انصاف کا عصا
قدرت کے کارخانے میں شب و روز کا خوبصورت سنگم ہے۔ جہاں ہم ہر روز پرانی امیدوں کو دفن کر کے نئی امیدوں کا منھ دیکھتے ہیں۔ ہر دن کا اپنا مزاج و کیفیت ہوتی ہے
جہاں ہماری نفسیات کا لٹو گھومتا ہے۔ دن کے اجالے میں ہماری آنکھیں دیدنی اور نادیدنی واقعات کو اپنی آنکھوں میں چھپا لیتی ہیں۔ جب کہ شام تفکرات کے آنچل میں ڈھل کر ان تمام واقعات کو ذہن کی پردہ سکرین پر دوبارہ آن لائن کر لیتی ہے۔ یہاں بہت سے واقعات سوالیہ نشان بن کر آنکھوں میں سرخ رنگ کا سرمہ لگاتے ہیں جو خون کے آنسو کی علامت بن کر مسلسل آنکھ میں گردش کرتا رہتا ہے۔
یہ آثار و کیفیات دراصل حالات و واقعات، ظلم و ستم، ناکامیوں، اذیتوں، محرومیوں، مایوسیوں، کا صلہ ہوتے ہیں جن کی ایک دستک سے آنکھوں میں سرخ رنگ کا سیلاب آ جاتا ہے۔
دنیا میں گناہ اور جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح ہماری توجہ اس جانب مبذول کروا رہی ہے کہ دنیا میں بدی کا ناسور کس تیزی سے بڑھ رہا ہے جب کہ نیکی کے سورج میں توانائی کی کتنی تیزی سے کمی آ رہی ہے۔
نفسا نفسی کے عالم میں ڈوبا ہوا ہر انسان مادیت کے بستر پر پڑا گرم نظر آتا ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی الجھنوں اور پریشانیوں نے اسے جنگل کا وحشی درندہ بنا دیا ہے۔
ہمیں اپنی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے اپنی آنکھوں سے جہالت کے ککرے اتارنا ہوں گے، دل سے گندگی کے ڈھیروں کو ہٹانا ہو گا، ذہن میں مثبت سوچ کی آبشار چلانا ہوگی، تاکہ ہم کسی بات کے محل وقوع کو سمجھ سکیں۔ چلو پہلے اس بات کا پردہ چاک کرتے ہیں کہ گناہ اور جرم میں کیا فرق ہوتا ہے؟ اسے آسان زبان میں یوں سمجھ لیجیے گناہ خدا کے احکامات کی نافرمانی کا نام ہے اور جرائم قوانین کی عدم پاسداری کا نام ہے۔ اگر ہم ان دونوں اقسام کے گناہ کے مرتکب ہیں تو پھر مطلب یہ ہوا کہ انسان اپنی سرکشی کے باعث نہ تو خدا کی حاکمیت کا خوف رکھتا ہے اور نہ ہی اپنے ملکی قوانین کا۔ یہ ایک فطری المیہ ہے کہ جب انسان کی سرشت میں بدی کا خمیر بڑھ جائے تو اس کی فطرت آلودہ کثافتوں سے بھر جاتی ہے اور ہر وہ انسان جو اس متاثرہ انسان سے رفاقت و شراکت کا خواہش مند ہو گا اس کی فطرت میں بھی باغیانہ رویے کے آثار دکھائی دیں گے۔
ہم آئے دن سماجی ناہمواریوں اور ظلم و ستم کے ان گنت بلکہ ان مٹ واقعات کی داستانیں سنتے ہیں کہ فلاں جگہ ایسا دلخراش واقع رونما ہو گیا ہے۔ جسے سن اور دیکھ کر دل خون کے آنسوں رونے لگتا ہے اور پھر جس انسان پر یہ قیامت ٹوٹی ہو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اسے کتنے وولٹ کا صدمہ لگا ہو گا؟
دنیا میں کتنے ایسے حالات و واقعات کے قصے و کہانیاں ہوں گئی جن کے ظلم و ستم کی چکی میں پس کر انسان غم سے نڈھال ہو جاتا ہے۔ یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا دنیا کا انصاف کرنے والا اسے انصاف نہیں دے گا؟ میں یہاں پر عرض کرتا چلا جاؤں، بے شک خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ انصاف کا ترازو اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہ انسان کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کا بدلہ چکا لیتا ہے۔
وہ کسی نہ کسی صورت میں انسان کی غلطی اور گناہ کو اس کے سامنے لے آتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بدلہ لینے میں تاخیر بھی نہیں کرتا۔ دوسری بات کیا وقت کے حاکم کے پاس انصاف کا عصا نہیں ہے جسے وہ اپنے اختیار کے تحت استعمال نہیں کرتا۔ چھ چیزوں ہیں جن سے خداوند کو نفرت ہے بلکہ سات ہیں جن سے اسے کراہیت ہے۔ جھوٹی زبان، اونچی آنکھیں، بے گناہ کا خون بہانے والے ہاتھ، برے منصوبے باندھنے والا دل، شرارت کے لئے تیز رو پاؤں، جھوٹا گواہ جو دروغ گوئی کرتا ہے اور جو بھائیوں میں نفاق ڈالتا ہے۔ (امثال 6: 16 تا 19 )
میں نیم خواب کی حالت میں اس سارے واقعات اور باتوں کو دنیا میں ایک تماشے کی طرح دیکھ رہا ہوں لوگ انصاف کی تلاش میں دربدر ہو رہے ہیں۔ نا ان کے سامنے کوئی منزل اور نا کوئی راستہ ہے۔ نا جانے لوگ کس سمت سفر کر رہے ہیں۔
مگر افسوس نا کوئی انہیں دلاسا دینے والا اور نا ان کا کوئی آنسو پوچھنے والا ہے۔ لوگوں کے مرجھائے ہوئے چہرے ہیں، آنکھوں میں بے بسی کی تصویریں ہیں، خالی ہاتھ ہیں، زبان پر ایک ہی رٹ ہے ہمارا انصاف کرو، ہمیں انصاف دو۔ زبانوں سے جو چیخیں نکل رہی ہیں ان میں ضمیر کو جھنجھوڑنے والی پکار، آنسوؤں کے لبالب پیالے، لڑائی جھگڑوں کے نعرے، جنسی درندگی کے قصے، اغوا برائے تاوان کے واقعات، زنا بالجبر کے واقعات، اور جسم و روح کی بھوک مٹانے والے ایسے شرمناک واقعات شامل ہیں۔ جنہوں نے ہمیں گناہ کی لذت میں ہمارے مقاصد ایک بنا دیے ہیں۔
جب نسلی انسانی نے زمین کو اپنے خون سے سیراب کرنا شروع کر دیا تو باقی پیچھے کیا رہ گیا؟ اب زمین بھی اتنے بڑے گناہوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی کیونکہ ہر چیز نے اپنا قرض چکانا ہے۔
یاد رکھیں! زمین بھی اپنا قرض مانگتی ہے۔ خدا زمین کو حکم صادر کرتا ہے۔ زمین ویران اور بنجر ہو جاتی ہے۔ وہ پیداوار دینے کے قابل نہیں رہتی۔ کیونکہ بدی نے زمین کی شکل تک بگاڑ دی۔ اس کے ضروری نمکیات چاٹ گئی، اسے پیداوار دینے کی بجائے بانجھ بنا دیا۔
خدا آج ہم سے ایک سوال پوچھتا ہے؟ کہ میں نے تمہیں علم نہیں دیا، تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں کیا، وسائل کے خزانے عطا نہیں کیے، زمین کو سیراب کرنے کے لیے سمندر نہیں بنائے، انصاف کے لیے عدالتیں نہیں بنائی، اپنی شریعت اور ارشادات نہیں دیے، خیر و شر میں فرق نہیں بتایا، تمہارے ہاتھ میں انصاف کا عصا نہیں دیا۔ تمہارے معاشی بوجھ نہیں اٹھائے، تمہیں ہر نعمت سے آسودہ نہیں کیا، تمہیں حقوق العباد نہیں دیے۔ کیا تم اپنے ایمان و عمل میں پورے نکلے۔ کیا تم نے آج ان تمام وعدوں کی پاسداری کی ہے تاکہ تمہیں زندگی کی خوشیاں میسر آتی۔
ایک غیبی آواز آج ہم سے سوال کر رہی ہے، کیا ہم اپنے اندر انصاف کی روح رکھتے ہیں؟ کیا ہم چھوٹی چھوٹی باتوں میں انصاف کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ضمیر کی آواز سنتے ہیں؟ یہ زندگی کی چند مشترکہ سوالات ہیں جو ہمیں انصاف کی طرف راغب کرتے ہیں اور ہمیں پند و نصائح کرتے ہیں اور سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ کہیں ہم بے سمت سفر کے عادی تو نہیں ہو چکے اور ہم نے اپنی زندگی میں ہی انصاف کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ یہ سوال ہم سب کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر دنیا میں انصاف کی پکار ہوتی اور ہمارے قول و فعل میں تضاد کی جنگ نہ ہوتی۔
تو آج اتنی دنیا انصاف کے حصول کے لیے دربدر نہ ہو رہی ہوتی۔ یہ تو حقیقت ہے کہ ہم جیسا بیج بوئیں گے وہی پھل کاٹیں گے۔
ذرا سوچیں! آج ہم خدا سے شکوہ کس بات کا کرتا ہے؟
اگر ہمارے ہاتھ میں انصاف کا عصا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی ذات کے لئے اٹھا لیجیے تاکہ کل کسی بڑے حادثے سے بچ سکیں۔
کاش! ہم اپنی سوچ کے زاویوں کو بھی فطرت کے اصولوں پر کھڑا کرنا سیکھ لیں چونکہ جب ہر نیکی کا اجر ہے تو پھر اس کے پھل کا بھی انتظار کرنا چاہیے۔ درخت اس لیے لگاتے ہیں تاکہ وہ کل سایہ اور پھل دے سکے۔ اگر ہم اپنی فطرت میں انصاف کا عہد وفا کریں گے تو کل ہمارا مستقبل بھی محفوظ ہو گا۔


