آپ یقین کریں نا کریں ان کینیڈا والوں کو افسری کرنے کا ذرا سا بھی سلیقہ نہیں آتا۔ اور کچھ شعبوں میں اچھے ہوں تو ہوں مگر افسرانہ مزاج کی اگر کوئی بین الاقوامی درجہ بندی مرتب ہو تو یہ کہیں آخری نمبروں پر ہی پائے جائیں گے۔ کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہ کم از کم اپنے مینیجرز کو ہی، پاکستان کا ایک آدھ چکر لگوا دیا جائے، کہ ہمیں جن افسران کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان کے رویے نے مایوس ہی کیا۔
بھئی اگر کام بھی ہم سے زیادہ ہی کرنا ہے، مسائل بھی ہم سے زیادہ سنبھالنے ہیں، ہمارے ہر دفع بلانے پر دوڑے چلے آنا ہے تو کاہے کی منیجری آپ کی؟ ایک ذرا سی بہتر تنخواہ کے لالچ میں ہی افسر بنا جاتا ہے کیا؟ اصل ہوتا افسر کا دبدبہ، اس کی آن، بان اور شان۔ افسر گزرے اور اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے دو چار افراد کا لاؤ لشکر نا ہو تو کیسے کوئی پہچان پائے وہ کتنا عالی مرتبت ہے؟ اگر افسر کی مسکراہٹ آپ کو نہال نا کرے اور اس کی خامشی آپ پر دہشت نا طاری کر سکے تو ایک عام کولیگ اور اس میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟
Read more