فلورنس اٹلی کا ایک خوبصورت شہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب تک میں نے فلورنس نہیں دیکھا تھا میرا گمان نہ تھا کہ اتنی پر کشش بھی کوئی جگہ ہو گی۔ پر کشش کی بجائے اگر میں سحر انگیز کہوں تو مناسب ہو گا اور سحر ایسا کہ بے خود کر دے۔ ہم ریلوے سٹیشن سے ٹیکسی میں سوار ہوئے اور ڈرائیور سے کسی ہوٹل میں جانے کا کہا۔ جگمگاتی روشنیوں میں گاڑی چلتی رہی اور ایک بارونق علاقے میں ڈرائیور نے ہمیں اتارا۔ گاڑی سے باہر نکلے سامنے ہوٹل کا دروازہ تھا جس میں سے لابی کی خوبصورت لائیٹس نظر آ رہی تھیں۔

دو تین سٹیپس چڑھنے کے بعد دروازے میں داخل ہوئے۔ سامنے ریسیپشن پر ذاتی کوائف کے اندراجات کے بعد کمرے کی چابی دیتے ہوئے ریسیپشنسٹ نے سیڑھیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اوپر جانے کے لئے کہا۔ دو تہائی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد زینے کا رخ دائیں جانب ہوا اور اوپر والی لابی نظر آئی جو نیچے والی لابی سے حسین تر تھی۔ زینے کو بھی قرینے سے پر کشش بنایا گیا تھا۔ پہلے فلور پر پہلا ہی کمرہ ہمیں دیا گیا تھا۔ کمرے میں داخل ہو کر فریش ہونے کے بعد گھومنے کے لئے نکل پڑے۔

بازار میں لوگ کافی زیادہ تھے جو زیادہ تر بائیں جانب جا رہے تھے۔ ہم بھی اسی طرف چلنا شروع ہوئے۔ کچھ زیادہ نہیں گئے ہوں گے کہ دریائے آرنو کے پل تک پہنچ گئے۔ پل کے اوپر خوبصورت چھت بنی ہوئی تھی اور اطراف سے دریا کا خوبصورت منظر نظر آ رہا تھا۔ لوگ سڑک پر چلتے آ رہے تھے ان میں کچھ تو رک کر دریا کی اطراف میں نظر ڈال لیتے تھے لیکن زیادہ تر اپنی ہی دھن میں آگے گزرتے رہے۔ زیادہ تر لوگ اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔

ایسا نہیں تھا کہ آگے کسی خاص منزل کی طرف گامزن تھے بلکہ یونہی وقت گزارنے کے لئے چہل قدمی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ شاید ویک اینڈ کی وجہ سے لوگوں کی بھیڑ زیادہ تھی مگر سب لوگ پر سکون تھے نہ شور شرابا نہ افراتفری اور نہ ہی دھکم پیل۔ عجب سا مسحور کن ماحول تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ طلسماتی ماحول میں ہم روشنیوں کے سمندر میں تیرتے جا رہے ہیں بغیر کسی کوشش کے اور بنا کسی رکاوٹ کے۔ سنا ہے کہ بعض اوقات خواب حقیقت لگتے ہیں مگر یہ تو جیتی جاگتی حقیقت ایک سہانے خواب کا روپ دھارے ہوئے تھی۔

لوگوں کے رویوں میں ایک ٹھہراؤ تھا۔ ارد گرد کے ماحول سے بے خبر جذبوں سے سرشار ہر کوئی اپنے ساتھی سے گفتگو میں منہمک تھا۔ کافی وقت گزر چکا تھا لوگ آگے نکل گئے جبکہ ہمیں ایک طرف اوپر چڑھتی ہوئی گلی نے متوجہ کیا اور ہم اس طرف چل دیے۔ فلورنس کی گلیاں تو مشہور ہیں۔ انتہائی صاف اور خوبصورت پتھروں سے بنی ہوئیں گلیوں میں ساتھ ساتھ جڑے ہوئے پرکشش گھر جن میں سے کئی گھروں کے باہر خوبصورت پھول اور پودے رکھے ہوئے بھلے لگ رہے تھے۔ گلیوں میں گلیاں نکلتی رہیں اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم ایک سڑک پر آ نکلے۔ ہم واپس ہوٹل کی جانب چلنے لگے۔ ہوٹل پہنچے تو رات کا بیشتر حصہ گزر چکا تھا۔

فلورنس اٹلی کا ایک خوبصورت شہر ہے جو اپنی ثقافت، فن تعمیر، تجدیدی فنون اور یادگاروں کے لئے مشہور ہے۔ مائیکل اینجلو سمیت اس شہر نے بے شمار بین الاقوامی شہرت یافتہ فنکار پیدا کیے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کی فنکارانہ صلاحیتوں اور فن تعمیر کے ورثہ کے باعث اسے دنیا کا خوبصورت ترین شہر بھی کہا جاتا ہے۔ فیشن کی دنیا میں بھی فلورنس کا ایک مقام ہے۔ اس شہر میں بے شمار عجائب گھر اور آرٹ گیلریز ہیں جس کی وجہ سے بے شمار سیاح یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔

مائیکل اینجلو کا تراشیدہ سب سے مشہور مجسمہ ڈیوڈ بھی یہاں کے ایک عجائب گھر میں رکھا ہوا ہے۔ شہر کی سب سے مشہور جگہ فلورنس کیتھیڈرل ہے۔ فن کاروں کے اس شہر میں جہاں نظر دوڑائیں فن پارے ہی نظر آتے ہیں چاہے وہ عمارتیں ہوں یا یادگاریں، مصوری کے اثاثے ہوں یا مجسمے، بازاروں کی سجاوٹ ہو یا گھروں کی تزئین و آرائش ہر چیز میں فن کی جھلک نظر آئے گی۔

اگلے روز کی ابتدا ہم نے فلورنس کیتھیڈرل کی وزٹ سے کی۔ اسے سینٹ ماریہ کیتھیڈرل کہا جاتا تھا لیکن اب یہ فلورنس کیتھیڈرل کہلاتا ہے۔ کیتھیڈرل اتنا بڑا اور خوبصورت ہے کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ فلورنس آنے والا ہر سیاح یہاں ضرور آتا ہے۔ یہ تین عمارتوں پر مشتمل کمپلیکس ہے۔ مین کیتھیڈرل، بیپٹسٹری اور بیل ٹاور۔ کیتھیڈرل کی تعمیر تیرھویں صدی کی آخری دہائی میں شروع ہوئی ایک سو چالیس برس میں اس کی تکمیل ہوئی جبکہ بیرونی آرائش حالیہ صدیوں تک ہوتی رہی۔

کیتھیڈرل کی عمارت بہت کشادہ اور انتہائی خوبصورت ہے۔ خاص طور پر گنبد اپنے وقت کا دنیا کا سب سے بڑا گنبد تھا اور اب بھی اینٹ کے بنے ہوئے گنبدوں میں دنیا کا سب سے بڑا گنبد ہے جس کی اونچائی پونے چار سو فٹ ہے۔ گنبد کے اندر چاروں طرف مذہبی پینٹنگز بنی ہوئی ہیں۔ یہ عمارت جتنی خوبصورت اندر سے ہے اس سے کہیں زیادہ باہر سے حسین اور دلکش نظر آتی ہے۔ پوری عمارت کا بیرونی حصہ بیل ٹاور سمیت سبز، گلابی اور سفید سنگ مر مر سے مزین کیا گیا ہے۔

فلورنس کیتھیڈرل کا بیل ٹاور بھی انتہائی خوبصورت ہے۔ گئیوٹو نامی پینٹر اور ماہر تعمیر نے اسے ڈیزائن کیا اور بنانا شروع کیا۔ ٹاور کے پانچ لیولز ہیں۔ اس کے ڈیزائن میں اچھوتا پن یہ ہے کہ ٹاور مربع شکل میں بنایا گیا ہے جس کی چاروں سائیڈز سینتالیس فٹ کی ہیں اور چاروں کونے گولائی میں بنائے گئے ہیں جس کے سبب اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔ سبز، گلابی اور سفید سنگ مرمر کے حسین امتزاج نے ڈیزائن کو انتہا کی جلا بخشی ہے۔

پہلے لیول کی دیوار پر چاروں اطراف میں پتھر کی تختیوں پر کنندہ تصویروں کے ذریعے ابتدائے آفرینش سے انسانی تاریخ رقم کی گئی ہے۔ آرٹ کے یہ نمونے چوری ہو جانے کے ڈر سے وہاں سے اتار کر کیتھیڈرل کے اندر میوزیم میں رکھے گئے ہیں اور ان کی اصل جگہ پر نقلی تختیاں لگا دی گئی ہیں۔ گئیوٹو کی زندگی نے وفا نہ کی اور وہ صرف ایک لیول بنا سکا۔ اس کے بعد ایک اور ماہر تعمیر پسانو نے کام شروع کیا مگر وہ بھی تعمیر میں صرف ایک لیول کا اضافہ کر سکا اور آخر میں فرانسیسکو نے ٹاور کی تعمیر کو پایا تکمیل تک پہنچایا۔

تیسرے، چوتھے اور پانچویں لیول پر بڑی بڑی کھڑکیاں بنائیں اور ہر لیول نیچے والے لیول سے اونچا تھا تاکہ دور سے دیکھنے میں لیولز کی اونچائی ایک جیسی نظر آئے۔ فرانسیسکو نے گئیوٹو کے اصل ڈیزائن کے مطابق ٹاور کا اوپر کا نوکدار حصہ نہیں بنایا اور یوں اس کی اونچائی چار سو فٹ سے کم ہو کر 278 فٹ رہ گئی۔ اس کے ڈیزائنر کے نام پر اسے گئیوٹو بیل ٹاور بھی کہا جاتا ہے۔

ہم تقریباً چار سو سیڑھیاں چڑھ کر ٹاور کی چھت پر گئے تھے۔ چھت سے شہر کا دلاویز منظر دیکھ کر طبیعت شاد ہو گئی۔ چاروں طرف سے مناظر متاثر کن تھے۔ ایک ہی سیدھ میں ترتیب سے بنے ہوئے گھروں کی دور تک پھیلی ہوئی سرخ چھتیں بہت خوبصورت لگیں۔ کیتھیڈرل سے ملحقہ کھلی جگہ میں کافی چہل پہل تھی۔ وہاں پر سوغاتیں بیچنے والے بھی تھے اور بہت سے فن کار زمین پر ڈیسک لگائے سیاحوں کے پنسل سکیچ بنا رہے تھے اور اس کے عوض انہیں کچھ معاوضہ مل جاتا۔ میرے ساتھی کرنل لیاقت نے بھی سکیچ بنوایا تھا۔ تین چار منٹ میں سکیچ مکمل ہو گیا اور شکل سے صحیح مشابہت تھی۔

کیتھیڈرل دیکھنے کے بعد ہم کچھ دیر کے لئے شاپنگ ایریا میں گئے کچھ ضرورت کی اشیاء خریدیں۔ سہ پہر کے بعد ایک جگہ پر ہم نے دیکھا کہ چرچ سے باہر لوگ جمع تھے اور بینڈ پلے کر رہا تھا۔ قریب گئے تو معلوم ہوا کہ شادی کا فنکشن ہو رہا تھا۔ ہم بھی کھڑے ہو کر دیکھنے لگے۔ کچھ دیر کے لئے ہم رک گئے اور بینڈ کی دھنوں سے محظوظ ہوتے رہے۔ دلہا دلہن اور فنکشن کے شرکاء اپنی روایت کے مطابق رسموں میں مصروف رہے اور دیکھنے والے بھی تالی بجا کر داد دیتے رہے۔

ہمارا اس روز ویجیٹیرین فوڈ کھانے کا ارادہ تھا مگر معلوم نہ تھا کہ ایسا ریستوران کہاں ہے۔ تلاش کرتے ہوئے ہم ایک خوبصورت جگہ پہنچے۔ ایک گلی اوپر کی طرف جا رہی تھی جس کی اطراف میں ریستوران تھے۔ غالباً یہ فوڈ سٹریٹ تھی۔ انہی میں ہمیں ایک ویجیٹیرین ریستوران نظر آ گیا۔ تقریباً تمام ریستوران والوں نے سٹریٹ میں بھی ٹیبل لگائے ہوئے تھے۔ پہلے تو ہم سٹریٹ کے آخر تک گئے پھر واپس اسی ریستوران میں کھانا کھانے کے لئے ہم نے باہر لگے ٹیبل پر بیٹھنے کو ترجیح دی۔

لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے لگی تھی۔ جگمگاتی روشنیوں میں ڈھلوان پر لگی کھانے کی میزوں پر لوگ کھانے اور خوش گپیوں میں مشغول تھے اور سارا منظر ایک جھرن کی شکل اختیار کیے ہوئے تھا۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ہم ہوٹل میں واپس آ گئے۔ کچھ دیر کمرے میں آرام کیا اور چیک آؤٹ ہو گئے۔ ریلوے سٹیشن پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور ہماری فلورنس کی وزٹ اختتام کو پہنچی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments