بیٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے ایک دوست کے ہاں اوپر نیچے چار بیٹیاں پیدا ہونے کے بعد بالآخر آج ”اولاد نرینہ“ کا بابرکت وجود گھر کی رونق بن ہی گیا۔ صبح سے میری فیس بک وال پر صرف مبارک بادیں چل رہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس خوش قسمت بچے کو کھانے میں ہمیشہ تھوڑی سی بوٹی ایکسٹرا دی جائے گی، تھوڑے سے اچھے سکول میں داخل کرایا جائے گا، تھوڑے سے اچھے کپڑے پہنائے جائیں گے، اور سب سے اہم یہ کہ اس بیٹے کی پیدائش پر بہت زیادہ جشن اور خوشی منائی جائے گی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہم بیٹی سے پہلا حق جو چھینتے ہیں وہ یہ کہ اس کی پیدائش کی خوشی کا حق چھین لیتے ہیں۔ جس کے پیدا ہونے پر آنسو بہائے جائیں اور جس کو تا عمر بوجھ یا ذمہ داری سمجھا جائے اگر وہ روز قیامت دامن خداوندی میں ہاتھ ڈال دے تو کچھ عجب نہیں ہے۔

دوستو، میں نے اس تفاوت کے بارے میں بہت سوچا ہے۔ اس سب کی جڑ میں بہت بڑا عنصر معیشت ہے۔ زیادہ تر بیٹیاں کمانے جوگی نہیں ہوتیں، نہ انہیں اس ڈھنگ سے پالا جاتا ہے کہ وہ کچھ کما سکیں۔ ڈرتی اور سمٹتی ہوئی یہ لڑکیاں آخر کس کے گناہوں کی سزا بھگت رہی ہیں۔ ایک دفعہ کوریا میں ایک پہاڑی علاقے کے ٹرپ میں کورین پروفیسر کی بیوی نے مجھے بہت فخر سے بتایا تھا کہ ان کی بس ایک بیٹی ہے جو سیول میں ڈاکٹر ہے۔ وہ خاتون اپنی بیٹی پر بار بار فخر کر رہی تھی اور کہیں سے بھی یہ محسوس نہ ہوتا کہ اسے یہ رنج ہے کہ میری ”اولاد نرینہ“ نہیں ہے۔

اسے اپنی بیٹی کی ہر چیز پر فخر تھا۔ اس کی بیٹی ایک انڈیپینڈنٹ لڑکی تھی جو اپنے والدین پر بوجھ نہیں تھی۔ وہ خود اپنے گھر دیجن سے ٹرین میں بیٹھ کر سیول چلی جاتی تھی اور خود ہی وہاں سے واپس آ جاتی تھی۔ کسی کو اسے چھوڑنے جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ نہ یہ ڈر تھا کہ کوئی اس پر آوازیں کسے گا۔ نا یہ سوچ کہ کوئی اسے چھیڑ جائے گا۔ نہ یہ خوف کہ کوئی ہاتھ لگا کر بھاگ جائے گا۔ نہ یہ سوچ کہ کوئی اکیلا دیکھ کر آوارہ سمجھے گا۔

نہ یہ دانش کہ اسے نیکر پہنے دیکھ کر کسی کے جذبات بھڑک اٹھیں گے۔ نہ ہی یہ وسوسہ کہ یہ بھاگ کر شادی کر لے گی۔ کہ اس کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ کیونکہ پارک فیملی کو کم فیملی میں رشتہ دیتے ہوئے ہتک محسوس نہیں ہوتی۔ نہ یہ امر مانع تھا کہ جوان لڑکی کو کوئی اغوا کر لے گا یا کوئی اس کا ریپ کر دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس پروفیسر کی ڈاکٹر بیٹی جب گھر سے ہسپتال جانے کو نکلتی ہوگی تو ذہن کے کسی گوشے میں بھی اس ڈر سے درکنار نہ ہوتی ہو گی کہ کچھ ہو سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کوریا میں بیٹی ہونے کی بھی برابر خوشی منائی جاتی ہے۔

اتفاق کی بات ہے کہ اللہ نے مجھے بھی شادی کے پانچ لمبے سال بعد ، ہزاروں منتوں مرادوں سے پہلی اولاد بیٹی کی صورت میں دی۔ اور جب میں نے پہلی مرتبہ اس چھوٹی سی جان کو اپنی بانہوں میں لیا تو وہ میری زندگی کا شاید سب سے خوبصورت لمحہ تھا۔ میں جذبات سے بے قابو ہو کر شدت سے رونے لگا تھا۔ میں زندگی میں غالباً ایک ہی مرتبہ خوشی سے رویا ہوں۔ بے ساختہ رویا ہوں، بہت زور سے رویا ہوں۔

کاش ہم سب اپنی بیٹیوں کے لیے غم کی بجائے خوشی کے آنسو بہاتے۔ کاش ہم اپنے معاشرے کو ایسا بنا سکتے کہ جہاں بیٹی پیدا ہونا جرم نہ ہوتا۔ کاش۔

Latest posts by ڈاکٹر نادر عباس (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر نادر عباس کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments