ویلڈن اسحاق ڈار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف نے ناسازگار موسموں اور سرکش قوتوں کے سامنے سول سپر میسی کا علم اٹھایا تو تب اس کا زاد راہ فقط چند وفادار ساتھی یا انگلیوں پر گنے جاتے چند دلیر اور حق گو صحافی ہی تھے۔ ( تب پنڈی کی ایک خاتون اور ایک فیشن ڈیزائنر کا کاروباری وژن اور صرف خوشامدانہ ٹویٹ کی بلائیں لینا بیانیے کا حصہ نہ تھے)

لیکن اس تحریک کے عقب میں نواز شریف کی پچھلی حکومت کی وہ شاندار کارکردگی بھی تھی جسے در اصل ان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک معجزے کی شکل میں ترتیب دے کر دنیا کو دنگ کر دیا تھا

پٹرول کو پینسٹھ اور ڈالر کو سو روپے پر باندھ کر اسحاق ڈار مفلوک الحال معیشت کو کھلے میدان میں لے آیا تو حالت نزع کو پہنچے سٹاک ایکسچینج نے کچھ ہی دنوں میں قلانچیں بھرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چون ہزار کی بلندی کو چھو لیا

جی ڈی پی چھ فیصد کی طرف بڑھنے لگی تو مہنگائی کی شرح خود بخود گرتے گرتے تین فیصد پر ہانپنے لگی تھی کہ ٹاوٹ صحافیوں اور بے عقل لونڈوں کو عمران خان (اب نام ہی کافی ہے ) کے گرد اکٹھا کر کے ایک اودھم مچایا گیا اور پھر اس کے بطن برآمد ہوتا ایک تباہ کن منظر نامہ آپ کے سامنے ہے۔

اس بد نصیب ملک پر حسب سابق آمریت کی پردہ پوش شام الم اتری اور جیلوں اور جلاوطنیوں کا بازار سجا تو اس بدبخت قوم کے معاشی محسن اسحاق ڈار نے بھی اپنا بوریا بستر اٹھا کر دیار غیر کا رخ کیا

لیکن ادھر کا وٹس ایپ میڈیا حسب معمول نواز شریف اور اس کے ساتھیوں یا با الفاظ دیگر سول سپر میسی کے حامی سیاستدانوں کے خلاف تسلسل کے ساتھ زہر اگلنے اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے میں لگا رہا

ان ”ٹارگٹس“ میں سے ایک اہم ٹارگٹ اسحاق ڈار بھی تھا کیونکہ وہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر ڈالنے والوں میں سرفہرست تھا اور چونکہ ترقی کی بطن سے قانون کی بالا دستی اور شعور پھوٹتا ہے اس لئے ایسے لوگ ”وارا“ نہیں کھاتے بلکہ انہیں اول درجے کا دشمن سمجھا جاتا ہے

سو صحافتی بھیڑیوں کو ٹاسک دیا گیا کہ اسحاق ڈار کی چیر پھاڑ کرتے رہیں

ظاہر ہے کہ ایسے کاموں کے لئے پرلے درجے کے ٹاوٹ ہی درکار ہوتے ہیں جن کے پاس معلومات شواہد اور دلیل تو درکنار، عقل تک بھی نہیں ہوتی

اس لئے ان کا سارا زور بے بنیاد الزام تراشی جھوٹ اور فریب کاری پر ہی ہوتا ہے سو اس معاملے میں بھی اس فرسودہ ”تکنیک“ کے استعمال سے کام لیا گیا جسے اسحاق ڈار نے فوراً اچک لیا اور اس پروگرام کے ویڈیوز لے کر برطانوی عدالت میں پٹیشن دائر کر دی

سو چند گھنٹے پہلے سنائے گئے عدالتی حکم کے مطابق ARY چینل کو اپنے ”عظیم ماہرین اور سینیئر تجزیہ نگاروں“ چودھری غلام حسین اور صابر شاکر کے ہاتھوں نہ صرف ایک لاکھ پاونڈ کا جرمانہ دینا پڑا بلکہ اپنے چینل پر معافی بھی مانگنا پڑی گویا اب ہور چوپو والی صورتحال درپیش ہے۔

اور اس حوالے سے صرف انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر پیش رفت ہونے لگی ہے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست خارج کر چکی جبکہ حال ہی میں ابصار عالم کے خلاف ایف آئی اے بھی اپنی درخواست واپس لے چکی ہے۔

گویا معاملات اب اس نہج اور ڈگر سے دور ہوتے جا رہے ہیں جسے ایک مصنوعی فضا میں پروان چڑھا یا گیا اور اپنے مطلوبہ اہداف کو انتہائی غیر فطری انداز سے حاصل کیا گیا۔

میاں نواز شریف نے یقیناً سول بالادستی کی ایک مشکل اور اعصاب شکن جنگ لڑی جس میں انہوں نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت ناقابل فراموش قربانیاں بھی دیں لیکن دیکھا جا رہا ہے کہ اعتقاد کا روپ دھارتے بیانیے پر اپنی اہمیت اجاگر کرتی اور نواز شریف کے مخلص ساتھیوں کو ہر وقت پیچھے دھکیلتی ایک کوتاہ قد خاتون کا اثر ضرورت سے کچھ زیادہ بڑھ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ کاروباری خواتین بیانیے کو اپنے برانڈز کی تشہیر کی طرف موڑ رہے ہیں جبکہ ٹویٹر پر سنجیدہ معاملات کا نوٹس لینے کی بجائے غیر سنجیدہ ٹویٹس پر خراج بھی کسی طور مناسب نہیں۔ بہرحال پارٹی قیادت کو ان معاملات کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ جمہوری جدوجہد ایک ذمہ دارانہ رویے کا متقاضی ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ نواز شریف جمہوری قوتوں کی لشکر ناسازگار موسموں اور بد رنگ ساعتوں سے گزار کر آخری پڑاؤ پر پہنچا آیا ہے۔

لیکن تاریخ کے اوراق یہی سمجھا رہے ہیں کہ فصیلوں کے آس پاس آخر شب کا فیصلہ کن معرکہ بصیرت اور بہادری ہی کا تقاضا کرتی ہے

نواز شریف کے دلیر پن اور بصیرت کے ساتھ ساتھ ان کے صف اول کے ساتھیوں شاہد خاقان عباسی سے اسحاق ڈار پرویز رشید سے رانا ثناء اللہ اور خواجہ آصف سے عظمی بخاری تک سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے یقیناً ایک تاریخ رقم کر دی لیکن پیش رفت کے ساتھ ساتھ اپنے لشکر پر نگاہ بھی رکھنا چاہیے

اسی لشکر کے ایک اہم کمانڈر اسحاق ڈار نے ابھی ابھی ایک فصیل کو گرا دیا ہے جبکہ مرہم نواز فیصل آباد میں ایک اور رخ سے ”اچانک اور غیر متوقع“ حملہ کر چکی ہیں

حلیف قرئیے سے مولانا کی سرفروش کمک بھی پہنچ رہی ہے
غلاموں کی سراسیمگی اور دہشت بھی قابل دید ہے۔
اور اونچے ایوانوں کی تو تکار گلی کوچوں کا موضوع بن گیا ہے
کل کی خبر تو خدا جانے لیکن۔
دگرگوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments