روس کی تیز رفتار معاشی اور ٹیکنالوجیکل ترقی

روس گزشتہ ایک دہائی سے تیزی کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے سوویت یونین کے انہدام کے بعد نہ صرف روس کو استحکام بخشا بلکہ بین الاقوامی سیاست میں ایک بار پھر اسے ایک اہم کردار کا حامل ملک بنا دیا ہے۔
معیشت کے میدان میں روس کی غیر معمولی پیشرفت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ رواں برس جنوری تا اگست یورپی یونین کو روسی برامدات میں 48.7 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ یورپ کے سب سے بڑے شماریاتی ادارے، یورو سٹیٹ کے مطابق، گزشتہ سال اسی دورانئے میں برامدات کا حجم 73.7 ارب ڈالر تھا، جو اب 109.7 ارب ڈالر یو گیا ہے۔
اب روس چین اور امریکہ کے بعد ، یورپ کو اپنی مصنوعات برامد کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔ تجارتی توازن کے میزانیے میں بھی روس یورپ سے کافی آگے ہے۔ یورپی یونین سے روس کی درآمدات محض 66.8 ارب ڈالر ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ توانائی کے بحران میں مبتلا اکثر یورپی ممالک روس سے قدرتی گیس کی ترسیل میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی دلچسپی کا باعث ہے کہ بعض اختلافات کے سبب 2014 سے یورپی یونین نے رکن ممالک پر روس کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
پیسہ ایسی چیز ہے کہ معاشی ترقی ہی کسی بھی دوسرے شعبہ میں ترقی کے لئے در باز کرتی ہے۔ معاشی استحکام کی وجہ سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی روس نے ایک بار پھر سے آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ اتوار کو روس کی ایک اداکارہ اور فلم ڈائریکٹر (انٹرنیشنل سپیس سٹیشن ) آئی ایس ایس میں 12 دن کی خلائی یاترا کے بعد زمین پر واپس آ گئے۔ ، ”دی چیلنج“ کے نام سے فیچر فلم کی فلم بندی کے لئے آئی ایس ایس گئے تھے۔ اگر اس فلم پر کام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا، تو خلا میں بنائی جانے والی یہ دنیا کی پہلی فلم ہو گی۔
یاد رہے کہ سوویت دور میں روس خلا میں کئی نئے ابواب کا آغاز کرنے وال ملک رہ چکا ہے۔ جیسے کہ پہلا خلائی سٹیشن سپوٹ نک، خلا میں پہلا انسان یوری گیگارین، پہلی خاتون ویلینیتا، پہلا جانور لائیکا نامی کتا، خلا میں بھیجنے والا ملک روس ہی ہے۔ یعنی روس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ خلا میں نوع انسانی کی دسترس کا آغاز کرنے والا ملک ہے۔
زمین پر بھی ترقی کا سلسلہ جاری ہے۔ ابھی چند روز پہلے، ماسکو دنیا کا پہلا بڑا شہر بن گیا جہاں صرف چہرہ دکھا کر میٹرو سروس کے ذریعے سفر کیا جا سکتا ہے۔ جی ہاں، صرف چہرہ، انگوٹھے کے نشان، کسی کارڈ یا کیش کی کوئی ضرورت نہیں۔ مسافروں کو فقط اپنے موبائل فون پر اپنی تصویر اور بینک کارڈ کو ایکٹیویٹ کرنا ہو گا۔ یہ سہولت روسی دارالحکومت میں 240 سٹیشنز پر دستیاب ہے۔
تاریخ سے شناسائی رکھنے والے جانتے ہیں کہ امریکہ ابھی دنیا سے متعارف بھی نہیں ہوا تھا جب روس عالمی سیاسی بساط کا بہت طاقتور کھلاڑی ہوا کرتا تھا۔ امریکہ بہادر کی طاقت اپنی جگہ لیکن خود امریکہ اور مغربی یورپ کے اعداد و شمار کے مطابق دوسری عالمگیر جنگ میں فاشسٹ جرمنی کی دو تہائی فوجی قوت کو اکیلے روس نے تباہ کیا تھا۔ سوویت یونین کی شکست و ریخت نے روس کو بے حد کمزور کر دیا تھا، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ ولادیمیر پیوٹن بارے ان کے ناقدین کچھ بھی کہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انتہائی نامساعد حالات کے باوجود، پیوٹن نے واقعی خود کو مرد آہن ثابت کرتے ہوئے روس کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کیا ہے۔ اور آئندہ برسوں میں روس کی اہمیت میں اضافے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔

