ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ قسط نمبر 6

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دانتے کی مقامی زبان کے ادبی استعمال
Vernacular Eloquence (De Vulgaria Eloquentia)

لونجائنس (پہلی صدی عیسوی) کے نظریۂ علویت کے بعد یورپی ادب کی شعبۂ ہائے تنقید کی تشنگی صدیوں پر محیط ہے اور یہ شعبۂ ادب چلتے چلتے جیسے رک سا گیا مگر صدیوں سے مترقب ادب کے قافلے کا انتظار اب فلورنس میں پیدا ہونے والے ایک فلسفی شاعر دانتے پہ ختم ہوا۔ ادب میں علویت Sublimity کے عنصر سے پیشتر یہ امر در خور اعتنا سمجھا گیا کہ کس زبان میں طبع آزمائی کی جائے کیونکہ مقامی زبانیں معدوم ہوئی چاہتی تھیں۔ جس کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں مثلاً سمراجیت کا کمزور تہذیبوں پر یلغار کرنا اور اپنے مستقل نقوش مرتکز کرنے کے لئے شکست خوردہ اقوام پر مختلف طریقوں سے اپنی زبان و ثقافت مسلط کر دینا (جو قبل از تاریخ سے ہوتا آیا ہے ) اور مقامی خصوصاً Bourgeoisies (مڈل کلاس لوگوں ) کا اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لئے سمراج کی آنکھوں کا قصداً تارا بننا جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک فیشن کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو کہ مقامی زبان و ثقافت پر دیمک کا سا کام کرتا ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ مذہبی زبان ہونے کی وجہ سے کئی زبانیں غیر معمولی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں اور مختلف خطوں کے لوگ اپنے اعتقاد اور عقیدت میں ان زبانوں کو مقامی زبان سے زیادہ اہمیت دینے لگتے ہیں۔ اس تناظر میں دانتے پہلا شخص تھا جس نے مقامی زبان (اطالوی Italian) کو لاطینی (Latin) زبان پر فوقیت دی جو روم سے مذہبی جبر کے ساتھ آئی اور اسے محض علمائے سمیت مخصوص افراد ہی سمجھتے تھے۔

فلورنس سے جلاوطنی نے دانتے کو آوارگی پر آمادہ کیا جس میں گذشتگان کی یادیں اس کے مزاج میں مستقل تلخی کا سبب بن گئی Divine Comedy بھی اسی کا نتیجہ ہے لیکن دانتے ایک اور بھی ایسا کام کیا جس پر پہلے کسی کا دھیان تک نہیں گیا تھا وہ ہے مقامی زبان کے ادبی استعمال کے حق میں آواز بلند کرنا: دانتے پہلے باب میں لکھتے ہیں :

”Since I find that no one, before myself, has dealt in any way with the theory of eloquence in the vernacular, and since we can plainly see that such eloquence is necessary to everyone – for not only men, but also women and children strive to acquire it, as far as nature allows – I shall try, inspired by the Word that comes from above, to say something useful about the language of people who speak the vulgar tongue, hoping thereby to enlighten somewhat the understanding of those who walk the streets like the blind, ever thinking that what lies ahead is behind them.“

دانتے نے عوام الناس کو یہ باور کرایا کہ اطالوی زبان کسی بدیسی زبان سے کمتر نہیں بلکہ وہ زبان جسے ملک کے ہر حصے میں بولا جاتا ہو، عوام کے آپس میں رابطے کی زبان ہو، ان پڑھ اور خواندہ یکساں طور پر سمجھ سکیں، جس میں افراد جوڑنے کی صلاحیت ہو، ایسی زبان صدیوں کے ارتقا کے بعد اس قابل ہو جاتی ہے کہ میں نادر و نایاب نمونے تخلیق دیے جا سکیں۔ اس کا ثبوت دانتے کی تصانیف ہیں جو بغاوتاً اطالوی زبان میں لکھی گئیں۔

مقامی زبان کا خاصا یہ ہے کہ وہ کسی بھی قواعد کو سیکھے بغیر سمجھی جا سکتی ہے۔ ہر بڑا فلسفی، شاعر یا عالم اپنی مقامی زبان کے استعمال ہی سے تبحر بنتا ہے کیونکہ یہ زبان اس کے لاشعور میں درست معنی کے تعین کر چکی ہوتی ہے اسی وجہ سے اس کے استعمال کردہ الفاظ میں وسعت اور متنوع معنی غیر معمولی حد تک قابل ذکر ہیں۔ دانتے مقامی زبان کو Natural Language گردانتا ہے کیونکہ کوئی شخص کسی زبان پر کتنی ہی دسترس کیوں نہ حاصل کر لے اس زبان کے مصنوعی پن سے انکار نہیں کر سکتا۔

زبانوں کا طبقاتی حیثیت ظاہر کرنا بھی ایک المیہ جس پر دانتے شدید نوحہ کناں نظر آتے ہیں ہمارے یہاں پنجابی اور اردو زبان کے مقابلے میں انگریزی شرفا کی زبان سمجھی جانے لگی ہے، اطالوی زبان کے مسلسل زوال پر دانتے نے یہ ثابت کیا کہ اس زبان میں عمدہ تراکیب، صفائی، شائستگی کی بے پناہ گنجائش موجود ہے لہٰذا اگر کوئی نواب، بادشاہ یا جاگیردار اس زبان کے استعمال پر اپنے حیثیت پر کوئی قدغن محسوس کرتا ہے تو وہ دراصل ادبی فہم سے کم واقف ہے۔

ممتاز زبان کو Bourgeoisiesکے ہاں سے جو حقارت ملتی ہے وہی زبان کے لئے غریب گھروں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔ دانتے نے زبان کو دروازے کے پیچھے لگے کوئی قبضے سے تشبیہ دی ہے اور دروازے کو گفتگو سے، وہ کہتا ہے پوری گفتگو کا دار و مدار ان قبضوں یعنی زبان پر ہے جس طرف قبضے موڑیں گے زبان مڑ جائے گی۔ شہر کی دوسری زبانیں اسی زبان مقامی کے مطابق ہی بولی یا سمجھی جاتی ہیں لہٰذا اس طرح اس زبان کی شناخت ایک والی و حاکم کی نظر آتی ہے۔

”For, just as the whole structure of a door obeys its hinge, so that in whatever direction the hinge moves, the door moves with it, whether it opens towards the inside or the outside, so the whole flock of languages spoken in the cities of Italy turns this way or that, moves or stands still, at the behest of this vernacular, which thus shows itself to be the true head of their family.“

اس کتاب کی دوسری جلد کا پہلا باب شاعری کو نثر پر فوقیت دیتا ہے اور دی بھی کیوں نہ جائے ایک صنف یعنی نثر اچھا ترجمہ ہو سکتی ہے مگر بقول دانتے ”وہ چیز جس میں موسیقانہ ہم آہنگی ہوتی ہے ایک زبان سے دوسرے زبان میں بغیر اس کے شیرینی اور موسیقی کو مجروح کیے، منقتل نہیں ہو سکتی“ (ترجمہ ڈاکٹر جمیل جالبی) ۔ دانتے شاعری کے حوالے سے مقامی زبان کو استعمال کرنے کی تلقین کرتا ہے اور ظاہر ہے اس طرح بناوٹی زیبائش کرنے کی بجائے قدرتی جاذبیت پیدا ہو جاتی ہے۔ شاعری نثر کے مقابلے میں شدید محنت طلب کام ہے کیونکہ اس میں شاعر کے سامنے بہت ساری پابندیاں ہوتی ہیں لہٰذا محنت ناگزیر ہے، وہ کہتا ہے جو لوگ کم محنت کرتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ زیادہ محنت کرنے والوں کی صحبت اختیار کریں۔

خیالات کی خوبصورت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ڈکشن/اسلوب ایسا استعمال ہو جو اسے امر کرنے کے قابل ہو کیونکہ بیکار خیالات بھی بہترین اسلوب کی وجہ مقبولیت پا لیتے ہیں مثال میں شان الحق حقی کی جنسی شاعری مراد لی جا سکتی ہے۔ دانتے اسی بنا پر کسی شاعری کو اچھا، بہتر یا بہترین سمجھتا ہے۔

دانتے نے ادبی موضوعات کا خطوط اس طرح کھینچے کہ انسان کو تہری زندگی ملی ہے جس سے حیوانی، عقلی اور نباتاتی پہلو آ جاتے ہیں۔ ان تینوں میں ایسے عوامل زیادہ قابل ذکر سمجھتا ہے جن سے وہ کوئی لطف محسوس کرتے ہے، آج تک یہی انسان کے تخلیقی موضوعات کا حصہ بنے رہے ہیں۔ یہاں دانتے کی صلاحیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کیجئیے کہ وہ کہتا ہت ان چیزوں میں سطحی شے کو سطحی اسلوب سے مرتب کریں، لیکن اگر محبت موضوع ہو تو بیانیہ علویت سے بھرپور ہو۔ اس لئے موضوع کا انتخاب کرتے ہوئے اپنی صلاحیت کا اندازہ لگانا بھی ضروری ہے۔

دانتے روایت سے منسلک رہنے والا شخص تھا جسے کئی قدیم شعرا بالخصوص Virgil بہت پسند تھے۔ وہ کہتا ہے بڑے شعرا کی محفل اختیار کرنے سے شعر بھی بڑا ہونے لگتا ہے (خیر یہ کوئی اتنی مسلمہ بات نہیں ہے ) ۔

(نوٹ: دیسی زبان کے ادبی استعمال پر دانتے کی مختصر کتاب، دانتے کے اسلوب اور تنقید پر متعدد آرٹیکلز اور ڈاکٹر جمیل جالبی کی تصنیف کے مطالعے کے بعد یہ نتائج اخذ کیے ہیں ) ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments