زندہ ہو تو جینے کی سزا دیتی ہے دنیا
عمران خان کی حکومت آتے ہی ملک میں سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی گئی جس میں یہ مطالبہ تھا کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی خدمات کے صلے میں صدر پاکستان بنایا جائے۔ یہ مطالبہ بیچارے عوام کا تھا جو فرط محبت میں یہ باتیں کر رہے تھے۔ انہیں کیا معلوم کہ یہاں خدمات کے صلے میں عہدے نہیں دیے جاتے بلکہ دیے گئے عہدے بھی چھین لیے جاتے ہیں۔ انہیں عزت دینے کے بجائے ان کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
انہیں ہیرو بنانے کے بجائے زیرو بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستانی ایٹم بم کے خالق، عظیم مسلمان سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ کیا گیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان وہ مایہ ناز مسلمان سائنس دان تھے جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا تھا۔ مئی 1998ء میں آپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابلہ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی۔
اور آپ نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبد القدیر خان نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ 1989ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ہلال امتیاز کا تمغا عطا کیا گیا۔ 1993ء میں کراچی یونیورسٹی نے ان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔ 14 ؍ اگست 1996ء میں صدر پاکستان فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز دیا۔
ایٹمی دھماکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پاکستان کی سلامتی کے لیے یہ ایک ایسی کاوش تھی جس نے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت Critical Mass کے مصنف نے لکھا: ”پاکستان ٹیکنا لوجی کی اس معراج کو پہنچ جائے گا کہ وہ ایٹم بم بنا سکے گا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا، کسی اور قوم کی تاریخ ایسی نہیں ہے کہ انہوں نے وسائل کی اتنی کمی کے باوجود اتنا کچھ کر دکھایا ہو جتنا پاکستانی قوم نے کیا، ہر لحاظ سے پاکستان ایک غریب ملک ہے۔
ایک سو سے زائد دنیا کے ممالک میں پاکستان غربت کی سطح کے 120 ویں نمبر پر آتا ہے، اس کی اکثریت ان پڑھ ہے۔ پاکستان مشکل سے زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے پاس ایران جیسا تیل کا ذخیرہ نہیں ہے نہ عراق کے شیوخ کی دولت ہے۔ اس کی صنعت بھی بھارت کے مقابلے جیسی نہیں ہے۔ اسرائیل جیسے سائنسدانوں کی کھیپ بھی اس کے پاس نہیں ہے۔ یہ کوریا جیسا رازداں بھی نہیں ہے جو کسی بھی ملک کی مضبوطی کی علامت ہوا کرتی ہے، الغرض پاکستان ایک ایسا استثنا کہ جو ہر قاعدے کی نفی کر رہا ہے۔
ایسے میں اس کا ایٹمی قوت ہوجانا کسی طور معجزے سے کم نہیں۔“ ڈاکٹر صاحب کے اس کام پر پوری دنیا میں پذیرائی ہوئی لیکن پاکستان میں ان پر بے بنیاد الزام لگا کر ان کی کاوشوں کو داغ دار کیا گیا۔ ان کا عرصۂ حیات تنگ کیا گیا۔ ایٹمی دھماکے کے بعد مغربی دنیا نے پروپیگینڈا کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو ”اسلامی بم“ کا نام دیا۔ پرویز مشرف کے دور میں ڈاکٹر صاحب پر ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا اور اسی الزام میں آپ کو نظر بند کر دیا گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب پر مقدمہ چلا کر2004ء میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ کوئی جرم ثابت نہیں ہوسکا۔ صرف ایک ہی جرم تھا کہ انہوں نے پاکستان کو مضبوط کرنے اور ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ایٹمی پروگرام کو مضبوط کیا۔ بس اسی جرم کی پاداش میں نظر بند کیا گیا۔ بہت سارے الزامات لگائے گئے لیکن پانچ سال تک ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ بالآخر 6 فروری 2009 ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے محسن پاکستان کو باعزت بری کیا لیکن اسی کے ساتھ چند شرائط لگائی گئیں۔
وہ یہ تھیں کہ اگلی ساری عمر بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔ فارن میڈیا سے نہیں ملیں گے، لوکل میڈیا سے ملاقات سے پہلے اجازت لینا ہوگی، لوکل شہر کے اندر کہیں جانے کے لیے چار گھنٹے پہلے اطلاع کرنی ہوگی اور بیرون شہر جانے کے لیے چار دن پہلے بتانا ہو گا۔ اس کے بعد حفاظت پر معمور عملے کی صوابدید پر منحصر ہو گا کہ وہ کن شرائط پر اجازت دے یا نہ دے۔ مذہبی جماعتوں کے راہنماؤں سے ملاقات کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایک شرط یہ بھی تھی کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پرویز مشرف پر تنقید نہیں کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
ان شرائط سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ محسن کے احسان کا بدلہ کس طرح دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی مرضی کی زندگی جینے کی کوشش کرتے رہے، کورٹ کچہری کے چکر میں پھنسے رہے۔ انصاف کے منتظر رہے۔ کسی نے توجہ نہیں دی۔ کسی نے اس محسن پر ذرا سا بھی احسان نہیں کیا۔ حالانکہ اس دوران کئی حکومتیں آئیں، پیپلز پارٹی کی حکومت، نون لیگ کی حکومت اور اب موجودہ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی تھی۔ قوم کے ہیرو نے اپنی زندگی کی آخری دو دہائیاں انصاف کی دہائی میں لگا دیں۔
بے بسی کی زندگی گزارتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب کی بے بسی کو دیکھتے ہوئے ظفر اللہ خان نیازی نے کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب آپ ہمارے ”زندہ شہید“ ہیں۔ اسی لیے ڈاکٹر صاحب نے اپنے انٹر ویو میں کہا تھا کہ میں اب ملک کے لیے کچھ نہیں کروں گا کیونکہ یہاں قدر کرنے کے بجائے الٹا الزام لگادیا جاتا ہے اور زندگی عذاب بنا دی جاتی ہے۔
بدقسمتی سے قوم کا ہیرو چند دنوں پہلے اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں جیل سے بھی زیادہ سختیوں میں اپنی زندگی کے ایام گزارنے کے بعد دار فانی سے کوچ کر گیا۔ اب وہ محسن اور قوم کا ہیرو ہم میں نہیں رہا۔ اپنا کام کر کے پاکستان کو طاقتور بنا کر اپنی ذمہ داری پوری کر گیا۔ ہماری قوم نے انہیں ہیرو تسلیم کیا مگر سرکاری سطح پر محض تنقید کی گئی۔ جن لوگوں نے ڈاکٹر صاحب کی زندگی اجیرن بنا رکھی تھی اور ان کے گھر کوہی قید خانہ بنایا ہوا تھا، وہ کس منہ سے ڈاکٹر صاحب کی تعزیت کر رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے تو اپنی اپنی حکومتوں میں ڈاکٹر صاحب کو ایک لمحہ بھی اپنی مرضی سے گزارنے نہیں دیا۔
نہ جانے کیا کیا ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ کیا کیا پابندیاں لگائی گئیں۔ اعلیٰ حکام صرف زبانی منہ خرچ کر کے رسمی طور پر تعزیتی بیانات جاری کر کے سمجھ بیٹھے کہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئے۔ بدقسمتی سے سوائے ایک دو کے کسی اعلیٰ حکام نے ڈاکٹر صاحب کے جنازے میں شرکت کرنے کی زحمت نہیں کی۔ یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں حکمرانوں نے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے حوصلہ شکنی کر کے ملک و قوم سے غداری کا ثبوت پیش کیا تھا، اور ان کے انتقال کے بعد جنازے میں شرکت نہ کر کے محسن پاکستان سے دشمنی کے معاملے میں اپنے تابوت میں خود آخری کیل ٹھونکی ہے۔


