عید میلاد النبی ﷺ کے موقعہ پہ نبی ﷺ کے لیے تحفہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نبی کریم ﷺ کا میلاد منانے اور نہ منانے پہ امت میں ایک واضح تفریق موجود ہے۔ میلاد منانے والوں کے پاس ایک عقلی دلیل ہے جو ہر جگہ پیش کی جاتی کہ جب ہم سب اپنے بچوں کے برتھ ڈے ہر سال باقاعدگی سے بہت اہتمام سے مناتے تو پھر وہ ہستی جس نے ہمیں کفر کے اندھیرے سے نکال کر ایمان کی روشنی سے متعارف کروایا اس کا جنم دن منانے میں کیا قباحت ہے؟ یہ ایک عملی دلیل ہے۔ اس کا جواب بھی عمل سے ہی دیا جا سکتا ہے۔ یا تو ہم سب اپنے بچوں کی سالگرہ، ویڈنگ اینیورسریز یا دیگر قومی تہواروں کی بابت وہ ہی رائے قائم کر لیں جو نبی پاک ﷺ کے میلاد نہ منانے کی کر رکھی ہے۔ یا پھر نبی کریم ﷺ کے میلاد سے متعلق وہ ہی رائے بنا لیں جو بچوں کی سالگرہ، شادی بیاہ کی تقریب کی سالانہ تقریب یا دیگر قومی تہواروں سے متعلق بنا رکھی ہے۔

یہاں رک کر ایک لمحہ اسی دلیل کے ایک اور پہلو کا جائزہ بھی لیتے جائیں۔ جو بچوں کی سالگرہ کی بنیاد پہ میلاد النبی ﷺ کے منانے کی جائزیت کا اصول ڈھونڈتے وہ یہ کیوں بھول جاتے کہ کون سی ایسی برتھ ڈے پارٹی منعقد ہوتی جس میں جس کی سالگرہ ہو اس کو عزیز و اقارب دوست احباب اور والدین کی جانب سے تحفے تحائف وصول نہیں ہوتے۔ تو کیا ہر سال نبی کریم ﷺ کا میلاد مناتے ہوئے ہم نے نبی کریم ﷺ کو کوئی تحفہ دیا؟ نبی کریم ﷺ کس طرح کے تحفے وصول کر کے خوش ہوں گے اس کا کبھی تخمینہ لگانے کی کوشش کی؟

نبی کریم ﷺ نے 23 برس ایک خاص مقصد کے تحت اپنی زندگی کو مصیبتوں کی نظر کیے رکھا۔ اپنے عزیزوں اقارب کی زندگیوں کو پیش آنے والی جنگ کی نظر ہوتے دیکھا۔ اپنا شہر چھوڑ کر دیار غیر میں بسنے پہ مجبور ہوئے لیکن اپنے مقصد کو پس پشت نہیں ڈالا تو کیا جس کا میلاد منایا جا رہا ہے اس کا مقصد بھی ہمارے پیش نظر ہے کہ نہیں؟

نبی کریم ﷺ پہ پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ کو اس مقصد کی روح اور حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے راستے سے آگاہ کیا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے نبوت کی ذمہ داریوں کو بوجھ اپنے کندھوں پہ محسوس کیا تو پورا جسم پسینے سے شرابور ہو گیا۔ گھر واپس آئے تو اپنی شریک حیات ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ سے ارشاد فرمایا کہ مجھ پہ کوئی لحاف اوڑھا دو ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی کیفیت کا ذکر قرآن مجید میں آپ کو یا ایھالمزمل کہہ کر کیا۔

اللہ کا ایسے مخاطب کرنا ہی آپ ﷺ کے مقصد کو تعین کرنا تھا۔ مزمل صرف چادر اوڑھنے والے کو ہی نہیں کہتے۔ عرب اونٹوں پہ کجاوے ڈال کر سفر کیا کرتے تھے۔ جس میں ایک دو شخص کجاوے کے دونوں اطراف میں بیٹھا کرتے تھے۔ یہ قافلے مہینوں کی مسافت طے کیا کرتے تھے۔ قافلہ بان کے لیے بہت مشکل مرحلہ ہوتا تھا کہ ایک تو ایسے ہم وزن جوڑے ترتیب دینا جو کجاوے کی اطراف میں بیٹھ جائیں اور توازن خراب نہ ہو۔ دوسرا ایسے ہم وزن جوڑے ترتیب دینا جو ہم مزاج بھی ہوں کیوں کہ مہینوں کی مسافت کی ہم مزاج کے بغیر طے کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کجاوے پہ بیٹھنے والے یہ دو ہم وزن اور ہم مزاج افراد ذمیل کہلاتے ہیں۔ قافلے کو اس ترتیب سے منظم کرنے کے عمل کو تذمیل جبکہ ایسے قافلہ بان کو مزمل کہا جاتا ہے۔

جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مزمل کہا تو آپ ﷺ کی نگاہوں نے مستقبل کی مشکل سفر کا اندازہ کر لیا تھا کہ ایک ایسی جماعت کی تشکیل مقصود ربانی ہے جو کہ ہر لحاظ سے ہم مزاج ہو۔ اس ذمہ داری کے بوجھ کی شدت کا اندازہ اسی سورۃ کی اگلی آیات میں لگایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ مزمل کی پانچویں آیت میں ارشاد فرمایا ہم عنقریب آپ پر ایک بھاری بوجھ ڈالنے والے ہیں۔ اور پھر جب آپ اپنے مشن میں مکمل طور پہ کامیاب ہو گئے یا ایسے افراد میسر آنا شروع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اسی بوجھ کی بابت ارشاد فرمایا۔ اور کیا آپ سے آپ کا وہ بوجھ نہیں ا ار دیا جس نے آپ کی کمر جھکا رکھی تھی۔

نبی کریم ﷺ کی امت کے متعلق سب سے بڑی فکر بھی یہ ہی تھی کہ کہیں میری امت بھی پچھلی امتوں کی طرح فرقوں میں تقسیم نہ ہو جائے۔ اسی تناظر میں آپ ﷺ نے امت کو جسد واحد سے تشبہ دی۔ قرآن نے مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی پکڑنے اور تفرقے میں نہ پڑنے کا صریح حکم دیا۔ پھر ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے تفرقہ پیدا کیا۔ پھر ایک جگہ ارشاد فرمایا جن لوگوں نے اپنے دین کو فرقوں میں بانٹ دیا اور ٹولوں میں منقسم ہو گئے تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان معاملہ اللہ ہی کے سپرد وہ ہی ان کو بتائے گا کہ یہ کیا کرتے رہے ہیں۔

قرآن نے جس وضاحت سے عقیدہ توحید، رسالت اور آخرت بیان کیا ہے اسی صراحت سے اتحاد امت بیان کیا ہے۔ امت میں فرقہ بندی کا ناسور صدیوں سے سرایت کر چکا ہے جس کا باعث تاریخ اور دیگر کتب کو قرآن مجید پہ حاکم بنانا ہے۔ ہم ماضی میں اپنی تاریخ کا قرآن کے تناظر میں جائزہ نہیں لے سکے بلکہ ہر طرح کی جھوٹی سچی روایات کو صدیوں کا سفر طے کر واکر آج کے دور تک محفوظ کیا ہے جس کی وجہ سے صدیوں پرانی عرب۔ عجم سیاسی کشمکش کے تناظر میں لکھی ہوئی تاریخ کو بھی قرآنی کی طرح سچ مان کر اس پہ عمل پیرا ہیں۔

اس وقت تمام مسلمان ممالک نظریاتی مماثلت کے باوجود ایک دوسرے سے ایک سو اسی کے زاویے پہ ہیں۔ اور اس دوری کی وجہ مسلم تاریخ ہے۔ تاریخ نے عقیدے کو مات دے رکھی ہے۔ مسلمانوں میں اتحاد کی رکاوٹ دو سطح پہ ہے۔ ایک عوامی سطح پہ جبکہ دوسری حکومتی سطح پہ۔ حکومتی سطح پہ رکاوٹ کی وجہ حکمران طبقے کا مالی مفاد ہے۔ جس کی پاسبانی اسی صورت میں ممکن ہے جب عوام کو عدم استحکام سے دوچار رکھا جائے۔ دوسری طرف عوامی سطح پہ رکاوٹ کی بڑی وجہ حکمران طبقے کا مفاد ہے لیکن لکھی گئی تاریخ کو اس ضمن میں بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخی اختلاف کو کم ترین سطح پہ کیسے لایا جا سکتا ہے؟ اس سلسلے میں ہم امکان (Probability) کو بطور حکمت عملی استعمال کر سکتے ہیں۔ کیونکہ تاریخ کے درست ہونے امکان جتنے فیصد ہے اتنے فیصد یہ امکان بھی موجود ہے کہ وہ ٹھیک نہ ہو۔ یعنی جو ہمارے فرقے ہمیں بتاتے ہیں کہ فلاں فلاں غلط تھا اس بارے ہم اس مکان کی حکمت عملی کو اختیار کریں کہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ سب ٹھیک ہوں۔ اس سے کیا فائدہ ہو گا؟

اگر تو ہمارے فرقے ماضی کی کسی سیاست یا دشمنی کے پیش نظر تاریخ کو غلط طور پہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے تو اس امکان کے تحت ہم ماضی کی اس سیاست کا شکار نہیں ہوں گے۔ اب اس امکان کو اپنے فرقے کی فراہم کردہ معلومات کے مقابلے میں جگہ دینے کے لیے کسی مضبوط دلیل کی ضرورت پڑے گی۔ جو قرآن پاک کی اس آیت سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی۔ اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لیے وہ ہے جو تم کماؤ گے۔ اور وہ جو کچھ کرتے تھے اس بارے میں تم سے کچھ پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔ (البقرہ 134 )

یہ آیت ہمیں ایک جواز فراہم کرتی ہے کہ اگر مرتب کردہ تاریخ درست بھی تھی تو ہم نے اس آیت کی روشنی میں ماضی کے گڑھے مردے اکھاڑنے سے انکار کر دیا۔ تاریخ کو یہ اجازت دے کر کہ وہ ہمارے عقیدے کی جگہ لے لے ہم نے خود کو فرقہ فرقہ کر لیا اور قرآن مجید کی اس آیت کو پس پشت ڈال دیا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو تفرقہ میں نہ پڑو۔

ہم اگر آج عید میلاد النبی ﷺ منانا چاہتے ہیں تو دین میں تفرقہ ڈالنے کی سوچ ختم کرنے کا عہد کرنا چاہیے تاکہ نبی پاک کا امت سے متعلق فکر مند ہونا باقی نہ رہے۔ نبی کریم ﷺ جس چیز کے بارے سب سے زیادہ غم زدہ تھے اس میں اضافے کا باعث بن کر کبھی بھی نبی ﷺکی شفاعت کے حقدار نہیں رہیں گے۔ نبی کریم ﷺ کی سالگرہ کا تحفہ امت سے تفرقہ بازی کا خاتمہ ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments