ابن صفی کا ایکس ٹو اور بنی گالا کے موکل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے ہر دلعزیز ملک میں اور کچھ سستا ہو نہ ہو بدنامی بہت سستی ہے۔ اگر آپ کا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے یا آپ کے آگے پیچھے ہر کوئی ہے دونوں صورتوں میں آپ صرف ایک ویڈیو کی مار ہیں، conent کو نہ آج تک کسی نے پرکھا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے جو نظر آ رہا ہے وہی سچ ہے کے مصداق ایک ویڈیو آپ کی زندگی بدل سکتی ہے، یاد رہے کہ یہ بدلاؤ آپ کو آسمان کی بلندی تک بھی پہنچا سکتا ہے اور آسمان سے نیچے زمین پر بھی پٹخ سکتا ہے۔

ویسے یار دوست اس کو ففتھ جنریشن وار بھی کہتے ہیں جو ملکوں کی سیکرٹ سروسز لڑتی رہتی ہیں اور ہم جیسے خواہ مخواہ ہی اپنے آپ کو اس کا حصہ سمجھتے رہتے ہیں۔ اب دیکھئے نہ کبھی آپ کو صوبے کا انچارج بنا دیا جاتا ہے اور آپ ان ہستیوں کے دوست بن جاتے ہیں جن کی ہوا کو بھی موکل نہیں پہنچ سکتے، اسی طرح آپ ایسی پریس کانفرنسز میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ جن میں دوسروں کی ویڈیوز کے بارے آپ ارشاد فرما رہے ہوتے ہیں کہ لوگو دیکھو یہ منصف کیا کر رہا ہے اور کبھی آپ کے اپنے ہی آپ کے نازک لمحات کی ویڈیوز وائرل کر دیتے ہیں، تو آپ کے آگے پیچھے سب کچھ ہوتے ہوئے بھی آپ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر موٹے موٹے آنسو بہا رہے ہوتے ہیں۔

ویسے یہ قصے تو چلتے ہی رہیں گے آج ہمارا دل اپنے ہر دلعزیز مصنف ابن صفی کی یاد سے بھرا ہوا ہے، میڈیائی ترقی کے بعد ابن صفی کے لازوال کرداروں عمران، ایکس ٹو اور کئی دوسرے، نئی نسل میں تو شاید اتنے نہ جانے جاتے ہوں جتنے انیس سو نوے کی دہائی والوں کے ہر دلعزیز رہے ہیں۔ ہم تو گویا تب سے ہی اپنی سیکرٹ سروس بنانے پر غور کرتے رہے ہیں۔ بہت سے خیالی سیکرٹ سروس کے ملازم بھی ہم نے سالوں رکھ چھوڑے جو خیالوں ہی خیالوں میں ہماری گاڑی کا دروازہ تک کھول کر ہمیں شوفر کی خدمات بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔ چونکہ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے اسی لیے خوابوں میں ہم آئی ایس آئی، ایم آئی سکس یا سی آئی اے میں (را کا نام ہم نے جان بوجھ کر نہیں لیا) اور کچھ نہیں تو ڈپٹی ڈائریکٹر تک تو پہنچ ہی گئے تھے لیکن آہستہ آہستہ ہمیں زندگی کے ایسے تھپیڑے پڑے کے خود شوفر تک کی جاب کے لیے جوتے چٹخاتے رہے۔

اگر سیکرٹ سروس میں نوکری کا معیار جناب ابن صفی کی عمران سیریز، آئن فلمینگ کی جیمز بانڈ سیریز یا کرسٹوفر اینڈریو کی ’دی میکنگ آف دی برٹش انٹیلی جنس کمیونٹی‘ ہوتا تو ہم یہ جاب کب کے لے چکے ہوتے لیکن جناب یہاں تو بڑے بڑوں کو جاب نہیں ملتی تو ہم نے کیا ہی کیا ہے۔ ویسے آج کے پاکستان میں کوئی بھی سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لیے یا تو آپ کا نام کا پہلا حرف ’ع‘ ہونا چاہیے یا پھر آپ کے پیچھے بہت بڑے موکلوں کی طاقت ہونی چاہیے۔

ہو سکتا ہے کہ نوکری کے یہ معیار آپ کو پوری دنیا میں کہیں اور نہ ملتے ہوں لیکن ہمارا تعلق تو جہاں ہم رہتے ہیں وہیں سے ہی جڑا ہوا ہے ہمیں دنیا سے کیا لینا دینا۔ لیکن سنا ہے کہ موکلوں کی طاقت کے سامنے بھی کوئی طاقت کھڑی ہے اور اندرون و بیرون ملک وہ سب سے طاقتور ہے مانی جاتی ہے، ان کے سامنے تو کوئی موکل بھی کھڑا نہیں ہو سکتا کسی انسان کے بس کی بھلا کیا بات ہے۔ پنجابی میں ایک مثال ہے ’ذات دی کوڑھ کرلی تے شہتیراں نوں جپھے‘ ، تو بھائی جتنی بھی کوڑھ کرلیاں (چھپکلیاں ) ہیں ان کو چاہیے کہ شہتیروں کو جپھے ڈالنے کا کام چھوڑ دیں۔

جتنے دن آپ کو ملے ہوئے ہیں اپنی سیاسی زندگی کو احسن انداز میں (کیونکہ عوام کا تو کچومر آپ نکال ہی چکے ہیں ) گزار لیں، بعد میں تو آپ کا ذکر بھی نہ ہو گا داستانوں میں۔ اور رہی بات سیکرٹ سروس کی تو آج تک ابن صفی کے کردار پاکستانی عوام کے ذہنوں سے نہیں اتر سکے تو اصل سیکرٹ سروس والے تو ہمارے دلوں میں رہتے ہیں!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments