جنگ کو ایک موقع دیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چاچا سلامت بڑا بھلا مانس سا انسان ہے۔ بہت صلح جو اور شریف۔ لیکن اگلے دن پتہ چلا کہ وہ ہر جگہ عالمی جنگ لگنے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے۔ پچھلے ہفتے گاؤں جانا ہوا تو چاچے سلامت سے تفصیلی بات ہوئی۔ میں نے چھوٹتے ہی اس کی عالمی جنگ کے متعلق ہولناک خواہش کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ چاچا کہنے لگا، ”برخوردار! یہ سچ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ آج کل میں عالمی جنگ شروع ہو جائے۔ اگرچہ مجھے معلوم ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے دیگر کئی اہم اور غیر اہم فیصلوں کی طرح عالمی جنگ چھیڑنے نہ چھیڑنے کے فیصلے میں میری خواہش کو کوئی بہت زیادہ اہمیت ہرگز نہیں ملے گی۔

لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ایسی کسی جنگ کی جتنی ضرورت اب ہے پہلے کبھی بھی نہیں رہی۔ اور اس خواہش کی کوئی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً جب سے موبائل فون آیا ہے باہر تو کیا اپنے گھر میں ہفتوں کسی سے ڈھنگ سے بات نہیں ہو پاتی۔ عجیب بد حواسی کا عالم ہے۔ گھر کا ہر فرد مخبوط الحواس بنا کھلے منہ اور جھکی گردن کے ساتھ فون پہ مصروف ہے۔ حتیٰ کہ اسی گھر میں بیٹھے زبان کی بجائے میسیج پہ بات ہوتی ہے۔ گھر میں جس دن نیٹ کا کوئی مسئلہ بن جائے تو سب کو ایسی بے چینی لاحق ہوتی ہے کہ الامان۔

یوں لگتا ہے جیسے آئی سی یو میں پڑے مریضوں کے آکسیجن ماسک کسی نے اتار دیے ہوں۔ سو! عالمی جنگ سے جو نقصان اور تباہی متوقع ہے اس سے زیادہ تو پہلے ہی ہو چکی ہے۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایسی کسی جنگ کے بعد جو چار لوگ بچ جائیں گے ان میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور انسیت زیادہ ہو جو موجودہ نسل میں بالکل ناپید ہو چکی ہے۔ دوسری طرف رونا اس بات کا ہے کہ ایک تو یہ نسل ہماری سمجھ سے باہر ہے اور دوسری طرف اسی“ اعلیٰ نسل ”میں صبح و شام بلا روک ٹوک بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔

لوگ یہ سمجھے بغیر کہ ایک بچے کی مناسب پرورش کے لیے کتنی توجہ مطلوب ہے اور کس قدر وسائل درکار ہیں، اپنا خاندان بے تکان بڑھائے چلے جا رہے ہیں۔ گلیوں میں ننگ دھڑنگ رلتے پھرتے بچوں کی تعداد میں آئے دن بڑھوتری ہو رہی ہے۔ اور نوبت ایں جا رسید کہ کھیتوں میں محنت مزدوری کرنے والے ماں باپ کی گھر میں موجود پانچ چھ سالہ بچی کی ایک“ ذمہ داری ”یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے تین چار چھوٹے بہن بھائیوں کی“ دیکھ بھال ”بھی کرنی ہے۔

بے تحاشا بڑھتی آبادی کے ایسے خوفناک طوفان نے ہر چیز تہہ و بالا کر کے رکھ دی ہے۔ تو ان حالات میں جب کہ فیملی پلاننگ اور اس قبیل کے دوسرے حربے آبادی کو کم یا کنٹرول کرنے میں بے طرح ناکام ہو چکے ہیں تو میرے خیال میں اس طرح کی کسی جنگ کو ایک موقع دینا چاہیے۔ شاید مطلوبہ نتائج برآمد ہو سکیں۔ “ اس پر میں نے چاچے کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ وہ کتنی خوفناک اور غیر مناسب بات کر رہا ہے۔ یعنی وہ یہ سوچ رہا ہے کہ آبادی کو جنگ کے ذریعے کنٹرول کیا جائے۔

استغفرااللہ۔ اس پر چاچا کہنے لگا، ”میرا تو ایک مشورہ ہے باقی ان لوگوں کی مرضی۔ چلیں انسانوں کی بات چھوڑیں! آپ دیگر مخلوقات کوہی دیکھ لیں۔ آپ گاؤں میں پھرنے والے آوارہ کتوں کو ہی دیکھیں۔ درجنوں کی تعداد میں گلیوں میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ روز کسی نا کسی کو دھر لیتے ہیں۔ جس کے پیچھے بھونکتے ہوئے پڑتے ہیں اسے گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں۔ کئی شریف لوگوں کا ان کی وجہ سے گاؤں میں باعزت انداز سے چلنا دوبھر ہو گیا ہے۔

میرے اور صبح کی سیر کے درمیان صرف ایک رکاوٹ ہے اور وہ یہی کتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسے بے مقصد بھونکنے اور بلا تمیز کاٹنے والے کتے پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہیں۔ ہم نے ان کو ختم کرنے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے لیکن یہ تو بڑھتے جا رہے ہیں میرا نہیں خیال کہ عالمی جنگ کے علاوہ کوئی چیز انہیں ختم کر سکتی ہے۔ یوں میں سمجھتا ہوں اس طرح کی ایک جنگ ہمارے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو حل کرنے میں بڑی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

“ اس پر پھر میں نے چاچے کو دوبارہ بتایا کہ وہ ایسی خطرناک باتوں سے اجتناب کرے۔ چاچے سلامت نے دو شادیاں کر رکھی ہیں۔ ایک دفعہ جب چاچا جنگ کے بارے اپنے انہی خیالات کا اظہار کر رہا تھا تو میں نے اسے کہا کہ چاچا اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو! آپ کے تصور میں نہیں کہ عالمی جنگ کس بلا کا نام ہے۔ اس پر چاچا اپنی دونوں بیویوں کے کمروں کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا، ”میرے لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے“ چاچے کے نزدیک ان معزز خواتین سے جان چھڑانے کا واحد ”بے ضرر“ طریقہ صرف عالمی جنگ ہی ہے۔ چاچے کی دونوں بیویاں آپس میں ایسے رہتی ہیں جیسے سوکن ہوں۔ لیکن چاچے کے خلاف لڑائی کا وقت آتا تو وہ دونوں ”ایک پیج“ پر نظر آتی ہیں۔ اور یہ وقت روزانہ ہی آتا ہے۔

چاچے سلامت کے مطابق عالمی جنگ کے نقصانات بھی ہیں لیکن فی زمانہ شاید اس کے کچھ فائدے بھی ہیں۔ چاچے سے اس بارے پوچھا گیا کہ عالمی جنگ کے اور کیا فائدے ہو سکتے ہیں تو چاچے نے اپنے منفرد انداز میں بتایا کہ پتر پنڈ کے اصلی چوہدری کا پتہ چل جاتا ہے بندہ دو نمبر چوہدریوں کو سلام کرنے سے بچ جاتا ہے۔ ”لیکن چاچا عالمی جنگ آپ کے پنڈ میں ہی تو نہیں لگنی۔“ چاچا کہنے لگا، ”پتر! دنیا بھی میرے پنڈ کی طرح ہی ہے اس کے کئی چوہدری بنے پھرتے ہیں۔ عالمی جنگ کے بعد اصلی نقلی کا فرق سمجھ آ جائے گا۔ ’میں نے چاچے سے ملاقات ختم کی اور اس کے لیے ہدایت کی دعا کرتا وہاں سے اٹھ آیا۔

Latest posts by ناصر محمود ملک (see all)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments