رسم جشن، خوشی یا تماشا


پیلی روشنیوں سے جگمگاتی لاہور کی پر رونق گلیوں میں انداز و نیاز سے گزرتے لوگوں کے قدموں کی چاپ اور ہلکی ہلکی ترنم کی صدا سن کر جب میں گلی میں پہنچا تو ترنم کی صدا آہستہ آہستہ دل دہلا دینے والے شور میں تبدیل ہونے لگی۔ اچانک لوگوں کا رش بڑھنے لگا۔ گاڑیوں کا شور سن کر پر لطف فضا بے کیفی کا نظارہ پیش کرنے لگی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میں تعجب کے سحر میں مبتلا ہوتا چلا گیا۔ میں نے ہمت کی اور پاس سے گزرتے ایک معمر شخص سے دریافت کیا، یہ سب کچھ کیا اور کیوں ہو رہا ہے؟

پہلے تو ایسا کبھی بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے نہایت خلوص کے ساتھ مودبانہ انداز میں بیان کیا کہ یہاں سے 12 ربیع الاول کے سلسلے میں ایک جلوس گزرنے والا ہے۔ اس جلوس میں نعت رسول ﷺ کی گونج کے لیے سپیکروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہ جو لوگ گزر رہے ہیں یہ وہاں سے ہی آرہے ہیں جہاں سے جلوس برآمد ہوا تھا اور ان کا یوں گزرنا اس بات کی خبر ہے کہ جلوس بہت جلد یہاں سے گزرنے والا ہے۔ اتنا کہہ کر وہ چل دیے اور میں کھڑا انتظار کرنے لگا۔

چند لمحات میں ہی جلوس سڑک کے کنارے سے برآمد ہوا اور اس گلی کی طرف مڑا جو سڑک سے نسبتاً تنگ تھی اور جس میں میں کھڑا انتظار کی ساعت کا تجزیہ کر رہا تھا۔ جلوس پر نظر پڑی، وہ گلی کے کچھ اندر آ کر رک گیا۔ میں اس طرف چل دیا، دیکھتا کیا ہوں کہ اچانک نغمہ رسول ﷺ کی بجائے گانے کا شور بلند ہوا۔ دو اشخاص جو نسلاً پنجابی مگر حلیہ سے عربی معلوم پڑتے تھے نمودار ہوئے اور ایسا ڈانس شروع کر دیا جیسا شادی بیاہ کے موقع پر تماشا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

حیرت میں گم، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ضمیر نے جھنجھوڑا اور تلخ آواز میں پوچھا کیوں کھڑے ہو یہاں؟ یہاں سے چلتے بنو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آمد کی خوشی یہ نہیں جیسی تمہاری نظروں کے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔ بلکہ اس خوشی کا اندازہ اس رب کریم کے اس کرم سے کرو کہ جب نبی کریم ﷺ کی پیدائش مبارک ہوئی تو اس نے دنیا کی تمام ماؤں کو بیٹوں سے نوازا۔ اگر خوشی کا اندازہ کرنا چاہتے ہو تو ابو طالب کے اس عمل سے کرو کہ جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کی پیدائش کی خبر سنی تو اپنی لونڈی کو جس نے آ کر نوید سنائی تھی آزاد کر دیا۔

ضمیر نے چیخ چیخ کر کہا کہ اگر تم نے کبھی خاکی دنیا کے بے قلب حیوانوں کے تماشے کو بغور دیکھا ہے تو یہاں سے چلے جاؤ۔ میں سوچ میں محو ہو گیا۔ ایک سوال میرے قلب کی گہرائی سے آسمان پر اچانک چھا جانے والی کہر کی مانند نمودار ہوا اور ذہن کی وسعت میں آ کر چکر لگانے لگا۔ مگر میں جواب تلاش کرنے سے قاصر رہا۔ سوال تھا کہ موجودہ لوگ جشن خوشی منا رہے ہیں یا جشن تماشا؟ اس سوال کا جواب میں اپنے قارئین پر چھوڑتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اس جواب کی تلاش میں میری مدد ضرور کریں گے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں وہ جواب دینے کے زیادہ اہل ہیں۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais