکرایا اور بے سدھ ہو گیا اگر قسمت سے بچ گیا تو خود کو معذوری کے حوالے کر دیا اور اگر موت کے منہ میں چلا گیا تو اپنے خاندان کو تلخ یادوں کے حوالے کر گیا۔

ون ویلر کے جنم پر بات کریں تو سب سے پہلے اس کا اپنا گھر اساتذہ پھر اس کی سوسائٹی اور آخر میں ون ویلنگ کو روکنے والے سرکاری ادارے ہیں سب سے پہلے ایک ون ویلر کے گھر میں ان رویوں پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ایک بچہ شعوری طور پر اپنے نفع نقصان کے بارے فیصلہ کرنے کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں جن کا انتخاب کرنے میں اسے سوچنا ہوتا ہے نوجوانی کے منہ زور وقت پر اگر گھر میں اس کی غیر نصابی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی لمحے شعور میں جاتی ہوئی عمر کے دوران کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں تو ایسا ممکن نہیں کہ وہ کسی غلط راستے کا انتخاب کر سکے اگر ہم ون ویلر کی منفی سوچ کو ختم کرنے کی کوشش کریں تو وہ موت سے بچ سکتا ہے گھر میں بچوں پر نگرانی اور بہتر تربیت سے ون ویلر کے جنم کو روکا جا سکتا ہے گھر ہی کے بہتر ماحول سے ون ویلنگ کو بڑی حد تک ختم کیا جا سکتا ہے۔

آج کے دور میں نوجوانوں کو موبائل کے ذریعے ہر کسی تک رسائی ممکن ہوتی ہے ان کی رسائی میں اچھے اور برے لوگ بھی ہوتے ہیں یہاں بھی اگر بچوں کی گھر میں اچھی تربیت کی گئی ہو توان کو آج کل کے آزادانہ ماحول میں بھی بہتر فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی اور اگر والدین بچوں کو وقت نہ دیں اور ان کے اندر احساس محرومی پیدا ہو جائے تو پھر گھروں میں ون ویلر جنم لیتے ہیں والدین کو چاہیے کہ وہ گھر کے ماحول میں مثبت سوچ کو فروغ دیں کیونکہ اگر منفی سوچ کا شکار ہو کر بچے نے آزاد سانس لینے کا سوچ لیا تو وہ ون ویلنگ سمیت کسی بھی جرم میں ملوث ہو سکتا ہے۔

گھر کے بعد کسی کی بھی انسان کی دوسری تربیت گاہ اس کی درس گاہ ہوتی ہے جہاں آپ کے پاس بہت سے آپشن ہوتے ہیں اگر مثبت سوچ کے حامل اساتذہ کی شاگردگی میسر ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ خود ہر برائی سے بچ سکتے ہیں۔ وقت ہم سے یہ تقاضا چاہتا ہے کہ ون ویلنگ کے مضمر اثرات بارے نئی نسل کو آگاہ کیا جائے ان کو بتایا جائے کہ یہ کھیل ہر گز نہیں یہ جرم کا راستہ ہے نوجوانی میں قدم رکھتے ہوئے بچوں کو گھر سے لے کر درس گاہ تک کے سفر میں وین ویلنگ کے نقصانات سے آگاہی کے لیے معلومات دینا والدین سے لے کر اساتذہ تک سب پر لازم ہے۔

ون ویلنگ کا ناسور معاشرے میں جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس کو روکنے کے لیے سخت اقدامات نہ کیے گئے تو اس کا شکار ہر گھرانا ہو گا۔ گھر اور درس گاہ کے بعد ون ویلنگ کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے قانون کو حرکت میں لانا ضروری ہے صرف سڑکوں پر تیز چلو گے جلد مرو گے کے بورڈ آویزاں کر دینے سے معاملہ ختم نہیں ہو سکتا یا ون ویلنگ کا شکار ہو کر ہلاک ہونے کے بعد پولیس اور دیگر اداروں کے حرکت میں آ جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل یک جہتی کے ساتھ ون ویلرز کے خلاف مربوط طریقہ کار اختیار نہیں کرتے ون ویلر نوجوان قابو میں نہیں آہیں گے۔

حکومت کو چاہیے ون ویلنگ کی روک تھام کے لیے سیف سٹی اتھارٹی کو دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ شامل کیا جائے جہاں سیف سٹی اتھارٹی دوسرے جرائم میں اداروں کی مدد کر رہی ہے وہاں کسی بھی ون ویلر کی مکمل معلومات حاصل کرنا مشکل نہیں اور جیسے ہی ون ویلر قانون کی گرفت آ جائے تو اسے رعایت نہ دی جائے اور پکڑے جانے والے ون ویلرز کی ذہنی حالت کی بہتری کے لیے ماہر نفسیات کے لیکچر دیے جایں تا کہ ون ویلر نوجوان کی سوچ میں تبدیلی رونما ہو سکے۔

ون ویلنگ کے تدارک کے لیے سوسائٹی کا بھی اہم رول ہے لوگ سڑکوں پر دوڑتے ہوئے ون ویلروں کو دیکھتے ہیں برا بھلا بھی کہتے ہیں لیکن ان کو روکتے نہیں بلکہ اپنی انکھوں کے سامنے مرتا ہوا بھی دیکھنا منظور کر لیتے ہیں یہاں بھی حکومت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے والدین سوسائٹی کے معززین اور اساتذہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلی افسران پر مشتمل افراد کی ٹیم تشکیل دینی چاہیے جو ون ویلنگ کو بھی روکے اور ون ویلر کے جنم کو بھی۔

Facebook Comments HS