شام کے وقت حادثات کا تناسب بڑھ جاتا ہے
پاکستان میں حادثات کا تناسب روزبروز بڑھتا جا رہا ہے جو کہ رات کے وقت مزید بڑھ جاتا ہے۔ شہری آبادی کی نسبت دیہی علاقوں میں رات کے وقت حادثات کی شرح بہت زیادہ ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں زیادہ تر گاڑیوں کی ہیڈ، ٹیل لائٹس نہیں ہوتیں۔
اگر ہم صورتحال کا بغور جائزہ لیتے ہوئے تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ سڑک حادثات کا تناسب دن کے مقابلے میں رات کے وقت 1۔ 5 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ اس مد میں شعبہ عمرانیات نے دو مختلف اوقات میں ایک مشاہداتی مطالعہ کیا۔ جو کہ پہلا، خانیوال سے وہاڑی تک 75کلومیڑ اور دوسرا ملتان روڈ پر 50 کلومیٹر کے فاصلے پر مشتمل تھا۔
ساہیوال سے وہاڑی تک کے کل 75 کلومیٹر کے فاصلے کا 25 کلومیٹر لاہور۔ ملتان جی ٹی روڈ پر محیط تھا۔
75کلومیٹر کا یہ فاصلہ 11گھنٹے اور 45 منٹ میں طے کیا گیا جس دوران سڑک پر 200 کے قریب گاڑیاں ایسی دیکھی گئیں جو کہ ہیڈ، ٹیل لائٹس کے بغیر تھیں۔
اعداد و شمار کی مزید جانچ پڑتال کی گئی تو پتا چلا کہ خانیوال سے وہاڑی تک ہر ایک کلومیٹر کے فاصلے میں 3 سے زائد گاڑیاں نائٹ لائٹس کے بغیر چل رہیں تھیں اور اس کے ساتھ 153 موٹر سائیکلز، 17 رکشے اور 17 ٹرالیاں بھی نوٹ کی گئی جو بغیر لائٹس کے تھیں۔
یہ تمام اعداد و شمار رات کے وقت حادثات کے امکانات بڑھنے کی جانب توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔
وہاڑی شہر میں ٹریفک کی اس انتہائی ابتر صورتحال کو دیکھتے ہوئے متعلقہ حکام کی انتظامی قابلیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ وہاڑی انتظامیہ کے لیے یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے کہ رات میں ہر ایک میٹر کے فاصلے پر پانچ گاڑیاں نائٹ لائٹس کے بغیر چل رہی ہیں۔
علاوہ ازیں، دوسرا مشاہدہ جولائی میں ملتان روڈ پر کیا گیا جس کے مطابق ہر 50 کلومیٹر کے فاصلے پر 92 گاڑیاں لائٹس کے بغیر پائی گئیں۔
اگر ہم دونوں مشاہدات پر مبنی مطالعات کو یکجا کریں تو اوسط 2۔ 5 بنتی ہے۔ یعنی شام کے وقت ہر 100 گاڑیوں میں 2سے 3 گاڑیاں نائٹ لائٹس کے بغیر چل رہی ہیں۔
مزید یہ کہ اگر ان مشاہدات کی پورے ملک پر تعمیم کی جائے تو ہر 100 میں سے 3 گاڑیاں ہیڈ، ٹیل لائٹس کے بغیر چلتی ہیں جو کہ کافی تشویشناک صورتحال ہے اور حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے کہ سڑکوں پر حفاظتی اقدامات کو یقینی کیسے بنایا جائے۔
(لکھاری ایک مصنف ہونے کے ساتھ یورپین یونیورسٹیوں کے پاکستانی معاشرے پر ریسرچ پراجیکٹ میں ایک فوکل پرسن کے طور پر کام کر رہے ہیں اور سوشل سائنسز کے سب سے کم عمر وہ پروفیسر ہیں جن کا نام ملک کے دو فیصد سائنسدانوں میں شامل ہے )
مصنف: محمد زمان – ترجمہ:عدیلہ ذکا

