عربی ادب میں جاہلی عہد کا شعور

ادب کے علاوہ ایسی کوئی شے نہیں جو کسی قوم کی شعوری سطح کا تعین کرتی ہے۔ ”زمانہ جاہلیت“ اصطلاح کے حوالے سے زبان زد عام لا علمی رویہ ایک طرف، اور عربوں میں زبان و ادب کی محبت ایک طرف۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس ماحول کو قابل مذمت سمجھا اور بتایا جاتا ہے اس عہد کے شاعر اپنے کلام کی قدرت اور فصاحت کی وجہ سے آج بھی دنیائے ادب کا حصہ ہیں۔ ایسی قوم پہ جہالت

Read more

نعمت کا شکر ادا کرنا

اس لاشریک کا ہر انسان کو متعدد اعتبار سے منفرد بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو مخلوق کی سطح پر لاشریک دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے عدل میں زبردست اور کارسازی میں حیرت انگیز فنکار ہے۔ انسان سب سے بڑی تقصیر یہی کرتا ہے کہ وہ آزاد ہونے کے زعم میں رازق پر توکل سے منحرف ہو جاتا ہے یعنی کارساز دو عالم کے کام خود کرنے لگتا ہے اور اس صورت میں خدا اور

Read more

ڈاکٹر صفیہ عباد کے مقالے “راگ رت، خواہشِ مرگ اور تنہا پھول” پر تبصرہ

کتاب: راگ رت، خواہش مرگ اور تنہا پھول مصنفہ: ڈاکٹر صفیہ عباد تبصرہ : علی حیدر علوی گزشتہ کئی ورشوں سے جرعہ بہ جرعہ نامعلوم اضطراب مجھے پیتا جا رہا ہے آخرکار اس سے ایک فائدہ ضرور ہوا کہ مجھے اب اپنا اندروں خالی خالی غبارے کی طرح اوپر کو اٹھتا محسوس ہونے لگا ہے۔ حساس طبیعت بڑی مصیبت ہے اس پر آپ کو ایسے دوست جو دشمن کہلانے کے زیادہ مستحق ہیں، کی صحبت میسر آ جائے۔ ایسے ژولیدہ

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ(9)

تحریر: علی حیدر علوی تصنیف : Laocoon لاؤکون مصنف: گوٹ ہولڈ اپیرم لیسنگ Gotthold Ephraim Lessing ہر عہد میں روشن خیال اور فطرت پرست اذہان کی ہونے والی سمع خراشی نے پسماندہ و غیر فطری نظریات پر سوالات کے ایسے نیزے پھینکے ہیں کہ وہ نظریات تاریک ماضی کا حصہ ہو گئے۔ روشن خیال عہد Enlightenment Age میں جہاں علم کے نام پر الہامی نظریات کی خامیاں اجاگر کی گئیں وہیں ادب کو بھی غیر منطقی اور صنعت تصنع کے

Read more

ادبی تنقید اور فلسفانہ اصطلاحات کی تاریخ (8)

رفتگان ادب بے مثال تخلیق اور تنقید کو قرطاس کی زینت بنا چکے، اب جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ ”نقل کی نقل“ یعنی قدما کی mimes ہے۔ صاحب تصنیف کے ہاں شاعری ”نیچر“ کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور ”نیچر“ کے صحیح یا غلط استعمال کی کسوٹی یہ ہے کہ شعرا نے کس حد تک قدما کی تقلید کی ہے۔ بولو کا کلام فرانسیسی جیسی وسیع و وقیع ترین زبان میں آج بھی اپنی عظمت کا شور

Read more

ادبی تنقید اور فلسفانہ اصطلاحات کی تاریخ (7)

دنیائے ادب میں دو لوگ ناقابلِ فراموش ہیں ایک وہ شخص جو شاعری کو بیکار اور قابلِ اجتناب سمجھتے ہوئے اس پر حملے کرتا رہا ہو اور دوسرا وہ جو اول الذکر کو یہی اعزاز دے کر شاعری کا دفاع کرتا رہا ہو۔ فلپ سڈنی کے زمانے میں ایک سٹیفن گوسن Stephen Gosson نامی حملہ آور نے مذہب کی آڑ میں شاعری پر ہرزہ سرائی کی۔ The School Of Abuse (Containing a Pleasant Invective Against Poets) اس تصنیف میں گوسن

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ قسط نمبر 6

دانتے کی مقامی زبان کے ادبی استعمال Vernacular Eloquence (De Vulgaria Eloquentia) لونجائنس (پہلی صدی عیسوی) کے نظریۂ علویت کے بعد یورپی ادب کی شعبۂ ہائے تنقید کی تشنگی صدیوں پر محیط ہے اور یہ شعبۂ ادب چلتے چلتے جیسے رک سا گیا مگر صدیوں سے مترقب ادب کے قافلے کا انتظار اب فلورنس میں پیدا ہونے والے ایک فلسفی شاعر دانتے پہ ختم ہوا۔ ادب میں علویت Sublimity کے عنصر سے پیشتر یہ امر در خور اعتنا سمجھا گیا

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ (قسط نمبر 5)

اسم کی مماثلت کی پاداش میں اس تصنیف کا شاعر قرطاس تاریخ پر ابھر نہ سکا۔ پس یہ ساکنان شام کی ملکہ زینوبیا Zenobia کا وزیر ہو، یونانی ہو یا رومن، فرق نہیں پڑتا، لونجائنس اپنے کام سے امر ہو گیا نام سے دفن۔ تاریخی شواہد میں اس تصنیف کے چند مصرعے بطور حوالہ تیرھویں صدی عیسوی کی ایک کتاب میں ملتے ہیں، پھر سولھویں صدی میں 1554 میں Francis Robortello نے اور 1560 میں Niccolò da Falgano نے اس

Read more

ادبی تنقید اور فلسفانہ اصطلاحات کی تاریخ قسط نمبر4

نظم: فن شاعری Ars Poetica ہر شعبۂ حیات و تخلیق میں اہل یونان کی تنقیص و تقریظ والے نوشتے جدید علم و فکر کے فٹ نوٹس مانے جاتے ہیں۔ حریم یونان میں مفکرین کا غیر معمولی تفکر نے انھیں اس مقام پہ متمکن کر دیا ہے کہ علم اور اہل یونان ایک دوسرے کے مترادف بن چکے ہیں۔ تزئین ادب اور بڑا ادب تخلیق کرنے کے لئے یونانیوں کی ادب پر دور اندیشی، باریک بینی، ژرف نگاہی، آفاقی نظریات، اور

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ قسط نمبر 3 بوطیقا باب 11 سے 25

زمانۂ قدیم میں مستعمل صنف ٹریجڈی، جس کی چھاپ موجودہ ڈرامہ پہ بھی تقریباً اسی طرح قائم ہے جیسے ہزار ہا سال پہلے تھی۔ متنوع تنقیدی نقطہ ہائے نظر سے بڑے ناقدین Poetics پہ لکھ چکے ہیں جو اپنے مقررہ جگہ پہ درج کروں گا لیکن اس کے باوجود ارسطو نے وہ عوامل بیان کیے جو سماجی تغیرات اور مذہبی پابندیوں کے باوجود آج تک قائم و دائم ہیں۔ دسواں باب سادہ اور پیچیدہ/مشکل پلاٹ پہ ختم ہوا جس میں

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ۔ قسط نمبر 2

کتاب : Poetics شاعری کے متعلق الہامی نظریات اور شاعر کو متدارک اور متفکر ماننے کے باوجود یونانی فلسفی افلاطون کو فن اور فنکار کی حیثیت سمجھنے میں مغالطہ ہوا۔ افلاطون شاعر کو اپنی مثالی ”ریاست“ میں بیکار اکائی شمار کرتا ہے، شاعر چونکہ طبیعتاً باغی ہوتا ہے اس لئے افلاطون سماج اور شاعر کو متخالف دکھاتا ہے، لیکن فن (شاعری یا مصوری) میں ”نقل“ کا مسئلہ، شاعری کی ”ماہیت“ ، اور شاعری کی ”آفاقیت و مقصدیت“ جیسی بڑی بحثیں

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ

زندگی کے کسی شعبے میں نئے آنے والوں کو اپنا منفرد مقام بنانا گویا بھڑوں کا چھتا چھیڑنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح ادب میں نئے لکھنے والوں کے لئے ہر وہ شخص ہی ٹی ایس ایلیٹ یا گوپی چند نارنگ ہے جس نے ایک مصرع کہا ہو۔ اس کے برعکس چند لوگ بے لوث محبت اور حوصلہ افزائی کرنے والے بھی ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا چند۔ لہٰذا بیٹھے بیٹھے خیال آیا تنقید کی تواریخ اور ادب

Read more

فنون لطیفہ کے لئے افلاطون اور موجودہ ڈکٹیٹرز میں فرق

پاکستان کا حکومتی نظام ہر دور میں کسی monarch کے زیر احسان، ڈکٹیٹر کے نافذ کردہ جائز اور ناجائز اصولوں پہ عمل پیرا نیم مردہ ڈیموکریسی کا نظام ہے جہاں ہر انسان کو انفرادی اظہار رائے کا اعتماد دے کر کس خوش اسلوبی سے بہلایا جا رہا ہے! ادبی حلقوں میں اگر Dark Comedy پر مشتمل کوئی ضخیم تصنیف درکار ہو تو پاکستانی میں جمہوریت کی تاریخ کو جوں کا توں رقم کر دیا جائے لیکن یہاں ایسا کرے کون

Read more

ہماری شرح خواندگی کی حقیقت

جس ملک کی قومی دستاویزات پر شرح خواندگی اس لیے فرضی اعداد و شمار میں ہوتی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر رہا سہا وقار بچایا جا سکے اور بہت زیادہ اس لیے نہیں بتا سکتے کہ تعلیم کے نام پر ملنے والی خیرات سے کشکول ملت خالی ہو جائے گا۔ خیرات پر پلنے والی اقوام سخاوت کے حجاب میں چھپے استحصالی رویے کو سخی کا حق سمجھتی ہیں حالانکہ یہ استحصال سخاوت سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ ہونا

Read more

جی سی یونیورسٹی ایک درگاہ

اس کرہ ارض پر انسان غالباً یکتا تخلیق ہے جو غیر مختتم خواہشات سے بھرا ہوا مشوش مگر متفکر خانہ رکھتا ہے جس کو موجودہ ناگہانی زیست کے لئے اچھوتی اور قیمتی اشیاء درکار ہیں۔ لیکن کیا اس کی حس استلذاذ ان اشیاء کے لئے ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔ ؟ یقیناً نہیں۔ لہٰذا شاہراۂ شعور پر عقل بیساکھیوں پر چلتی دکھائی دیتی ہے اور عشق فرس پر سوار، عقل پہ گرد اڑاتے ہوا پوری شان کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ عقل کے برعکس عشق کا خاصا ہی یہ ہے کہ اس میں حس استلذاذ ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔

Read more