غیرت ہے بڑی چیز


دنیا کے مختلف ممالک میں غیرت کی مختلف تشریحات کی جاتی ہے کہیں پر رزق حلال کمانے کو غیرت کہا جاتا ہے کہیں گالی دینے والے کو تھپڑ رسید کرنا غیرت کا تقاضا اور کہیں شک کی بناء پر بہن یا بیٹی کو گولی مارنا غیرت کہلاتا ہے جبکہ کبھی کبھی وعدہ پورا نہ کرنے والوں کو غیرت کی وجہ سے چلوں بھر پانی میں ڈوب مرنے کا کہا جاتا ہے مگر شاعر فرماتے ہیں۔

غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں۔ پہناتی ہے درویش کو تاج سر دارا

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ معلوم تاریخ میں حکومت اختیار اور اقتدار انتہائی قیمتی شے ہے جس کے لئے باپ بیٹا اور بھائی ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جاتے ہیں۔ یعنی اقتدار کا نشہ جب سر چڑھ کر بولتا ہے تو پھر سامنے ہر چیز ہیچ نظر آتی ہے۔ البتہ آمریت اور بادشاہت والی اقتدار اور جمہوریت والے اقتدار میں فرق ہوتا ہے۔ اول الذکر میں چونکہ مقتدر شخص حاکم اور عوام محکوم ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ تاحیات اسی عہدے پر براجمان رہنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ عوام کی تکالیف مسائل و مشکلات تو ایک طرف رکھیے عوام کے ہاتھوں اپنی بے عزتی اور بد دعاؤں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تاکہ کسی نہ کسی شکل میں اس کے اقتدار کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا رہے۔

جبکہ مؤخر الذکر میں عوام حاکم اور صدر یا وزیر اعظم خادم ہوتا ہے۔ اس میں نہ صرف صاحب اقتدار شخص خود کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو غیرت مند وزراء وزراء اعظم اور صدور ایسی باتوں پر بھی استعفی دے دیتے ہیں جس کے وہ اصل میں ذمہ دار یا قصور وار بھی نہیں ہوتے ہیں۔ یعنی بقول افتخار عارف۔ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے۔ وہ قرض اتارے ہیں جو لازم بھی نہیں تھے۔

یعنی ایسی صورتحال جب ملک کے زیادہ تر لوگ اپنے حکمران کو ناکام سمجھے۔ ان کو کسی ایسے کام کا ذمہ دار سمجھے جو غلط ہو۔ کسی ایسے حادثے یا واقعہ کی ذمہ داری ان پر ڈالے۔ جس کو روکنا ممکن تھا مگر نہ روکا جا سکا ہو۔ ایسی صورتحال کو دیکھ کر اکثر خود دار لوگ استعفی دے دیتے ہیں اور عالمی سطح پر اسی کو غیرت کہا جاتا ہے۔ اس کی اگر مثالیں دینا شروع کردوں تو ماضی قریب سے بھی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔

دوسری طرف افسوس ہے ہمارے پاکستانی حکمرانوں پر، کہ ایک طرف دعوے تو کرتے ہیں خدمت کے، جمہوریت کے، خود داری اور غیرت کے۔ مگر اصل میں اقتدار کے بھوکے ہوتے ہیں۔ اور کرسی سے ایسے چمٹ جاتے ہیں۔ کہ کرسی سے اترنا انہیں موت دکھائی دیتا ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں مثال کے لئے ہمارے موجودہ وزیر اعظم جناب عمران بذات خود بلکہ بقلم خود موجود ہے۔ ان کے اس قسم کے بیانات نہ صرف ریکارڈ پر ہے بلکہ آئے دن وہ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بار بار چلا کر انہیں یاد دہانی بھی کرائی جاتی ہے مثلاً قرض لینے پر خودکشی کو ترجیح دوں گا۔

پھر قرض لیتے ہیں تو دو گنا چار گنا نہیں، تین سال میں ستر سال سے زیادہ قرض لیتے ہیں۔ مگر ان کی غیرت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے۔ بیان دیتے تھے۔ کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔ چوروں کو جیلوں میں ڈالوں گا۔ آج پورے پاکستان میں کوئی ایک چور جیل میں نہیں ہے۔ بقول ان کے جو بڑے بڑے چور تھے جن میں نواز شریف، خواجہ آصف، زرداری، گیلانی، راجہ پرویز اشرف، ڈاکو پرویز الہی اور مونس الہی، چپڑاسی شیخ رشید، پیپلز پارٹی اور ق لیگ کابینہ کے شوکت ترین اور فواد چوہدری سمیت درجن بھر وزراء شامل ہیں ان کو تو انھوں نے این آر او دے کر اقتدار کا ساتھی بنا دیا۔

شوکت ترین کے ساتھیوں کے ڈر کی وجہ سے تمام چینی چور دندناتے پھر رہے ہیں ان کو ایف آئی اے کے ذریعے این آر او دے دیا گیا۔ اور اب اپنے آپ اور اپنے چور وزراء کو بچانے کے لئے تمام سابقہ چوروں کو بھی بچا دیا گیا۔ نیب آرڈیننس کا اجراء کر کے نیب کو بے دست و پا کر دیا گیا۔ اس سے پہلے پختونخوا میں احتساب کمیشن کا قیام اور واپس خاتمہ بھی ہم بھولے نہیں ہے۔ کاش کہ ایسے موقع پر ان کی غیرت جاگ جاتی۔ فرماتے تھے اگر سو بندوں نے بھی جمع ہو کر مجھ سے استعفی کا مطالبہ کیا تو اسی وقت استعفی دے کر دوبارہ عوام کے پاس جاؤں گا۔

آج گلی گلی محلہ محلہ ان کے پتلے جلائے جاتے ہیں مساجد سے ان کو اجتماعی بد دعائیں دینے کے لئے اعلانات ہو رہے ہیں۔ تمام تر دباؤ اور پابندیوں کے باوجود ٹی وی سکرینوں پر حق اور سچ بولنے والوں کو حوصلہ مل رہا ہے اور وہ اب بولنے لگے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی غیرت جاگنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ سنتے ہیں کہ ایوب خان دور میں چینی کی قیمت میں چار آنے اضافہ ہوا تھا لوگوں نے احتجاج کے دوران ایوب خان کا پتلا بنایا اور ایوب خان کتا ہائے ہائے کے نعرے لگائے۔ اسی وقت انھوں نے اقتدار سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کر دیا۔ مگر اے کاش۔

بے حسی اور غیرت سے ناشناسی کی حد یہ ہے کہ اس تمام تر ناکامیوں اور ابتر صورتحال کے باوجود وہی پانچ سال پرانا بیان بار بار دہرانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں فرماتے ہیں کہ جب تک بڑے لوگ قانون کے نیچے نہیں آئیں گے ملک سے کرپشن ختم نہیں ہو سکتا ہے اور یہ کہ ہم بڑے لوگوں کو قانون کے نیچے لائیں گے۔ کیا عمران خان کا کوئی وزیر مشیر کوئی حامی ان کو اس بات کی یقین دہانی نہیں کرا سکتا ہے کہ خان صاحب۔ آپ کے احتساب کا بیانیہ اپنی موت آپ مر چکا ہے۔

آپ بڑوں کو قانون کے نیچے لانے کے دعوے کرتے کرتے نیب آرڈیننس کے ذریعے سب کو قانون سے استثنا دے چکے ہیں اب آپ قوم کو مزید بے وقوف نہیں بنا سکتے ہیں۔ آپ کی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ خان صاحب یاد رکھیے کہ اب تک آپ کی سب سے بڑی بلکہ واحد کامیابی یہ تھی کا آپ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر تھے۔ اس کے سوا اپنی حکومت کو بچانے کے لئے آپ کی کریڈیٹ پر کچھ بھی نہیں۔ اب جبکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ وہ ایک صفحہ پھٹ چکا ہے۔

اس لئے اب آپ کا انتقامی سیاست اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ اس پوزیشن پر میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ آپ میں غیرت نہیں ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اصول پسند اور غیرت کے دعویدار لوگ ایسے موقع پر استعفی دے کر کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ غلطی کرنا، ناکام ہونا کوئی گناہ نہیں مگر اپنی غلطی یا گناہ کو تسلیم نہ کرنا اور اس پر ڈٹ جانا پھر غلطی نہیں جرم بن جاتا ہے۔ اور آپ اس وقت قوم کے بچے بچے کا مجرم ہے آپ نے نوجوانوں سے ان کے مستقبل کے خواب چرائے ہیں۔ آپ نے بوڑھوں کے امیدوں کا خون کیا ہے۔ آپ نے خواتین کے آسرے کو توڑا ہے۔ آپ نے تھرڈ آپشن کو ناکام ثابت کر کے قوم کے امیدوں کا جنازا نکال دیا ہے۔ آپ نے سیاست کو گالی بنا کر کمزور جمہوریت کے گلے پر چھری پھیر دی ہے۔ اس لئے بقول طارق عزیز۔ آپ کے پاس مزید غلطی کی گنجائش نشتہ۔

Facebook Comments HS