عائشہ اکرم، مینار پاکستان اور ہمارا مقدمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غدر کے بعد دہلی اجڑنے کی باتیں محض افسانہ ہیں۔ دہلی تو تب اجڑی تھی جب مرزا نوشہ یعنی ہمارے حضرت اسداللہ خاں غالب راہی سفر فنا ہوئے تھے۔ حضرت غالب کے بعد میر انیس نے وہ علم تھاما کہ جس کے امیں کبھی سودا و میر تقی و غالب تھے۔ یہ میر انیس ہی تھے جنہوں نے مراثی لکھ کر اردو ادب کے قطرے کو قلزم کر دیا۔ ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ دنیائے ادب کو پیش کرنے کے لیے اردو ادب کے پاس صرف غالب کی غزلیں اور میر انیس کے مراثی ہیں۔ آج جب آپ کی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرنے کو کمر سیدھی کی تو میر انیس خوب یاد آنے لگے۔

شیر اٹھتے نہ تھے دھوپ کے مارے کچھار سے
آہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سے

کربلا کے میدان میں گرمی کی شدت کا نقشہ کھینچنے کا ہنر صرف انیس کے پاس ہے اور گرمی اس قدر ہے کہ شیر کچھار سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ان لوگوں کو بھی درپیش ہے جنہوں نے عائشہ اکرم کا ساتھ دیا تھا کہ وہ اب دبکے بیٹھے ہیں گویا کہ دائیں بازو والے گرمی کی شدت ہیں۔ درآں حالے کہ دبکنے کی ضرورت کچھ نہ تھی۔ لیکن ہمارے ایک مہربان کے آنسوؤں نے ریت کے ذروں کو مہتاب بنا دیا۔ سید اقرار الحسن روتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ پچھلے دس سالوں میں میں نے پاکستان کے لیے جو کچھ کیا ہے اس کے بدلے معاف فرما دیں کہ میں نے عائشہ اکرم کو سپورٹ کیا تھا۔

جب آپ اپنی فکر، تدبر، سوچ، اور دلائل کی عمارت کی بنیادیں عمیق پانیوں پر کھڑا کرتے ہیں تو پھر رو کر معافی مانگنے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔ سید صاحب اگر عقل کو بروئے کار لاتے تو یہ کہنے پر خود کو مجبور پاتے کہ ہم نے عائشہ اکرم کی حمایت تو نہیں کی تھی، ہم نے تو اس لڑکی کی حمایت کی تھی جس کو ہوس کے ناخنوں سے نوچا گیا۔ اور ہم ہر اس عورت کی حمایت کریں گے جس کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جائے گا۔ اب چوں کہ عائشہ نے یہ سارا سین فلمانے کا منصوبہ اپنے دست راست ریمبو سے مل کر بنایا تھا اس لیے اس کے ساتھ تو ہونا ہی چاہیے تھا جو ہوا۔ یہ وہ دلیل ہے جو دائیں بازو والے سامنے لا رہے ہیں۔ آئیے ذرا اسی دلیل کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔

فرض کیجیئے کہ ایک شخص آپ کو برائی کی دعوت دیتا ہے اور آپ برائی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ برائی کرنے کے بعد کیا آپ یہ کہہ سکیں گے کہ میں نے تو برائی اس لیے کی کہ مجھے دعوت دی گئی تھی۔ سیدنا یوسف بن یعقوب اگر متوجہ زلیخا کی طرف ہو جاتے تو کیا یہ دلیل دی جاتی کہ متوجہ سیدنا یوسف اس لیے ہوئے کہ ان کو دعوت دی گئی تھی۔ اگر آپ کو اس طرح کی دعوت جائے تو کیا آپ عقل کا استعمال نہیں کریں گے۔ عائشہ اکرم نے جو بے وقوفی کی سو کی لیکن کیا اس بنیاد پر جو سلوک اس کے ساتھ ہوا کیا وہ درست تھا۔ ذرا سوچیئے!

اب ایک اور مفروضے پہ بات کرتے ہیں۔ ایک رقاصہ جو رقص کے جواہر دکھانے کسی محفل میں گئی ہے (رقص کی جگہ مجرے کا لفظ استعمال ہو سکتا تھا لیکن نہیں کیا کہ طاہرہ کاظمی پہ یہ فتوی لگ چکا ہے کہ ایسے الفاظ کے استعمال سے پورنوگرافی کی بو آتی ہے ) ۔ اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ محفل کی برخاستگی پر اس رقاصہ کا ریپ ہو جاتا ہے۔ کیا یہ دلیل دی جائے گی کہ ریپ اس لیے ہوا کہ وہ رقص کرنے گئی تھی۔ دینے والے یہ دلیل دے سکتے ہیں مگر یہاں بات صاحبین عقل کی ہو رہی ہے۔ یہاں قدم قدم پر برائی کی ترغیبات ہیں تو کیا ہر برائی کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہا جائے کہ وجہ متوجہ ہونے کی ترغیبات کی بہتات ہے۔

سیدنا عمر کے طرز حکمرانی کی مثالیں بچوں تک کو ازبر ہیں اور یہ قول تو گویا ابتدائی سالوں میں پڑھا دیا جاتا ہے کہ تقوی یہ ہے کہ دامن کو سمیٹ کر خار دار جنگل میں سے گزرا جائے۔ اب اگر کوئی دامن نہ سمیٹے اور کانٹوں سے الجھنا چاہے تو ایسے کو کیوں کر متقی سمجھا جائے۔ کانٹے تو ہوں گے لیکن دیکھنا یہ ہے آپ کس حد سمیٹتے دامن کو ہیں۔ کانٹوں سے الجھ کر الزام اگر کانٹوں کو دینا ہے تو شوق سے دیجیئے۔

ہم یہ اقرار کر لیتے ہیں کہ عائشہ کے ساتھ جو کچھ ہوا بالکل ٹھیک ہوا اور اس کی اپنی وجہ سے ہوا۔ مگر اسی دن رکشے میں بیٹھی ہوئی دو بچیوں کے ساتھ جو ہوا، وہ کیوں ہوا۔ شاید اس لیے کہ رکشے کے چار طرف لوہے کا جنگلہ نصب نہیں تھا یا پھر اس لیے کہ وہ بچیاں رکشے میں بیٹھ گئیں۔ اس واقعے پر بھی اگر آپ کے پاس کوئی جواز ہے تو پیش کر دیجیئے وگرنہ لوگ کیا کہیں گے۔

طوالت پر معذرت کہ ایک پہلو ابھی تشنہ لب ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایسے واقعات کے میڈیا پر رپورٹ ہونے سے پاکستان کی عزت پر خرف آتا ہے اور بحیثیت مجموعی قوم کی بدنامی ہوتی ہے۔ یہی تو وہ رویہ ہے جو قوموں کے پاؤں میں زنجیر بن جاتا ہے اور بہتری کی طرف قدم اٹھنے نہیں دیتا۔ جب غلطیوں کی نشان دہی نہ ہو گی تو بہتری کیسے آئے گی۔ اگر کل سے یہ راگ الاپا جائے پاکستان کا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ ہے تو کیا اس سے ہمارا معاشرہ سچ میں مثالی ہو جائے گا۔ غلطیوں کی نشان دہی پر واویلا نہیں کرنا چاہیے آگے بڑھنے کے لیے یہ سوچنا چاہیے کہ ان غلطیوں سے سیکھ کر بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments