وزیر اعظم صاحب! ملک ایجنسیوں سے نہیں چلائے جاتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل پورے ملک کی توجہ ایک ہی مسئلہ پر مرکوز ہے۔ اور وہ یہ کہ آئندہ آئی ایس آئی کا سربراہ کون ہو گا؟ بڑی رازداری سے خبریں دی جا رہی ہیں کہ سمری وزیر اعظم کو بھجوا دی گئی ہے۔ بس اب چند دنوں میں یہ فیصلہ ہو جائے گا کہ یہ ہما کس کے سر پر بیٹھے گا۔ جس وقت یہ کالم لکھا جا رہا ہے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ابھی کسی نام کی منظوری عطا نہیں کی۔ اور یہ مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اس مسئلہ پر ایک صفحہ پر کھڑی ہونے والی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں تصادم کا خطرہ بھی مول لے لیا گیا ہے۔

خاکسار نے گزشتہ کالم میں اس مسئلہ کے آئینی پہلو پر کچھ گزارشات پیش کی تھیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی حکومت کے لئے یہ سوال کہ آئی سی آئی کا سربراہ کون ہو گا اتنا اہم ہے کہ اس کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی جائے۔ یعنی اگر آئی ایس آئی کا سربراہ وزیر اعظم کی مرضی کا ہے تو حکومت محفوظ ہے اور اگر یہ سربراہ وزیر اعظم کی مرضی کا نہیں ہے تو پھر حکومت خطرے میں ہے۔ اور اپوزیشن بھی اسی جھگڑے کے افق پر اپنی قسمت کے ستارے ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مناسب ہو گا کہ محترم وزیر اعظم اور اپوزیشن کے محترم لیڈر دونوں ان تاریخی واقعات کا جائزہ لیں کہ جن سربراہان حکومت ان اپنے اقتدار کے لئے ایجنسیوں کا سہارا لیا، ان کا انجام کیا ہوا؟ اکثر ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو اس بات کا الزام دیا جاتا ہے کہ انہوں نے آئی ایس آئی میں سیاسی سیل قائم کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ صدر ایوب خان صاحب کے دور سے ہی اس ادارے کو اپنے سیاسی مخالفین کو اپنی ’تھاں‘ پر رکھنے کا کام لیا جا رہا تھا۔ لیکن کیا اس میں کامیابی ہوئی؟

ایوب خان صاحب کے دور سے ایک مثال پیش ہے۔ 21 مئی 1967 کو صدر ایوب کے ملٹری سیکریٹری میجر جنرل رفیع گھبراہٹ کے عالم میں ان سے ملنے آئے اور کہا کہ کراچی کے ڈی آئی جی پولیس نے ایک سازش پکڑی ہے۔ اور یہ سازش نیوی کے چند جونیر افسران نے تیار کی تھی۔ ان کا ارادہ تھا کہ سمندر میں مچھلی کے شکار کے دوران صدر ایوب کو قتل کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا جائے۔ اور جماعت اسلامی کے بانی مودودی صاحب کو ملک کا وزیر قانون، جنرل اعظم خان صاحب کو مغربی پاکستان اور مولوی فرید صاحب کو مشرقی پاکستان کا گورنر مقرر کیا جائے۔ ایوب خان صاحب نے اسی وقت آئی سی آئی کے سربراہ برگیڈیر اکبر صاحب سے رابطہ کیا تو وہ اس بارے میں بالکل لا علم تھے۔ بہر حال کراچی پولیس کی بیدار مغزی سے بغاوت کا منصوبہ بنانے والے گرفتار تو ہو گئے لیکن صدر ایوب نے اپنی ڈائری میں پاکستان کی ایجنسیوں کی کار کردگی کے بارے میں یہ تبصرہ کیا :

”تاہم ڈی آئی جی ترین اور ان کے ساتھیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جبکہ نیوی کی انٹیلی جینس اور آئی سی آئی والے لمبی تان کر سو رہے تھے۔ اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انٹیلی جینس کے کام میں یہ ابھی بچے ہیں۔ اس لئے میں نے جنرل یحییٰ خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے تا کہ اس نظام کی مکمل اصلاح کے لئے تجاویز دیں۔“

(Diaries of Field Marshal Muhammad Ayub Khan P 97-99)

نظام کی اصلاح تو کیا ہونی تھی؟ جلد ہی صدر ایوب خان صاحب رخصت ہوئے اور یحییٰ خان صاحب نے خود ہی سارا نظام سنبھال لیا اور ایجنسیوں پر انحصار اور بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں جذبات بھڑکے ہوئے ہوئے تھے۔ شیخ مجیب صاحب اور عوامی لیگ کا ستارہ عروج پر تھا۔ یحییٰ خان صاحب نے اس صورت حال سے نمٹنے کا کام آئی ایس آئی کے سپرد کیا۔ اور ان کے افسران نے عوامی لیگ کا اثر زائل کرنے کے لئے مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کی حمایت شروع کی۔

اور مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب کے جادو کا حل بھی یہی تلاش کیا کہ مذہبی جماعتوں کی مدد اور مالی مدد بھی دی جائے۔ جنرل شیر علی صاحب اس تحریک کے روح رواں تھے۔ اور آئی سی آئی کے سربراہ میجر جنرل اکبر صاحب بھی یحییٰ خان صاحب کو یہی رپورٹیں دے رہے تھے کہ اب کوئی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی اور انتخابات کے بعد بندر بانٹ شروع ہو گی۔ جب مذہبی جماعتوں نے یوم شوکت اسلام منایا تو انہوں نے یحییٰ خان صاحب کو خوش کن رپورٹیں بھجوائیں کہ حضور والا منصوبہ ضرور کامیاب ہو گا۔ لوگ مذہبی جذبات کے نام پر مذہبی جماعتوں کے ارد گرد اکٹھے ہو جائیں گے۔

جب انتخابات میں ان کی توقعات سے بالکل الٹے نتائج برآمد ہوئے تو ایجنسیوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور مشرقی پاکستان میں آزاد خیال دانشوروں اور صحافیوں کو ٹھکانے لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ آخر کیا نتیجہ نکلا؟ عوامی لیگ مشرقی پاکستان لے کر علیحدہ ہو گئی اور سقوط ڈھاکہ کے بعد یحییٰ خان صاحب نے اقتدار بھٹو صاحب کے حوالے کیا اور رخصت ہوئے۔ سانحہ مشرقی پاکستان پر ہمیں روتے روتے پچاس سال ہو گئے ہیں۔

(Pakistan Between Mosque and Military by Hussain Haqqani P 53 -61)

اب بھٹو صاحب مسند اقتدار پر بیٹھے۔ جب بلوچستان میں بغاوت شروع ہوئی تو اس کی شورش کی نگرانی آئی سی آئی کے سپرد ہوئی۔ وہ بغاوت تو وقتی طور پر ختم کر دی گئی لیکن اب تک بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہو سکے کیونکہ ایجنسیوں اور فوج کشی سے بغاوت کو ناکام بنایا جا سکتا ہے لیکن ان ہیلوں سے ملک میں اتحاد پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ بھٹو صاحب 1974 میں اپنے زعم میں قادیانی مسئلہ حل کرنے کے بعد اپنے آپ کو بہت پر اعتماد محسوس کر رہے تھے۔

انہوں نے 1975 میں آئی ایس آئی میں ایک پولیٹیکل سیل قائم کیا اور ایک ریٹائرڈ کرنل مختار صاحب کو اس کا انچارج مقرر کیا۔ جب ضیاء صاحب کے مارشل لاء کے بعد اس سیل کے ریکارڈ کو ضبط کر کے اس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بھٹو صاحب کے اس خاص وفادار سیل کو کوئی علم نہیں تھا کہ ملک میں مارشل لاء لگایا جا رہا ہے البتہ سینئر فوجی افسران کی زندگیوں کے بارے میں معلومات کا بے کار ڈھیر جمع کر کے رکھا ہوا تھا۔ ضیاء صاحب نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی کرنل مختار صاحب کو فارغ کر دیا۔ گویا جب بھٹو صاحب کو صحیح معلومات اور باخبر رہنے کی شدید ضرورت تھی تو یہ حساس سیل ان کے کسی کام نہیں آ سکا۔

(The ISIS of Pakistan by Hein G Kiesling P 37)

یہ ہمارے وطن کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ حکومتوں کو بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کر کے اور ملک کے تمام طبقوں کی حمایت حاصل کر کے ہی قائم رکھا جا سکتا ہے۔ جب کوئی سربراہ حکومت عوام کی بجائے ایجنسیوں پر انحصار کرنے لگ جائے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ وہ ملک کے عوام تو ایک طرف رہے، خود اپنی پارٹی کی کارکنان سے بھی رابطہ کھو چکا ہے۔ یہ کلیہ صرف پاکستان یا پاکستان کے اداروں تک محدود نہیں ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے حساس اور خفیہ ادارے اپنے سربراہان کو ایسی ایسی پٹیاں پڑھاتے ہیں کہ جن پر عمل کرنے کا نتیجہ سیاسی خود کشی کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلتا۔ اور ہمارے ملک کی تاریخ تو ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments