معذور خواتین, لڑکیوں اور بچیوں کی عزت نفس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئین پاکستان تمام شہریوں کی عزت نفس، ان کی پرائیویسی، اور زندگی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق ”افراد باہم معذوری“ کو ریٹیفائی کیا تھا جس کی شق نمبر 17 اس بات پر زور دیتی ہے کہ خواتین باہم معذوری کی عزت نفس کا تحفظ کیا جائے اور ان کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کی ذہنی اور جسمانی استطاعت کا احترام کیا جائے اور ان کا مذاق نہ اڑایا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ان خواتین، لڑکیوں اور بچیوں جنہیں کوئی معذوری ہے کو عزت نفس کے حوالے سے بہت زیادہ ہتک آمیز رویوں کا سامنا رہتا ہے۔

گھر سے لے کر کام کرنے والی جگہوں، مارکیٹ، بسوں میں سفر کے دوران اور تعلیمی اداروں میں ہر جگہ ان کے لیے ہر روز نئی مشکلات ہوتی ہیں۔ آئیے ذرا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ عزت نفس کیا ہے؟ عزت نفس سے مراد ہر شخص کے وجود کا احترام کیا جائے، روز مرہ زندگی کے معاملات سے لے کر زندگی کے ہر میدان میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے، اس کے ساتھ کسی قسم کا نسلی، علاقائی یا قومی تعصب نہ برتا جائے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ اس تعریف کی رو سے اگر ہم خواتین باہم معذوری کو دیکھیں تو آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کا کنونشن خواتین باہم معذوری کی عزت نفس پر زور دیتے ہیں۔

اگر ہم گھر سے ہی شروع کریں کہ گھر کے اندر خواتین لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کی عزت نفس کا کتنا تحفظ ہے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کس قدر ان کی عزت نفس کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں۔ گھر کے باقی افراد کی طرح ان خواتین، لڑکیوں اور بچیوں جنہیں کوئی معذوری ہے بھی ہر معاملے میں برابر کا حق رکھتی ہیں لیکن بدقسمتی سے گھر والے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہیں، گھر والوں نے کپڑوں کی خریداری کرنی ہو یا جوتے لینے ہوں یا پھر میک اپ کا سامان ہمیشہ انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے ان کی پسند اور نا پسند کا احترام بالکل بھی نہیں کیا جاتا ہے بلکہ ضروری ہی نہیں سمجھا جاتا، گھر کے اندر کسی بھی قسم کی فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت کو یقینی نہیں بنایا جاتا اور نہ ہی ان سے کوئی مشورہ لیا جاتا ہے یہ تمام چیزیں ان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتی اور یہ خواتین اپنی اس تنہائی کا گلہ شکوہ بھی کسی سے نہیں کر سکتیں۔

اگر ہم تعلیم کی بات کریں تو گھر والے ان کی تعلیم حاصل کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے اور اگر ہم ان کے خاندان بنانے کے حق کی بات کریں تو یہ اپنے اس بنیادی حق سے بھی اکثر محروم رہتی ہیں۔ یہ والدین اور گھر والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان خواتین، لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کی گھر کی سطح پر ہر معاملے میں شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ ان کی احساس محرومی کا ازالہ کیا جا سکے اور ساتھ ہی والدین گھر کو ان کے لیے قابل رسائی بنائیں تاکہ ان کے اندر احساس محرومی ختم ہو اور وہ اپنے روز مرہ کے کام باآسانی کرسکیں اور با اعتماد زندگی گزار سکیں۔ والدین کو ان کی عزت نفس کو یقینی بنانا ہو گا۔

اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کام کی جگہوں پر ان خواتین اور لڑکیوں جنہیں کوئی معذوری ہے کو بہت سخت رویوں کا سامنا رہتا ہے، اکثر وہاں ساتھ کام کرنے والے افراد ان کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اپناتے ہیں، اس طرح کے رویے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ انہیں کمزور سمجھتے ہیں اور بار بار انہیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ آپ کمزور ہیں جو ان کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ جب تک خواتین اور لڑکیاں جنہیں کوئی معذوری ہے آپ سے مدد نہ مانگیں تب تک آپ احتیاط کریں اگر وہ آپ سے مدد کا کہیں تو پھر ضرور مدد کریں۔

اور ان کے کام کی اجرت اتنی ہی دیں جتنی اسی پوزیشن پر کام کرنے والے دوسرے لوگ لے رہے ہیں آپ کے ان مثبت عمل کا خواتین باہم معذوری کے لیے خوشی کا باعث بنے گا اور وہ خود کو باہمت محسوس کریں گیں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے مارکیٹس میں اگر خواتین لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے والدین یا کبھی اکیلے خریداری کرنے جاتی ہیں تو بعض لوگ انہیں بھکاری سمجھ لیتے اور خیرات دینے لگتے ہیں ان کا یہ عمل بہت زیادہ تکلیف کا باعث بنتا ہے یاد رکھیں یہ خواتین لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے بھکاری نہیں ہوتیں ان کی عزت نفس کا احترام ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

اور اگر ان خواتین، لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کو کہیں سفر کرنے کی ضرورت پیش آئے تو دوران سفر بہت سی مشکلات کا سامنا رہتا ہے آپ کسی بھی بہت اچھی عوامی بس سروس کو دیکھ لیں ان میں سوار ہونے کے لیے وہیل چئیر کا بس میں داخل ہونا تقریباً نا ممکن ہو تا ہے اس طرح بعض صورتوں میں بس سٹاپ پر لیٹرین بھی قابل رسائی نہیں ہوتے جس سے انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے بطور ذمہ دار شہری یہ ہم سب پر اور حکومت وقت پر لازم ہے کہ بسوں کو قابل رسائی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ یہ خواتین بنا کسی ذہنی کوفت کے پر سکون سفر کرسکیں۔

اس معاشرے میں اکثر یہ بھی دیکھنے اور سننے میں آیا ہے ان خواتین، لڑکیوں اور بچیوں کے اصل نام کی بجائے ہتک آمیز ناموں سے پکارا جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا اس طرح کا رویہ ان کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہے یہ ہم سب پر لازم ہے کہ منفی رویوں سے خود بھی اجتناب کریں اور اگر کہیں ان رویوں کو دیکھیں یا سنیں تو ان کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کریں۔ اور اسکولوں میں پڑھنے والی لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کو بھی اس طرح کے رویوں کا سامنا رہتا ہے بعض صورتوں میں ان رویوں سے دلبرداشتہ ہو کر وہ اپنی تعلیم کو چھوڑ دیتی ہیں یہ سکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بچیوں کی عزت نفس کو یقینی بنائیں۔

یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے معاشروں کو، کام کرنے کی جگہوں کو، گھروں کو، تعلیمی اداروں کو، مارکیٹس کو ان خواتین، لڑکیوں اور بچیوں کے لیے حوصلہ افزا ء بنائیں تاکہ انہیں کسی قسم کے ہتک آمیز رویوں کا سامنا نہ کرنے پڑے ”خواتین، لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کی عزت نفس کو یقینی بنانے میں ہی عظمت ہے“۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments