سانپوں کو سانپ سونگھ گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل کا نام جھوٹ تھا۔ اس جنگل کو اپنے جنگل ہونے ہر اس قدر اطمینان تھا کہ اکثر جنگل کو جنگل کہنا ہی معیوب لگتا تھا۔ جنگل کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہاں سب کو سانپ نے سونگھ رکھا ہے۔ جنگل میں شور تو ہر وقت مچا رہتا تھا مگر اس شور میں بھی سکوت تھا۔ جنگل کے پرندوں کی آوازوں میں سر تھا نہ چہچہاہٹ، بس سانپ نے سونگھ رکھا تھا۔ سکوت تب ٹوٹتا جب کسی کی دم پر کوئی درندہ پاؤں رکھتا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے شور تھم جاتا اور درندے کا پاؤں بھی دم پر برقرار رہتا۔ بندروں کے بارے تو ضرب المثل عام تھی کہ یہ بنا کسی بات کے بس اس لئے شور مچائے رکھتے ہیں کہ سب کو پتا ہو کہ بندر موجود ہیں اور یہ جنگل ان کا ہے۔ وہاں کا ناک نقشہ بھی ایسا تھا کہ ہر شاخ پر الو، ہر درخت پر بندر اور کونے پر اوباش بھیڑیے ہی نظر آتے۔ جنگل کا کوئی قانون تو تھا نہیں، اس لئے ہر درندے کو کھلی چھوٹ تھی۔

دوسرے جنگلوں میں صرف درندوں کا خوف برپا ہوتا تو اس جنگل میں ہر الو، ہر بندر، اور ہر بھیڑیے کا خوف طاری رہتا۔ یہاں تلک کہ جنگل میں کیڑے مکوڑوں کے شر سے بھی کوئی معصوم صفت جانور محفوظ نہ تھا کہ قانون کو سانپ سونگھ چکا تھا۔ ہر درخت کی اوٹ میں، جھاڑیوں کے اس پار، دریا کے کنارے، تالاب میں، کھلے میدان میں بس جس بڑے درندے کا جی مچلتا وہ کسی کمزور جانور کو اچک لیتا۔ اسی طرز پر ایک روز سانپوں نے حریف کے انڈوں پر دھاوا بول دیا۔ حریف مادہ و نر کو ہی نہیں ان کے انڈوں سے نکلے بچوں کو بھی اچک کر لے گئے۔ سارے جنگل نے یہ تماشا دیکھا مگر مرنے والے بچے اور نگلے جانے والے بچے ان کے نہیں تھے۔

جنگل تھا، جنگل کو کیا لگے کہ کس نے کس کے بچوں اور آشیانے پر دھاوا بولا تھا۔ مختصراً جنگل کو ابدی سانپ جو سونگھ چکا تھا۔ اس لئے سانپوں کو یہ ادراک نہ ہوسکا کہ اپنی قوم کے انڈوں کو یوں نگلنا ان کی نسل کو اس جنگل میں معدوم بھی کر سکتا تھا۔

جنگل کے جانور بہت اتراتے پھرتے کہ دوسرے جنگلوں میں ان کی بڑی گونج اور واہ واہ تھی مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ شاید سانپ اس بات پر متفق تھے کہ سب ان کے سونگھے ہوئے اونگھے پڑے رہیں تاکہ گلشن میں ان کا کاروبار چلتا رہے، بچے نگلتے رہیں اور بھیڑیے من موج کریں۔

یہ کہانی سن کر صنوبر نے اپنی کہانی شروع کر دی۔ ”سانپوں کا تو پتا نہیں مگر میں بہت اداس ہوں، میرا پنجاب جانے کا ذرا برابر بھی جی نہیں کر رہا۔ میری بلی نے ابھی کچھ دن پہلے ہی بچے جنے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ بلا بچے نہ کھا جائے“ ۔

صنوبر نے بڑے ہی دردناک لہجے میں اپنی روداد بتائی۔
”پہلے بھی بلا بلونگڑوں کو کھا گیا تھا“ ۔ صنوبر کی آواز میں نمناکی نے کچھ طول پکڑا۔
”میں بھی پنجاب چلی گئی تو ان بلونگڑوں کا کوئی والی وارث نہ ہو گا“ ۔

بلی نے چھ سنہری بلونگڑوں کو جنم دیا تھا۔ جن میں سے اب کی بار ایک بلونگڑا جس کا نام سہانا رکھا تھا، بلا اچک گیا۔

اپنے بچوں کو کھانا بھی کیسی درندگی ہے۔ درندگی بھی ہے، حیوانیت بھی اور شاید انسانیت بھی۔ یہ تہذیب بھی ہے اور جنگلی پن بھی۔ انسانیت کو گویا اچھے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے مگر انسان کا بھی تو ایسا شیوہ ہے نا؟ درندگی کو انسانوں نے ہی ادب میں تعصب کا نشانہ کچھ یوں بنایا کہ جب بھی درندگی کو انسانی فعل سے مستعار لیا تو الزام جانوروں پر تھوپ دیا گیا۔ یعنی انسان نے اپنی تعریف خود کی جبکہ بدترین عمل کرنے والا بھی وہ خود تھا۔

ضروری ہے کہ ہم نوع خوری جانوروں میں ہی ہو یا جن کو ہم انسان جانور کہتے ہیں۔ انسان بھی تو آدم خور ہے۔ اس کی تہذیب بھی تو بہت حد تک جھوٹ نامی جنگل کی سی ہے۔ گوشت اتار کر کھانے اور کسی کو جان سے مارنے میں اتنا فرق روا نہیں رکھا جانا چاہیے۔ جان سے جانے والوں کو تکلیف دونوں دفعہ شاید برابر کی ہوتی ہے اور موت سے بڑھ کر کیا کوئی زندگی خور بھی ہو سکتا ہے؟ مگر اکثر موت دینے والا انسان بھی تو ہوتا ہے۔ کوئی غریب کے لئے ایسے حالات پیدا کرتا ہے کہ اس کی طبعی موت کسی کے کھاتے میں نہیں آتی، کوئی عورت اپنی جان خود لیتی ہے کہ اس کا جینا اب حرام ہے۔ یہ بھی تو موت کو مہیا کرنے کا انتظام ہی ہے؟

پھر سانپوں کی سن لیجیے۔ سانپوں بارے تو داستانیں مشہور ہیں کہ یہ بھی اپنے بچے نہیں چھوڑتے۔ کیا انسان اپنے بچے چھوڑ دیتے ہیں؟ سانپ اپنے کمزور، ماحول کا مقابلہ کرنے سے قاصر انڈوں کو خود کھا جاتے ہیں۔ قوموں میں بھی تو لوگ کمزوروں بالخصوص کمزور بچوں کو کھا مطلب مار ڈالتے ہیں۔ مرنے کے لئے ضروری ہے کہ سانس بند ہو؟ انسان کہاں سانپوں سے کم ہوئے پھر؟

سنپولیے تو خوامخواہ بدنام ہیں۔ جی لینے کی خاطر تو ان کو بھی خوب جتن کرنے پڑتے ہیں۔ بالکل غریب، کمزور، بے آسرا، شک کی نظر سے دیکھے جانے والے انسانی بچے کی طرح۔ کبھی یہ ”مالک“ کی مار کھاتے ہیں، کبھی یہ قاری کا تشدد سہتے ہیں، کبھی اپنے ہی گھر میں کسی ”عزیز“ جنسی درندے کی نگاہوں اور ہاتھوں سے دور بھاگتے ہیں۔ کمزور سنپولیے کبھی انڈوں میں لاچار اور مریل ثابت ہوں تو ناگن اور ناگ خود ان کو نگل لیتے ہیں۔ جیسے انسان غیرت کے نام پر اپنی ہی بیٹیاں نگل لیتے ہیں۔

ان کے گوشت کو گرم گرم بندوق سے اڑاتے ہیں، پھر وہی تیز دھار اور برق رفتار گولیاں بیٹیوں کے پارچے ان کے بدن سے جدا کرتی ہیں۔ سانپ تو سانپ رہے، ان کو کسی نے تہذیب سکھائی، نہ کوئی دین ان پر اترا، ان کی اپنی ریاست ہوئی نہ حکومت، ان کو کسی نے وضاحت دینے کا موقع بھی نہ دیا اور بس سانپ کہہ کر ابد تک بے آبرو و رسوا کر دیا۔ مگر خود کو عالی مرتبت اور شرف بخش دیا کہ ہم انسان ہیں اور بہت اعلی انسان ہیں۔

میں سانپوں کی شان میں مدحت سرائی کی حقدار ہوں نہ میں ان کو اچھا نام دلوانا چاہتی ہوں۔ بس انسانی اور سانپ کی فطرت میں ہم آہنگی کی چھوٹی سی تصویر بنانا چاہتی ہوں۔ یہ سانپ بھی اپنے انڈوں کو نگلتے ہیں۔ اس خاص انداز سے نگلتے ہیں کہ انڈے کا چھلکا نہایت مہارت سے باہر پھینک کر گوشت پوست نما زردی سفیدی اندر انڈیل کر کنڈلی مارے بیٹھ جاتے ہیں۔ انسان بھی تو کس مہارت سے کسی انسانی بچے اور عورت کو مار کر، نعش ٹھکانے لگاتے ہیں۔ جنسی تشدد کرتا ہے اور مرتے دم تک کسی کو علم نہیں ہوتا۔ کیا یہ انڈا نگلنے سے کم ہے؟ اکثر تو فرد جرم عائد نہیں ہوتی تو کسی نظام کی نظر التفات ان کو چھپا دیتی ہے۔ کسی کے ہاتھوں کم سن بچے مر جائیں یا اس قدر طیش میں آئیں کہ بچوں کو خود مار دیں اور کہیں سے آواز نہیں اٹھتی کیونکہ سانپ جو سونگھ چکا ہے۔

کبھی جرگہ کہتا ہے کہ مار کر ٹھکانے لگا دو یا کبھی غنیمت کے نقصان کا ٹھپا لگا دو۔ انڈوں سے نکلے سنپولیے جو انسانی عورت کی طرح ایک خاص ماحول میں کمزور تصور کیے جاتے ہیں، ان کے پارچے بھی سانپ کے منہ کی تپش اور جبڑوں کی دھار سے الگ تھلگ ہو کر ٹوٹتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کسی عورت کا تشدد زدہ جسم آلہ تشدد سے بہت سے پارچوں میں بدلتا ہے یا کوئی گولہ کسی کم سن کو موت کی خوراک بناتا ہے۔

سانپوں اور انسانوں میں کتنی مماثلت ہے۔ نر سانپ اور نر انسان اپنی نوع کی مادہ کو اپنی انا سمجھتے ہیں۔ دونوں ایک دوجے سے مادہ کے لئے جھڑپتے ہیں۔ پھر نر مادہ کو اس لئے مار دیتا ہے کہ اس نے اس کی بجائے کسی دوسرے نر کے ساتھ ملاپ کیا۔ یہی نہیں مادہ ناگن کے پیٹ سے انڈے نکال کر سانپ اس لئے کھا جاتا ہے کہ یہ انڈے اس کے حریف کے تھے، بالکل انسانی نر کی طرح۔ جو طیش میں آئے تو حاملہ عورتوں کے پیٹ سے نومولود نکال کر تلواروں پر چڑھا دے، بیٹی پسند سے شادی کر لے تو گولیوں سے بیٹی ہی نہیں اس کی نومولود اولاد کو بھی چھلنی کر دے۔

لڑکی کو دروغی محبت اور شادی کے لالچ میں ملاپ کرنے پر مجبور کر کے اس کے یہاں اپنی اولاد کو ہی قبرستان یا کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دینا ویسا ہی عمل ہے جیسا جنگل میں سانپ کرتے ہیں۔ لڑکی رشتے سے انکار کیا کرے اس کی جان لے لی جائے، اتنی انا ہو کہ قبر سے نکال کر اپنی کال کوٹھری میں اس کی نعش سجا دی جائے ہو بہو سانپوں کی طرح۔ سانپ بھی مادہ کو ملاپ سے انکار پر اکثر ایسے ہی مار دیا کرتے ہیں۔ سانپ تو سانپ ہیں اور سانپ ہی رہیں گے، پھر انسان کیوں خود کو سانپ سے افضل گردانتا ہے جبکہ وہ سانپ سے کم نہیں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments