کیا آپ درویش صفت اور عظیم سائنسدان نیکولا ٹیزلا کے کارناموں سے واقف ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر مقناطیس، لوہے، اور اس سے بنی اشیا اپنی طرف کھینچنا چھوڑ دے تو دنیا کا اسی فیصد نظام ساکت و جامد جائے گا، بحری جہاز ڈوب جائیں گے، ہوائی جہاز گر پڑیں گے، کمپیوٹر، ٹیلی فون، ریڈیو اور ٹیلی وژن بند ہو جائیں گے اور دنیا اندھیروں میں گم ہو جائیں گی کیونکہ مقناطیس کے ناراض ہونے سے بجلی یا برقی رو بند ہو چکی ہوگی۔

بجلی گھر سے تاروں کے ذریعے ہمارے گھروں تک آنے والی بجلی کو متغیر برقی رو یا آلٹرنیٹنگ کرنٹ کہا جاتا ہے۔ اس کو سب سے پہلے دریافت کرنے اور اس کو بجلی گھر سے ہمارے گھروں تک پہنچانے کا نظام وضع کرنے والے انجینئر، سائنسدان اور مؤجد کا نام ”نیکولا ٹیزلا“ ہے۔

نیکولا ٹیزلا وہ پہلے سائنسدان تھے جن نے یہ دریافت کیا کہ مقناطیس کے ارد گرد ایک ان دیکھا مقناطیسی علاقہ (میگنیٹک فیلڈ) ہوتا ہے۔ جس میں مقناطیسی طاقت کی کرنیں گردشی سفر کرتی ہیں۔ اگر ان لکیروں کو کاٹنے کا بندوبست ہو جائے تو اس عمل سے بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔

اسی طرح اگر دھاتی تار کو کو کوائل کی صورت دے کر اس میں سے بجلی گزاری جائے تو وہ دھاتی کوائل، مقناطیس بن جاتی ہے۔ یہ وہ بنیادی دریافتیں تھیں جو آگے چل کر بجلی کی پیداوار، انڈکشن موٹر کی شکل میں دنیا کو تحفے میں ملیں۔ اور ٹیزلا کوائل نے آگے چل کر ریڈیو، موبائل فون، ٹیلی وژن اور ایکس رے مشین، روبوٹ، بغیر بلیڈ کی ٹربائن، ریڈار اور ریموٹ کنٹرول تک بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان ایجادات سے دنیا میں سائنسی معاشی اور معاشرتی انقلاب برپا ہو گیا۔ آئیے آج ہم اس عظیم سائنسدان کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

نیکولا ٹیزلا، 10 جولائی۔ 1956 ء میں جدید کرو ایشیا کے شہر سمل جان میں پیدا ہوئے۔ ان کے چار بہن بھائی تھے۔ ٹیزلا کے والد سلطنت سربیا کے آرتھوڈاکس پادری اور ایک لکھاری تھے وہ نیکولا کو بھی پادری بنانا چاہتے تھے مگر نیکولا ٹیزلا، ایک متجسس انسان تھے۔ جو کسی بھی دوسرے شخص کی تقلید کے قائل نہ تھے۔ ان کی دلچسپی کا محور و مرکز سائنس تھی۔ ٹیزلا کی والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں جو گھر کے استعمال کی چیزیں خود ایجاد کر لیتی تھیں۔

اپنے پیدائشی تجسس کے باعث ٹیزلا تحت الشعور میں ایک موجد بن رہے تھے۔ بچپن سے ہی ٹیزلا، کی یاداشت کا یہ عالم تھا کہ وہ سکول کے دنوں میں پوری کی پوری کتاب زبانی یاد کر لیتے اور ریاضی کے پورے لاگردم جدول اپنے دماغ میں محفوظ کر لیتے تھے اور کوئی بھی زبان آسانی سے سیکھ لیتے تھے۔ وہ دن رات کام کرتے اور بہت کم نیند لیتے تھے۔ سکول کے دنوں میں وہ ان اساتذہ کے ساتھ الجھ پڑتے جو طلباء کو رٹہ لگواتے تھے۔ وہ شروع میں طبیعات اور ریاضی بہت دلچسپی رکھتے تھے ٹیزلا نے 3، 6، اور 9 کے ہندسوں کی ریاضی میں اہمیت اور آپس کا رشتے کو اجاگر کیا۔ خصوصا 9 کے ہندسے کو کائنات کا سر بستہ راز قرار دیا۔ جس پر کئی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔ بعد میں برقی رو، ٹیزلا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔

1871 ء سے 1883 ء تک ٹیزلا نے الیکٹریکل اور مکینیکل انجنئیر نگ کی تعلیم ”گراز“ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ اور پریگ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ جن دنوں وہ الیکٹریکل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان دنوں انسٹیٹیوٹ میں ڈی سی موٹر کے نقائص پر بحث چل رہی تھی۔ ٹیسلا کے بقول ان کو اس وقت جیسے کوئی الہام ہوا کہ وہ اس مسئلے کا حل تلاش کر لیں گے۔ اگلے چھ سال وہ تواتر سے اس پر سوچتے رہے۔ انھوں نے پڑھائی میں دلچسپی چھوڑ دی۔

اور نیم دیوانے ہو گئے یہ ان کا پہلا نروس بریک ڈاؤن تھا۔ جو آنے والے دنوں میں سائنسی بریک تھرو ثابت ہوا۔ ان کے ذہن پر ہمہ وقت ایک فرضی برقی مقناطیی میدان یعنی الیکٹرو میگنیٹک فیلڈز اور اے سی سے چلنے والی موٹر سوار رہنے لگی تھی۔ وہ اپنے آپ سے کہتے رہتے کہ : ”اس کو وجود میں آنا چاہیے اور یہ وجود میں آئے گی۔“

1881 ء میں نروس بریک ڈاؤن سے تندرست ہونے کے بعد ٹیزلا، بوداپسٹ، (آسٹریا) چلے گئے۔ جہاں وہ ایک ٹیلیفون ایکسچینج میں الیکٹریکل آنجنیئر کے طور پر ملازمت کرنے لگے۔ ایک دن وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ باغ کی سیر کر رہے تھے اور شاعری گنگنا رہے تھے کہ ان کے دماغ میں ایک عجیب منظر گھوم گیا۔ انھوں نے ایک چھڑی لے کر مٹی پر کچھ لکیریں کھینچنا شروع کر دیں۔ ان کو اے سی موٹر کا راز مل گیا تھا۔ بعد کے سالوں نے دیکھا کہ اے سی انڈکشن موٹر نے سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیے۔ 1884 ء میں ٹیزلا نے یورپ چھوڑا اور امریکہ سدھار گئے۔ جب وہ بحری راستے سے نیو یارک پہنچے تو ان کی جیب میں صرف چار سینٹ اور ہاتھ میں ان کے سابق آجر چارلس بیچلر کا ایک تعارفی خط تھا جو اس نے تھامس ایڈیسن کے نام لکھا تھا۔ خط کا متن دلچسپ تھا:

: ”مائی ڈئیر ایڈیسن، میں صرف دو عظیم انسانوں سے واقف ہوں ان میں سے ایک تم ہو۔ اور دوسرا یہ نوجوان ہے۔“

ملاقات کے چند روز بعد ایڈیسن نے ٹیزلا کو اپنے ہاں رکھ لیا۔ ایڈیسن نے ٹیزلا کو اپنی ڈی سی موٹر کے نقائص دور کر کے جدید بنانے کا پراجیکٹ دیا اور کامیابی کے عوض پچاس ہزار ڈالر نقد دینے کا وعدہ کیا۔ ٹیزلا نے چھ ماہ کے اندر اندر ایڈیسن کے لئے ایک نئی جہت رکھنے والی ڈی سی موٹر بنا ڈالی۔ مگر ایڈیسن یہ کہہ کر اپنے وعدے سے منحرف ہو گیا کہ : ”تم ابھی نئے نئے امریکی بنے ہو۔ تمہیں امریکی مذاق سمجھنے میں وقت لگے گا۔“

ٹیزلا کے اعتماد کو شدید جھٹکا لگا اور ان کا اعتماد ٹوٹ گیا۔ انھوں نے اسی وقت ایڈیسن کی تجربہ گاہ کو کو خیر باد کہہ کر ایک باغ میں مالی کی نوکری کر لی۔

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح امریکہ میں پھیل گئی کہ ٹیزلا کی اے سی موٹر کی تجویز ایک ایسی ایجاد بن سکتی ہے کہ اگر اس پر سرمایہ کاری کی جائے تو بجلی کی دنیا میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ اب ویسٹرن یونین کمپنی نے ٹیزلا کی صلاحیتوں کو عملی شکل میں نمودار کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے ایڈیسن کے دفتر سے دور ایل الگ تھلگ مقام پر ٹیزلا کی تجربہ گاہ بنائی اور وہ دوبارہ اپنے کام میں گم ہو گئے۔ ٹیزلا نے وہاں پر اے سی پاور سسٹم ڈیزائن کیا۔ جو بیسویں صدی میں بجلی پیدا کرنے کا سب سے بڑا، پرانا اور اہم ذریعہ ثابت ہوا۔

مگر ایڈیسن کی اے سی کرنٹ مخالف پریس تحریک کی وجہ سے بہت زیادہ لوگ اے سی کے قائل نہ تھے تھامس ایڈیسن نے امریکہ میں اے سی پاور کے خطرناک ہونے کی مہم چلا رکھی تھی ادھر ڈی سی بجلی پیدا کرنے والی امریکی کمپنی کا مالک جارج ویسٹنگ ہاؤس بجلی کی کسی ایسی ہی نوع کا متلاشی تھا جو ایڈیسن کی ڈی سی موٹر سے اس کو چھٹکارا دلوائے۔ اس کے خواب کے پورا ہونے کا بندوبست ٹیزلا نے کر دیا تھا۔

جارج ویسٹنگ ہاؤس 60000 ڈالر کے عوض ٹیزلا کے اے سی موٹر کی پیداوار کے ڈیزائن کا لائسنس خریدا۔ مگر جملہ حقوق ٹیزلا کے نام ہی رہے۔ بجلی جلنے لگی اور چلنے لگی۔

ٹیزلا ”بجلیوں کی جنگ“ جیت چکے تھے۔ مگر ایڈیسن کی جنرل الیکٹرک کمپنی اور ویسٹنگ ہاؤس ٹیزلا کے خلاف مقدمہ بازی میں چلے گئے۔ مگر ہار سامنے دیکھ کر جارج ویسٹنگ نے ٹیزلا کی منت سماجت شروع کردی کہ ٹیزلا ان کو رائلٹی میں ریلیف دیں ورنہ وہ دیوالیہ ہو جائیں گے۔ ٹیزلا ایک بے غرض اور بے نیاز انسان تھے، صرف اس بات کے عوض کہ ویسٹنگ نے اس کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا اور یہ کہ وہ ان کا مخلص دوست ہے۔ ویسٹنگ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو پھاڑ دیا۔ یوں ایک دوست کی خاطر ٹیزلا نے کئی ملین ڈالر جو جو ان کی جھولی میں آرہے تھے، ٹھکرا دیے۔ ورنہ وہ اس وقت دنیا کے امیر ترین اشخاص میں سے ایک ہوتے۔

ٹیزلا کا بچپن کا خواب تھا کہ وہ نیاگرا فالز کی طاقت کو قابو میں لا کر انسانیت کے لئے کچھ کریں۔ اس خواب کی تعبیر آسان نہ تھی۔ اس کے لئے ان کو سرمایہ کاروں کی مدد سے ایک الیکٹریکل کمپنی بنانی پڑی۔ 1895 ء میں ٹیزلا نے نیاگرا کے مقام پر امریکہ کے لئے ہائیڈرو الیکٹرک پن بجلی گھر ڈیزائن کر دیا۔ جو اپنی جدید شکل میں آج بھی کام کر رہا ہے اور بفلو شہر اور نیو یارک سٹی کو بجلی کی ترسیل کرتا ہے۔

ٹیزلا نے انیسیویں صدی کے اواخر میں ”ٹیزلا کوائل“ بنا ڈالی۔ جو وائرلیس ٹیکنالوجی کی بنیاد ثابت ہوئی۔ اسی سے ریڈیو، ایکس رے، فلورسنٹ ٹیوب، ریڈار اور ریموٹ کنٹرول وجود میں آئے۔ اس کامیابی کے بعد کہ مقناطیسی توانائی تار کے بغیر لہروں کی شکل میں فضا میں سفر کر سکتی ہے، ٹیزلا اپنے سب سے بڑے پراجیکٹ گلوبل وائرلیس سسٹم پر کام کرنے لگے۔ پراجیکٹ پر کام کرنے کے لئے سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کی جانب سے ٹیزلا کو فنڈنگ مل گئی اس پراجیکٹ میں ایک ٹاور کے ذریعے پوری دنیا میں ایک فری وائرلیس سسٹم قائم کر کے تمام ملکوں کے لوگوں کا آپس میں رابطہ قائم کرنا آسان بنانا تھا۔ اس ٹاور کو نیو یارک کے قریب لانگ آئی لینڈ پر وارڈن کلف نامی جگہ پر تعمیر کیا گیا۔

اس پراجیکٹ کا نام فری انرجی پراجیکٹ رکھا گیا۔ ٹیزلا نے ایک دفعہ پھر قوی ہیکل ٹاور کے ڈیزائن، لیبارٹری اور پاور سٹیشن پر دن رات گرم جوشی تن دہی اور انتھک جذبے کے ساتھ کام کرنے لگے سن 1906 میں ٹاور تعمیر تو ہو گیا۔ مگر ٹیزلا کے لئے ایک اور بدقسمتی انتظار کر رہی تھی۔ سرمایہ کاروں کو اس پراجیکٹ کی کامیابی کے حوالے سے خوف و خدشات نے گھیر لیا اور انھوں نے فنڈنگ روک لی۔ اس کے پس منظر میں گگلیمو مارکونی، آندریو کارنیگی اور تھامس ایڈیسن جیسے سابق رفقاء نے اہم کردار ادا کیا: بقول شاعر :

میرے جتنے بھی دوست تھے سب نے
حسب توفیق بے وفائی کی

بلا شبہ اس ناکامی میں دنیا بھر میں ریڈیو ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بھی تھی۔ فنڈز کی عدم دستیابی کی صورت میں ٹیزلا کے لئے پراجیکٹ جاری رکھنا ممکن نہ رہا، سٹاف کی چھٹی کرنی پڑی اور بالآخر 1915 میں ٹاور کو گرا کر اس کے سکریپ سے کچھ قرض اتارا گیا مگر ٹیزلا دیوالیہ ہو چکے تھے۔ ٹیزلا کا ایک اور نروس بریک ڈاؤن ہو گیا۔

(یاد رہے کہ ریڈیو ٹیکنالوجی بھی دراصل ٹیزلا کوائل ہی کی مرہون منت تھی۔ مگر مارکونی نے عدالت میں کیس دائر کر رکھا تھا کہ کوائل کا موجد دراصل مارکونی تھا، ٹیزلا کی وفات کے چالیس سال بعد امریکی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ ریڈیو کا اصل موجد ٹیزلا ہی تھا کیونکہ ٹیزلا کوائل کے بغیر ایسا ممکن نہ تھا۔ ) گویا، بقول احمد ندیم قاسمی:

عمر بھر اہل وطن سنگ زنی کرتے رہے
یہ اور بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

صحت یاب ہونے پر ٹیزلا ایک کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرنے لگے۔ مگر وہ اب گوشہ نشین ہو چکے تھے اس اثناء میں ایف بی آئی بھی حرکت میں آ گئی کیونکہ انھوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ”ڈیتھ رے“ کی تھیوری پیش کی تھی جس میں فضا میں توانائی کی کرنیں بھیج کر ایک ہزار ہوائی جہازوں کو منٹوں تباہ کیا جا سکتا تھا۔ اس پر سوویت یونین کی فوجی صفوں میں کافی کھلبلی مچی تھی۔

ٹیزلا نے عمر بھر شادی نہیں کی۔ (یہ ان کی ذہانت پر ایک اور واضح دلیل ہے۔ ) ۔

وہ زیادہ وقت باغ میں کبوتروں کے ساتھ گزارتے۔ ایک کبوتر سے بہت مانوس تھے۔ اور محبوبہ کی طرح اس سے محبت کرتے۔ وہ باقاعدگی سے ان سے ملنے آیا کرتی۔ ایک دن وہ ان سے ملنے آئی تو ان کے ہاتھ میں دم توڑ گئی۔ اگلے دن ٹیزلا فوت ہو گئے۔ یوں یہ عظیم ذہن رکھنے والا بے لوث بے غرض اور بہت بڑا مؤجد جہان فانی سے کوچ کر گیا۔

ان کی وفات سات جنوری 1943 ء کو نیو یارک کے ایک ہوٹل کے کمرے میں کسمپرسی کی حالت میں ہوئی جہاں انھوں نے زندگی کے ساٹھ سال گزارے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی تمام ڈائیریاں اور مسودے ایف بی آئی نے اپنی تحویل میں لے لئے۔

ٹیزلا فوت ہو گئے لیکن ان کا کام آج بھی زندہ ہے۔ اور رہتی صدیوں تک زندہ رہے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments