معذور لڑکیوں اور خواتین کو درپیش حفظان صحت سے متعلق مسائل

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ”حفظان صحت ’سے مراد ایسے حالات اور طریقے ہیں جو صحت کو برقرار رکھنے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کرتے ہیں۔ اگر آپ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں تو آپ ایک صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔ حفظان صحت کے اصولوں میں ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں کو صابن سے کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں دھوئیں، لیٹرین کے استعمال کے بعد اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں، دن

Read more

میرا جیون

بارش جو کبھی برس جائے ،میں کب تک ان قطروں کی گنتی کروں ،جو میرے وجود سے ٹکرا کر اس مٹی کی آغوش میں گم ہو جاتے ہیں اور میں انہیں ڈھونڈ نہیں پاتا ،آخر یہ میرے کیوں نہیں رہتے ؟ ہوا جو چلتی ہے ،میرے وجود سے ٹکرا کر جو گزرتی ہے ،آخر میری کیوں نہیں رہتی ؟صبح کا ہونا ،شام کا ہونا اور پھر رات کا ہو جانا ،آخر میں ان کو محسوس کیوں نہیں کر پاتا ؟۔خواب

Read more

معذور خواتین ،لڑکیوں اور بچیوں پر تشدد کے خلاف قانونی تحفظ کی ضرورت

ایک محتاط اندازے کےمطابق پورے ملک میں افراد باہم معذور ی کی تعداد 31 ملین ہے ۔اور ان میں خواتین ،لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے بھی اچھی خاصی تعدادمیں  موجود ہیں   لیکن بدقسمتی سے ان تمام خواتین ،لڑکیوں اور بچیوں کو نہ صرف گھر بلکہ معاشرے کی سطح پر مختلف تشدد کا سامنا رہتا ہے، وسیع قانونی تحفظ کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں انصاف کے حصول میں کافی مشکلات رہتی ہیں ۔2006 میں   اقوام متحدہ  نے

Read more

معذور لڑکیوں کے متعلق مغالطے اور حقائق

معذوری ایک طرز زندگی ہے اور اسے ایک طرز زندگی ماننے اور سمجھنے کی معاشرے کے تمام لوگوں کو ضرورت ہے۔ ویسے تو تمام معذور افراد ہر روز کسی نہ کسی طرح کی مشکل سے گزرتے ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ خواتین، لڑکیاں اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کو بہت سی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اور یہ مشکلات زیادہ تر تو معاشرے کی پیدا کی ہوئی ہوتی ہیں اور کچھ والدین کی طرف سے ہوتی ہیں۔

Read more

معذور خواتین کے لیے کرونا ویکسین کی اہمیت

عالمی ادارہ صحت نے مارچ 2020 کو کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیا اور اس کے ساتھ ہی کرونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ کرونا وائرس ایک متعدی بیماری ہے جو ایک شخص سے کسی دوسرے شخص میں بہت تیزی سے منتقل ہوتی ہے۔ اس سے بچاؤ کے حوالے سے حفاظتی تدابیر بھی تجویز کی گئیں جن میں سماجی فاصلہ رکھنا، ماسک کا پہننا، اپنے ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک

Read more

معذور لڑکیوں اور خواتین کی شادی سے متعلق مغالطے

ہمارے ہاں معذوری کو لے کر بہت سے مغالطے پائے جاتے ہیں ان میں سب سے پہلے میں یہاں معذوری کا بتاؤں گا کہ حقیقت میں معذوری ہے کیا؟معذوری ایک طرز زندگی کا نام ہے یہ کوئی بیماری نہیں،کوئی جنات کا سایہ نہیں اور نہ ہی والدین کے گناہوں کی سزا ہے۔ ہمارے معاشرے میں معذوری کو بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے اور معذور افراد خاص کر خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ جہاں تعلیم،صحت اور بنیادی ضروریات کے حوالے سے

Read more

معذور خواتین, لڑکیوں اور بچیوں کی عزت نفس

آئین پاکستان تمام شہریوں کی عزت نفس، ان کی پرائیویسی، اور زندگی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق ”افراد باہم معذوری“ کو ریٹیفائی کیا تھا جس کی شق نمبر 17 اس بات پر زور دیتی ہے کہ خواتین باہم معذوری کی عزت نفس کا تحفظ کیا جائے اور ان کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کی ذہنی اور جسمانی استطاعت کا احترام کیا جائے اور ان کا مذاق نہ اڑایا

Read more

معذور افراد کو قابل رسائی بنانے کا عالمی دن

دنیا بھر میں ہر سال مئی کے مہینہ کی تیسری جمعرات کو ایسے افراد جنہیں کسی بھی طرح کی معذوری ہے ان کے کے لیے قابل رسائی معلومات یا مقامات کا دن منایا جاتا ہے دنیا بھر کی طرح اس سال پاکستان میں یہ دن 20 مئی بروز جمعرات کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ریاستی اداروں یا قانون سازی کرنے والی مقننہ یا حکومت، ملک کے اندر رہنے والے وہ افراد

Read more

باہم معذور خواتین اور بچیوں کے حوالے سے والدین اور معاشرے کے افراد کی تربیت کی ضرورت

مختلف اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایسی خواتین اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے بھی زائد ہے۔ یہ خواتین اور بچیاں اس ملک کی برابر کی شہری ہیں اور ان کو تمام سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی حقوق کی فراہمی ریاست کے ساتھ ساتھ معاشرے کے افراد کی بھی ذمہ داری ہے۔ تاہم اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ معاشرے کے افراد اور والدین کی طرف سے ان کے ساتھ منفی رویے رکھے جاتے ہیں۔ بہت سے والدین ایسی خواتین اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہو انہیں گھروں میں قید رکھتے ہیں اور ان خواتین اور بچیوں کو اپنے لیے باعث شرمندگی سمجھتے ہیں۔

Read more

امریکہ اورکنیڈا سے پاکستان بھیجی گئی امداد حاصل کرنے کا طریقہ

انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اس جگہ سے محبت ایک فطری عمل ہے اسے نہ تو کوئی طاقت کے زور پر چھین سکتا ہے اور نہ کسی ظلم یا جبر کے ذریعے۔ اچھے مستقبل اور بہتر روزگار کی کوشش کون نہیں کرتا اور جب کوئی اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف وہ اپنے فیملی کی مدد کرتا ہے بلکہ اپنے ملک اور اس میں رہنے والے تمام شہریوں کی بھی مدد کرتا ہے۔ پاکستان

Read more

یہ میرا سچ ہے، ہو سکتا ہے آپ کا کچھ اور ہو

آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنا سچ خود تلاش کیا؟ شاید بہت زیادہ یا پھر بہت ہی کم۔ آپ نے کیسے یقین کر لیا جو کچھ آپ کو بتایا گیا ہے صرف وہی ٹھیک ہے؟ اور پھر آپ نے کیا کیا اپنا سچ دوسروں پر مسلط کرنا شروع کر دیا، کیا آپ کا سچ میرا سچ ہو سکتا ہے، نہیں بالکل نہیں، میرا سچ صرف میرا سچ ہے اور ہو سکتا ہے آپ میرے سچ پر یقین

Read more

معاف کیجیے گا میں ایک انسان ہوں

دیکھیں جی بات سیدھی سی ہے ریاست کے کہنے پر آپ نے جو خواب دیکھ رکھے ہیں وہ میں نہیں دیکھتا۔ آپ شاید پورا برصغیر فتح کرنے کے چکر ہوں لیکن میں نہیں ہوں اور ہو سکتا ہے آپ اس یقین کامل سے ہوں کہ صبح کا ناشتہ ممبئی، دہلی یا پھر امرتسر میں کریں گے اور فلمی اداکاروں کے ساتھ سیلفیاں لے گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں میں ایسا سوچتا بھی نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے آپ سمجھتے ہوں کہ دنیا آپ کی جاسوسی کر رہی ہے جب کہ آپ کی جیب میں ایک دھیلا تک نہیں اور میرا ماننا ہے دنیا اتنی فارغ نہیں ہے۔

آپ اپنے مذہب کو برتر سمجھتے ہوں گے اور چاہتے ہوں گے کہ دوسرے اس مذہب کو تسلیم کر لیں یا پھر آپ اپنا مذہب کسی پر زبردستی مسلط کرنے کے حق میں ہوں گے لیکن میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا اور نہ کبھی چاہوں گا۔ عین ممکن ہے آپ ثواب کی نیت سے یہ سب کر رہے ہوں معاف کیجیے گا ایسے ثواب کمانے کی میری نیت نہیں ہے۔

Read more

کسی معذوری والی خواتین اور بچیوں کو حقوق کی فراہمی

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تیس ملین سے زیادہ ایسے افراد موجود ہیں جنہیں کسی نہ کسی طرح کی معذوری کا سامنا ہے ان میں بہت سی خواتین اور بچیاں بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کا کنونشن برائے حقوق ایسے افراد جنہیں کوئی معذوری ہے بھی حکومت پاکستان سے ایسی خواتین اور بچیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کے حقوق کی فراہمی پر زور دیتا ہے۔ اس کنونشن کے مطابق ایسے افراد جنہیں کوئی معذوری ہے ان کی تعلیم، صحت، معاشرے میں ایک باعزت مقام اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ذمہ داری میں شامل ہے لیکن بدقسمتی سے بہت سی خواتین اور بچیاں اپنے ان حقوق سے محروم ہیں۔

ان حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پاکستان نے ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپیشل ایجوکیشن، پاکستان بیت المال اور سوشل ویلفیئر کے محکموں کو اس ضمن میں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ ان خواتین اور بچیوں کو جنہیں کوئی معذوری ہے کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ ان خواتین اور بچیوں کو معاشرے میں صحت مندانہ زندگی گزارنے کے لیے حکومت پاکستان کی طرف سے ان کے حقوق متعین کیے گئے تاہم ان حقوق کے حصول میں بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔

Read more