پاکستان کے سماجی مسائل اور ان کا ممکنہ حل
ایک ملک تھا جس کا وزیر بہت ہی شاطر اور شیطان صفت تھا لوگوں کو بلاوجہ ایزا رسانی کے مواقع تلاش کیا کرتا تھا، اس ملک کی رعایا اپنی معاشی و معاشرتی ضرورتوں کی وجہ سے ایک دریا بکثرت عبور کیا کرتے تھے وزیر با تدبیر نے دیکھا کہ اس پل پر سے عوام الناس کا بکثرت آنا جانا رہتا ہیں، تو اس کے شیطانی دماغ میں لوگوں کو پریشان کرنے کا ایک منصوبہ آیا، اس نے بادشاہ کو تجویز پیش کی کہ کیوں نہ ہم لوگوں سے اس پل پر سے گزرنے کا محصول لیا کریں؟
بادشاہ نے اجازت دے دی اور لوگوں پر اس پل سے گزرنے کی چنگی یا محصول نافذ کر دیا گیا۔ لوگوں نے بلا چوں چرا محصول دینا شروع کر دیا، وزیر کو برا لگا کہ کوئی بگاڑ پیدا نہیں ہوا اور سب کچھ بڑے سکون سے چل رہا ہے تو اس نے محصول بڑھانے کی تجویز دی جو منظور ہو گئی، لوگوں نے اس بار بھی کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا اور خاموشی سے محصول ادا کرتے رہے۔ اس بار وزیر نے زیادہ سبکی محسوس کی اور بادشاہ سے کہا کہ کیوں نہ لوگوں سے محصول وصولی کے بعد دو دو جوتے بھی مارے جائیں اس طرح ان کے دماغ قابو میں رہیں گے، بادشاہ نے اس کی بھی اجازت دے دی، لہذا ہر بندے سے چنگی وصولی کے بعد دو دو جوتے بھی مارے جانے لگے، وزیر اس بار حیرت سے مرتے مرتے بچا کہ لوگوں نے اس بار بھی کسی منفی ردعمل کی بجائے یہ درخواست کی کہ جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دی جائے تاکہ ان کا وقت بچ سکے۔
پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی و سماجی مسائل کی روداد بھی کچھ اس کہانی سے ملتی جلتی ہے۔ قدرت کی تمام تر فیاضیوں کے باوجود یہاں کے بدعنوان سیاستدانوں، افسرشاہی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ اور خود عوام نے مل کر اسے مسائلستان بنا رکھا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں فوری اقدامات کیے جائیں۔ یوں تو پاکستان کے سماجی مسائل کی فہرست بہت طویل ہے مگر ہم نے اس مضمون میں چند فوری توجہ طلب مسائل پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے، جن کا حل ہوجانا ملک و ملت کے لئے بہت ہی سودمند ثابت ہو سکتا ہے جیسے :
غربت سے نجات: پاکستان میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ غربت ایک بڑا مسئلہ ہے، تقریباً 29.5 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ غربت کے ساتھ ساتھ عدم مساوات، قدرتی آفات، بیروزگاری، جاگیردارانہ نظام، نامناسب حکومتی نظام، تباہ حال صنعتیں اور ناخواندگی بھی غربت بڑھانے کے اسباب میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردی، ناقص صحت کا نظام، غیر ملکی قرضہ، افراط زر، نا انصافی، منشیات اور بدعنوانی بھی پاکستان کے معاشرتی سماجی مسائل میں شامل ہیں۔
اگر حکومت خلوص نیت کے ساتھ ملک کی حالت سدھارنا چاہتی ہے اور عام آدمی کو غربت کے شکنجے سے چھڑانا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرے اور ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو آسان بنا کر سرمایہ کاری کے فروغ کی راہیں کھولی جائیں، سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دے کر سرمایہ کاری پر آمادہ کیا جانا چاہیے۔ صنعتی و زراعتی نظام میں انقلابی بہتری لائی جائے تاکہ مقامی طور پر لوگوں کے حالات میں بہتری لائی جا سکے۔ محصولات میں نرمی کی جانی چاہیے۔ تعلیم پر خاص توجہ اور اخراجات کیے جانے چاہئیں تاکہ ناخواندگی مٹا کر تعلیم یافتہ اور ہنرمند معاشرے کی تعمیر کی جا سکے۔ قانون و انصاف سب کے لئے یکساں اور آسانی سے موجود ہونا چاہیے۔
ناخواندگی پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے، جس کے لئے مزید تعلیمی ادارے قائم کیے جانے چاہئیں، موجودہ تعلیمی اداروں کی بہتری کے لئے اقدامات کیے جانے چاہیں، غیر مساوی تعلیمی نظام کا خاتمہ کر کے یکساں نظام تعلیم و نصاب متعارف کرایا جانا چاہیے۔ علاقائی تفاوت کو مساوی معیار میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ ثانوی جماعتوں سے ہی ہنر مندی کی تعلیم کے رجحان کو نہ صرف فروغ دیا جانا چاہیے بلکہ فراہم بھی کی جانی چاہیے۔ ہنر مندی کی تعلیم (Technical Education) پر خاص توجہ دی جانے کی ضرورت ہے، تعلیم کے فروغ کے لئے اضافی فنڈز مہیا کیے جانے چاہئیں۔ اعلی تعلیم یافتہ و تربیت یافتہ اساتذہ کا بھرتی کیا جانا بھی اشد ضروری ہے۔
دہشت گردی کا خاتمہ : ملک کی ترقی میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دہشت گردی ہے جس کی وجہ سے ملک ہر طرح کے کاروباری و ترقیاتی نقصانات برداشت کر رہا ہے، مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مالی نقصانات اور ساکھ کی خرابی اس میں سر فہرست ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کی بنیادی وجوہات میں پڑوسی ممالک کی سرحد پار سے ریشہ دوانیاں، ملک میں سیاسی عدم استحکام، مالی بدحالی و غربت ہے، عام آدمی کا غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنا اور بنیادی سہولتوں سے محرومی بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہبی جنونی پن بھی دہشت گردی کو ملک میں فروغ دینے کی ایک بڑی وجہ ہے، جس کا تدارک نہایت ضروری ہے۔
دہشت گردی سے کیسے نمٹا جائے : دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے کہ دہشت گردی میں ملوث لوگوں کی اخلاقی تربیت جدید خطوط پر کی جائے، اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے خلاف ملٹری آپریشن جاری رہنا چاہیے، ساتھ ساتھ ان لوگوں کو تعلیم کا دیا جانا، انصاف مہیا ہونا اور سیاسی استحکام بھی دہشت گردی سے نجات میں نہایت سودمند ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان جنگجو دھڑوں سے گفت و شنید کے ذریعے دہشت گردی کو نہ صرف کم کیا جاسکتا بلکہ حالات میں بہتری بھی لائی جا سکتی ہے۔
بدعنوانی: پاکستان کو جو چند بڑے مسائل درپیش ہیں ان میں بدعنوانی سر فہرست ہے۔ موجود معلومات کی روشنی میں بڑی آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ چند ادارے اس میں کلیدی کردار ادا کر رہے، اگر ان کو درست کر دیا جائے تو ملکی حالات یکسر بدل سکتے ہیں جیسے، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے داروں کو زبردست تطہیر کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ قانون اور عدالتی نظام میں بہتری لائے جانے کی زبردست گنجائش موجود ہے۔ اس کے علاوہ بجلی و ایندھن کی فراہمی کے ادارے، ٹیکس جمع کرنے والے ادارے، کسٹمز، تعلیم و صحت سے متعلق ادارے، زمین و جائیداد کا انتظام و انصرام کرنے والے ادارے، ان سب اداروں میں نہایت ہی اعلی درجہ کی اخلاقی و پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزائیں بھی دی جانے کی شدید ضرورت ہے جو یقیناً ملک میں بدعنوانی کو کم کرنے اور حالات کو ملک کے موافقت میں لانے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں پارلیمنٹ قانون سازی کے ذریعے اہم ترین کردار ادا کر سکتی ہے، جو اداروں کو قانونی اور آئینی طاقت فراہم کرنے کا سبب ہو سکتی ہے جن کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے حکومتی سطح پر شفاف احتساب کے ذریعے بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
نو عمر بچوں سے مشقت لیا جانا: پاکستان میں نو عمر بچوں سے جبری مشقت لیا جانا بڑی رسوائی و شرمندگی کی شکل میں موجود ہے، اس کی وجوہات میں بے انتہا غربت ایک بڑی وجہ ہے، غربت کی وجہ سے بعض اوقات والدین مجبور ہو کر اپنے نوعمر بچوں کو نوکریوں پر لگا دیتے ہیں، اس کی دوسری بڑی وجہ دیہاتی علاقوں کے رہائشیوں پر غربت، اور سماجی دباؤ بھی ہو سکتے ہیں۔ بلاشبہ سخت محنت و مشقت بچوں کی صحت و اخلاقی تربیت پر نہایت ہی منفی اثرات مرتب کرتی ہے جو بعد ازاں معاشرے کے لئے بھی نہایت تکلیف دہ و غیر سودمند ثابت ہوتے ہیں۔
اس کا حل یہ ہے کہ اس ضمن میں جو قانون سازی پہلے ہی کی جا چکی ہے اس پر عمل درآمد و نفاذ کے لئے فلاحی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ جتنے دور دراز علاقوں تک جا سکتے ہیں جائیں اور اس حوالے سے قانون توڑنے والوں کے متعلق حکومتی اداروں کو فوری اطلاع دیں۔ اس پر باآسانی عملدرآمد کرایا جا سکتا ہے کیوں کہ ہمارے ہاں بچوں سے زبردستی مشقت لینے کے خلاف باقاعدہ قانون موجود ہے۔ دوسرا بچوں سے مشقت کو اس طرح بھی کم کیا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو باقاعدہ اور بڑی تعداد میں روز گار فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے بچوں سے مزدور و مشقت نہ کرا سکیں۔


