اجمل نیازی: چند یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب عمر کا وہ مرحلہ آن پہنچا ہے جب اکثر و بیشتر کسی ہم عصر عزیز، دوست اور شناسا کی وفات کی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آج صبح فیس بک کھولی تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی بھی اس فانی زندگی کے جھمیلوں سے نجات پا کر ابدی زندگی کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس غم انگیز خبر کو پڑھ کر گزشتہ نصف صدی سے زیادہ کے واقعات کی فلم پردہ ذہن پر چلنے لگی۔

میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ستمبر 1967 میں داخل ہوا۔ کچھ مہینے بعد کالج کے اوپن ایر تھیئیٹر میں ایک ہاؤس آف کامنز سٹائل مباحثہ تھا۔ اس مباحثے کا ماحول کافی ہنگامہ خیز ہوتا تھا۔ اس میں وہی مقرر کامیاب ہو سکتا تھا جو نکتہ آفرینی میں مہارت کے ساتھ ساتھ بلا کا حاضر جواب بھی ہو۔ ایک مقرر کو بلایا گیا جو کافی دبلا پتلا تھا، بڑی بڑی مونچھیں اور لمبے بال تھے۔ کسی قدر بھرائی ہوئی بلکہ پھٹی ہوئی آواز جو کسی اعتبار سے مائک کے لیے موزوں نہیں تھی۔ نام اجمل نیازی تھا۔ تقریر شروع ہوئی تو کچھ دیر بعد کسی شریر طالب علم نے نقطہ اعتراض پر کہا، کیا یہ حکیم اجمل خان کی روح بول رہی ہے؟ مقرر نے جواب دیا میں وہ موسل ہوں جسے حکیم اجمل خان کھرل میں پھیرا کرتے تھے۔ اس جواب پر خوب قہقہے پڑے۔

میں جب تیسرے سال میں پہنچا تو اجمل نیازی گورنمنٹ کالج کے مشہور رسالہ راوی کے مدیر بن چکا تھا۔ اس زمانے میں اوریئینٹل کالج کے شعبہ اردو میں دو سیٹیں گورنمنٹ کالج کے لیے مختص ہوتی تھیں۔ اس لیے اجمل نیازی گورنمنٹ کالج کا سٹوڈنٹ ہوتے ہوئے ایم اے اردو کر رہا تھا۔ یونین کے الیکشن ہوئے تو ان میں کلیم مبین صدر منتخب ہوا جس کے ہم ووٹر اور سپورٹر تھے۔ اس نے شفقت محمود (موجودہ وفاقی وزیر تعلیم) کو ہرایا تھا۔ اس کے ساتھ منظر صہبائی سیکریٹری منتخب ہوا۔ ہوسٹل میں میری ڈارمیٹری والوں نے ایک افطار کا اہتمام کیا، جس میں کلیم مبین، منظر صہبائی اور اجمل نیازی کو مدعو کیا گیا۔ میں نے اجمل نیازی کو اپنی ڈائی پر شعر لکھنے کو کہا۔ میری فرمائش پر اس نے اپنی ایک نظم لکھی جس کے دو شعر مجھے آج بھی یاد ہیں:

کوئی جواب نہ جس کا سوجھے میں وہ ایک سوال

لوگ نہ جس کو اب تک سمجھے تو وہ ایک پہیلی

میری جان کا دشمن میرا اک اک مخلص دوست

تجھ سے جلتی رہتی ہیں تو جن کی بڑی سہیلی

اس زمانے میں مرزا غالب کی صد سالہ برسی منانے کا اہتمام ہو رہا تھا۔ اجمل نیازی کی ادارت میں راوی کا غالب نمبر شائع کیا گیا۔ علمی مقالے سمجھنے کی تو عمر نہیں تھی۔ اس شمارے میں سب سے زیادہ جو مضمون پسند آیا وہ تھا: غالب اور قبول عام۔ یہ مضمون اجمل نیازی کے قلم سے تھا اور اس کی شگفتہ نثر کا بہت عمدہ نمونہ تھا۔

کالج میں اجمل کا جڑواں بھائی اصغر بھی پڑھتا تھا۔ دونوں میں بے حد مماثلت تھی۔ اجمل نے اس مشابہت کی بنا پر پیش آنے والے لطائف و ظرائف پر مبنی ایک بہت دلچسپ مضمون راوی میں لکھا تھا۔ میرا زیادہ تعلق اصغر نیازی مرحوم سے رہا۔

ایم اے اردو کرنے کے بعد اجمل نے پنجاب یونیورسٹی کے کسی شعبے میں، شاید ایم اے پنجابی، داخلہ لے لیا تھا۔ اس کی رہائش وولنر ہوسٹل میں تھی۔ اس وقت وہ نوکری نہ ملنے پر معاشی مشکلات کا شکار تھا۔ ان دنوں وہ "ترقی پسند” بھی ہو گیا تھا۔ وہ اس کا مزاج نہیں تھا، بس حالات کا دباؤ تھا۔ انھی دنوں میری اپنے دوست جاوید احمد (غامدی) صاحب کے ہمراہ اجمل نیازی سے ملاقات ہوئی۔ ہم کافی دیر تک لا کالج کی کینٹین کے پاس کھڑے باتیں کرتے رہے۔ مجھے اس کا ایک جملہ آج بھی یاد ہے۔ اس نے کہا تھا، زندگی یا شرمندگی ہے یا درندگی۔

کچھ عرصہ بعد اسے ملازمت مل گئی، وہ کالج میں لیکچرر ہو گیا اور اس کی زندگی میں کچھ سکون آ گیا۔ ایک دو برسوں بعد پتہ چلا کہ دونوں بھائی میانوالی کے علاقے میں کسی پیر صاحب سے بیعت ہو گئے ہیں۔ اب چہرے پر داڑھی نمودار ہو گئی اور سر پر پگڑی۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد پیر صاحب کے ساتھ تو شاید ارادت کا وہ عالم نہ رہا، لیکن حلیہ ساری زندگی برقرار رہا۔

اب گاہے گاہے ملاقات ہو جاتی تھی۔ جب اجمل نیازی کا تبادلہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ہو گیا تو ایک بار پھر ملاقاتوں میں کچھ تسلسل آ گیا۔ میرا جب کبھی کالج جانا ہوتا تو میں اس وقت کوشش کرکے اس سے بھی ضرور ملاقات کرتا۔ جب میں پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل نمبر 14 کا سپرنٹنڈنٹ تھا تو ہوسٹل کے سالانہ عشائیہ میں ایک بار اجمل کو بھی مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا اور اس نے لڑکوں سے بہت عمدہ گفتگو کی تھی۔

اجمل نیازی کا شمار ان نوجوانوں میں ہوتا تھا جو بے حد تخلیقی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ زمانہ طالب علمی میں ہی بہت عمدہ شعر کہتا اور بڑی تخلیقی اور شگفتہ نثر لکھتا تھا۔ جملہ تراشنے میں اسے خصوصی مہارت حاصل تھی۔ اس وقت وہ افسانہ بھی لکھا کرتا تھا اور اس کے ایک افسانے کو کسی بین الکلیاتی مقابلے میں اول انعام بھی ملا تھا۔

عملی زندگی میں اس نے بہت نام کمایا تھا۔ کالم نگاری بھی کرتا رہا۔ ٹی وی پروگراموں کی میزبانی بھی کی۔ لیکن اس کے باوجود میرا تاثر یہی ہے کہ وہ اس ابتدائی تخلیقی جوہر کو مناسب نشو و نما نہ دے سکا۔ زمانہ ملازمت کی اس کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے مجھے یہی لگتا تھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کےساتھ انصاف نہیں کررہا۔ اس کے زمانہ طالب علمی کے کچھ شعر یاد آ رہے ہیں جن سے اس کے شعری پوٹینشل کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک شاعر کو یاد کرنے کی اس سے زیادہ اچھی صورت کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے شعر پڑھے جائیں۔

جی رہا ہوں گیلے کاغذ کی طرح بے فائدہ

کوئی لکھتا بھی نہیں، کوئی جلا دیتا نہیں

زندگی میں ایک ہی خط اس نے لکھا تھا مجھے

لے کے پھرتا ہوں کوئی پڑھ کر سنا دیتا نہیں

۔۔۔

اجمل ہوں وسطِ شہر میں اجڑا ہوا مکاں

یاں آ کے لمحہ بھر بھی کوئی بیٹھتا نہیں

کمرے میں چھپ کے اس نے جلایا تھا میرا خط

پھر راکھ سارے شہر میں کیوں کر بکھر گئی

۔۔۔

اس نے ملایا ہاتھ بڑی احتیاط سے

یعنی وہ دے گا ساتھ بڑی احتیاط سے

۔۔۔

میں نے اجمل روشنی کی اک کرن مانگی تھی بس

آگ سارے شہر کو کس نے لگائی کیا ہوا

۔۔۔

لمحوں کی دھول ذہن میں اجمل سمیٹ کر

آؤ ہوا کے چلنے سے پہلے بکھر چلیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments