نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا

وہ ڈرا سہما سا بس کے ایک خالی کونے میں بیٹھا اپنی زندگی کے گزشتہ ماہ و سال میں کھویا ہوا تھا۔ بار بار مڑ کر باہر نگاہ ڈالتا کہ کہیں اس کی منزل نکل نا جائے، مگر ان سب بھاگتے راستوں اور گزرتی منزلوں، سب سے ہی تو انجان تھا وہ۔ اچانک اسے تئیس نمبر ویگن میں دروازے کے ساتھ جڑے کنڈکٹر کی بڑی یاد آئی۔ بھیکے وال موڑ سے چنگی امر سدھو تک ہر سٹاپ پر کنڈکٹر چیخ

Read more

نیا سال پرانا وتیرہ

ہر سال کی آخری شب، میں اپنے کمبل میں لیٹا، پستے اور کاجو پر ہاتھ صاف کرتے، آنے والے سال سے خوش کن امیدیں باندھنے میں مصروف رہتا ہوں۔ پچھلے سالوں کی آخری رات کی طرح اس بار بھی مجھے پورا یقین تھا کہ نیا سال چڑھتے ہی میری قسمت بدلنے کو ہے۔ ایک کامیاب اور آسائشوں بھری زندگی جس کا کئی سالوں سے انتظار کر رہا تھا وہ بس اب چند دنوں کی مسافت پر ہے۔ اعتماد کا یہ

Read more

چائنہ ریڈیو پر انٹرویو! دیس پردیس کا احوال

پیارے دوست اور بھائی زبیر بشیر پاکستان میں ریڈیو پروڈکشن کا جانا مانا نام ہیں ایک طویل عرصہ سے ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہیں اور آج کل چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروسز میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کا حکم تھا کہ دیس میں بسنے والوں کو پردیس کا حال سنایا جائے۔ اس سلسلے میں ریڈیو چائنہ پر ہماری گفتگو پر مبنی ایک انٹرویو نشر ہوا، جس میں بیرون ملک بسنے والوں کے حالات اور یہاں آنے

Read more

میرے دل میرے مسافر (لاہور کے دوست)

جیسے دو سال پہلے یہاں کینیڈا پہنچنے پر بہت عرصہ حیران رہے کہ یا خدا کہاں سے اٹھا کر کہاں رکھ دیے گئے، ویسے ہی لاہور واپس پہنچ کر شروع میں تو بے یقینی سی کی کیفیت رہی۔ کہ واقعی ہم اپنے گھر لوٹ آئے ہیں۔ اس کیفیت سے وہ سب پردیسی زیادہ واقف ہوں گے جو ملک چھوڑنے کے بعد پہلی بار گھر لوٹتے ہیں۔ ایک عجیب سی خوشی اور اپنے پن کا احساس۔ کبھی تو یوں لگتا کہ

Read more

کرکٹ ورلڈ کپ: بے داغ جیت اور بے لوث حب الوطنی

کینیڈا کی خزاں، اتوار کی صبح، اور چڑھتی سنہری دھوپ کا ایک لگ سا مزہ ہے۔ اب اگر اس صبح میں پاکستان اور انڈیا کا میچ بھی شامل ہو جائے؟ تو بس سب کام دھندہ چھوڑیے اور ٹی وی کے سامنے بیٹھ جائیں۔ چلیں ٹی وی چھوڑیں اور ایک بڑی سکرین پر یہی میچ کوئی سو پچاس پاکستانی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر دکھائے جانے کا اہتمام کر دے تو کیا کہنے۔ اور ابھی کوئی تمنا باقی ہو تو بہترین

Read more

میرے دل میرے مسافر(قلعہ دیدار سنگھ)

پاکستان کے سفر میں ایک واردات یہ ہوئی کہ بچپن اور نوجوانی کی یادیں، جنہیں وقت کی گرد نے ڈھانپ دیا تھا وہ سب قصے اور کہانیاں انگڑائیاں لیتی بیدار ہو گئیں۔ ہوا یوں کہ بچپن کے دوست نبیل نے ہمارے آبائی علاقے میں واقع اپنے فارم پر بلاوا بھیجا، اور میرے پاس گاڑی میسر نا ہونے ہونے کے بہانے کو ٹالتے ہوئے مجھے لے جانے اور چھوڑنے کی ذمہ واری بھی اپنے سر لے لی۔ بچپن کا عرصہ گجرانوالہ

Read more

میرے دل میرے مسافر (1)

دو سال اور ایک ماہ کینیڈا گزارنے کے بعد ، پاکستان کا چکر ایک خواب جیسا تھا کہ ابھی دیکھا اور اب جاگ گئے۔ کہنے کو تو دو مہینے تھے، مگر کب، کہاں اور کیسے گزرے پتا ہی نا چلا۔ ابھی تو پاکستان پہنچنے کی خوشی بھی پوری نا ہوئی تھی کہ جانے کا وقت آن ٹھہرا تھا۔ کتنے ہی دوستوں سے مل نا پائے، کتنی ہی ملاقاتیں تشنہ رہ گئیں، کچھ قصے بیان ہوئے کچھ ادھورے چھوڑ آئے۔ بے

Read more

ہجرت اور جدوجہد کی داستان: الوداع ڈاکٹر سلمان‎

میرے گھر کے پچھلے صحن میں پھیلی سبز گھاس، کیاریوں میں کھلے رنگ برنگ پھول، کانٹوں اور بھورے پتوں سے ڈھکی جھاڑیاں سب خاموش کسی گہری سوچ میں گم ہیں۔ انہیں تین اطراف سے گھیرے لکڑیوں کی باڑ اور اس پر بیٹھنے والے نیلے پیلے پرندے سب ہی اداس ہیں۔ شاید انہی پرندوں نے میرے گھر کی کیاریوں کو قریبی شہر لندن کی وہ المناک کہانی سنائی ہے جہاں کسی نے رنگ اور مذہب کی بنیاد پر ایک ہنستا بستا

Read more

وبا کے سال اور دیسی دانشور

سانس کا دھاگا ایسا کچا کبھی نا تھا جیسا وبا کے پچھلے دو سالوں میں ہو گیا۔ اپنے بچھڑتے پہلے بھی تھے، بیماریاں حملہ آور ہوتی ہی تھیں، مگر علاج چلتے رہتے۔ صحت یابی بہت سوں کا مقدر ٹھہرتی اور کچھ ہار جاتے۔ مگر زندگی کی ایسی ارزانی کبھی دیکھی نا تھی جیسی اس کرونا کے دنوں میں ہوئی۔ کسے معلوم تھا کہ علم اور سائنس کی معراج پر پہنچنے کے بعد ایک ننھا سا وائرس خوف کی ایک عالمگیر

Read more

ناخدا کی تمنا نہ ناصح کا انتظار

کینیڈا میں مقیم دوست اور جانے مانے ریڈیو براڈ کاسٹر، رانا عمیر کا پیغام ملا کہ وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر یوم پاکستان کے حوالے سے ”کینیڈین پاکستانی نیریٹو“ نامی ایک ٹاک شو کا اہتمام کر رہے ہیں اور مجھے بھی حکم تھا کہ وہاں شو سے ذرا پہلے پہنچ کر ان کی ٹیم سے ملاقات کر لوں۔ اب ساری عمر اسی دشت کی سیاحت میں گزری تھی تو ایک لمبی شفٹ کی تھکاوٹ کے باوجود ان

Read more

برا نا منائیے گا

عمر بھائی، برا نا منائیے گا، مگر آپ کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ یہ فقرہ ایک جاننے والے نے ہماری پہلی ہی ملاقات میں، ہمیں رتی بھر بھی جانے بنا، بغیر کسی ہچکچاہٹ ادا کیا تو ہم نے گھبرا کے خود کو دیکھا۔ ہاتھ پاؤں سلامت پائے تو چہرے پر ہاتھ پھیرا کہ کہیں ناک وغیرہ تو نہیں کٹوا بیٹھے۔ وہاں بھی خیریت پائی تو حیرت زدہ ہو کر ان کی جانب دیکھا کہ ان کے لہجے کے

Read more

ہندوستان کی عائشہ کے نام ایک خط

الوداع عائشہ عارف خان، تم تو سابرمتی ندی کی لہروں پر پنکھ پھیلائے، جلدی میں اپنے خدا کے پاس چلی گئی مگر اس دھرتی کی کتنی ہی عائشائیں اب بھی ستم کے سائے میں خدا سے امید لگائے بیٹھی ہیں۔ جب تم خدا سے ملو تو اسے ان سب کی کہانیاں بھی یاد دلانا۔ تمہیں لگتا تھا کہ تمہارا روگ بڑا ہے، تو تم اپنی جان سے گزر گئی۔ مگر یہاں تو ہر گلی ہر نگر ہم ظلم کی ایسی

Read more

افسرانہ مزاج کی درجہ بندی اور کینیڈا

آپ یقین کریں نا کریں ان کینیڈا والوں کو افسری کرنے کا ذرا سا بھی سلیقہ نہیں آتا۔ اور کچھ شعبوں میں اچھے ہوں تو ہوں مگر افسرانہ مزاج کی اگر کوئی بین الاقوامی درجہ بندی مرتب ہو تو یہ کہیں آخری نمبروں پر ہی پائے جائیں گے۔ کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہ کم از کم اپنے مینیجرز کو ہی، پاکستان کا ایک آدھ چکر لگوا دیا جائے، کہ ہمیں جن افسران کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان کے رویے نے مایوس ہی کیا۔

بھئی اگر کام بھی ہم سے زیادہ ہی کرنا ہے، مسائل بھی ہم سے زیادہ سنبھالنے ہیں، ہمارے ہر دفع بلانے پر دوڑے چلے آنا ہے تو کاہے کی منیجری آپ کی؟ ایک ذرا سی بہتر تنخواہ کے لالچ میں ہی افسر بنا جاتا ہے کیا؟ اصل ہوتا افسر کا دبدبہ، اس کی آن، بان اور شان۔ افسر گزرے اور اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے دو چار افراد کا لاؤ لشکر نا ہو تو کیسے کوئی پہچان پائے وہ کتنا عالی مرتبت ہے؟ اگر افسر کی مسکراہٹ آپ کو نہال نا کرے اور اس کی خامشی آپ پر دہشت نا طاری کر سکے تو ایک عام کولیگ اور اس میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟

Read more

نیا مکان اور پرانی یادیں

کچھ دن سے طبیعت لکھنے کی جانب مائل نہ تھی، شاید اس لیے کہ میں وہ پرانا مکان چھوڑ آیا ہوں جہاں کی قد آدم کھڑکیاں، پچھلا صحن اور وہاں قطار میں کھڑے عمر رسیدہ درخت تخلیق کی تحریک فراہم کرتے تھے۔ اب میں نسبتاً ایک نئے مکان کا باسی ہوں جو پہلے سے کافی بہتر ہے۔ نو کمروں پر مشتمل یہ جگہ دو حصوں میں منقسم ہے، جس سے دو خاندان آسانی سے ایک ہی گھر میں بہتر انداز

Read more

ایک اجلی رات اور روشن دن کی تمنا …

ایک بار پھر برف نے گردونواح کو اپنے سفید بے داغ کمبل سے ڈھانپ دیا ہے اور لوگ اپنے گھروں میں دبکے پڑے ہیں۔ ان گھروں میں باہر گرتی برف اور بڑھتی سردی کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا، کہ تہہ خانوں میں چلتے ہیٹر خواب گاہوں سے لے کر مہمان خانوں اور راہداریوں سے غسل خانوں تک ایک متوازن گرمی کا احساس قائم کیے ہوئے ہیں۔ باہر کے منفی درجہ حرارت سے بے نیاز ہم سب، ہلکے پھلکے لباس

Read more

دیار غیر میں! بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے

پچھلی کچھ تحریروں کے بعد ہمارے چند دوستوں اور خاندان والوں نے جس طرح ہمارے بعد از ہجرت حالات پر دکھ اور تاسف کا اظہار کیا، تب سے ہم بھی خود کو مظلوم سا محسوس کر رہے تھے۔ ہمارے دانشور دوست ابرار نے تو فون کر کے ہمارے ملک چھوڑنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل بھی کی۔ اور ہمیں یقین دلایا کہ وہ خود کینیڈا آ کر ہمارے حصے کی سختیاں جھیلنے کو تیار ہیں۔ سچ پوچھیں تو

Read more

نئے اور پرانے پردیسی کا مکالمہ

پرانا پردیسی: آپ کون؟ نیا پردیسی: میں زید۔ پرانا پردسی: ملک سے باہر کب آئے؟ نیا پردیسی: یہی کوئی سال بھر ہوا۔ پرانا پردیسی: اچھا اچھا، وہاں کیا کرتے تھے؟ نیا پردیسی: جی میں بینک میں اسسٹنٹ مینیجر تھا۔ پرانا پردیسی: ارے واہ! یہاں کیا مشغلہ ہے؟ نیا پردیسی: جی بس کچھ خاص نہیں، محنت مزدوری کر لیتے۔ پرانا پردیسی: اوہ، تو ملک کیوں چھوڑا؟ نیا پردیسی: بس جی سوچا تھا بچوں کے لیے کچھ کر پاؤں۔ پرانا پردیسی: تو

Read more

چند گھنٹے پر محیط ملازمت کے جامع اثرات

اہل خانہ کے ہزار منع کرنے کے باوجود، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ٹورنٹو کی پہلی ملازمت نے جس طرح ہمیں بے حال کیا تھا اس کا حال بیان کرنا لازم ہے۔ چند گھنٹوں پر محیط اس زیر زمین نوکری کے دوران ہم نے پیسہ تو ایک نہیں کمایا مگر کئی سبق سیکھے۔ ٹورنٹو پہنچے تو پرانے دوستوں کے علاوہ ایک بے لوث کردار نجم بھائی جن سے کوئی پرانی ملاقات نا تھی ہماری ابتدائی ہجرت کے ساتھی ٹھہرے۔ ان

Read more

گاڑی کی خواری اور سری لنکن مکینک

کینیڈا آنے کے بعد قریب آٹھ ماہ کا عرصہ، ہر طرح اور ہر طرز کی پبلک ٹرانسپورٹ کی زیارت میں گزرا۔ اس کے ساتھ میٹھے کے طور پر اتنا پیدل سفر شامل تھا جو اگر ناک کی سیدھ میں کیا جاتا تو پاکستان نا سہی، یورپ تک جا ہی پہنچتے۔ اس سب میں قصور نا اس ملک کا تھا نا ہی ہمارا کہ کینیڈا میں اگر آپ شہر کے مرکزی علاقے سے باہر رہتے ہیں تو اپنی سواری کا شمار

Read more

پردیس کا پہلا موسم سرما

صبح سگریٹ لینے کی لیے قریب کے گیس سٹیشن جانا پڑا تو سوچا گاڑی کی بجائے پیدل سفر کیا جائے۔ کرسمس کی رات سے ہی ٹورنٹو میں برف باری کا آغاز ہو چکا تھا اور رات بھر میں سارا منظر سفید لباس پہن کر کرسمس کی خوشیاں منانے میں شامل جسے یہاں وائٹ کرسمس بولا جاتا ہے۔ اس سال موسم نے البتہ اتنا رحم کیا کہ پچھلے سال کی نسبت اب تک سردی اور برف باری کی لہر کچھ ایک

Read more