معذور لڑکیوں اور خواتین کی شادی سے متعلق مغالطے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں معذوری کو لے کر بہت سے مغالطے پائے جاتے ہیں ان میں سب سے پہلے میں یہاں معذوری کا بتاؤں گا کہ حقیقت میں معذوری ہے کیا؟معذوری ایک طرز زندگی کا نام ہے یہ کوئی بیماری نہیں،کوئی جنات کا سایہ نہیں اور نہ ہی والدین کے گناہوں کی سزا ہے۔ ہمارے معاشرے میں معذوری کو بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے اور معذور افراد خاص کر خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ جہاں تعلیم،صحت اور بنیادی ضروریات کے حوالے سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے وہیں انکے احساسات اور جذبات کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ ضروری ہی نہیں سمجھا جاتا۔

اپنی زندگی کو خوبصورت اور بہتر انداز میں گزارنے کا خواب کون نہیں دیکھتا،ہر شخص کا خواب ہوتا ہے کہ وہ ایک خوشحال زندگی گزارے،اسے زندگی میں ایک اچھا جیون ساتھی ملے جس کے ساتھ مل کر زندگی کے ہر پل کو جیا جائے۔لیکن بدقسمتی سے یہ خواب ان خواتین اور لڑکیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کے بس خواب ہی رہتے ہیں۔ ہاتھوں پر مہندی لگانا، شادی پر عروسی لباس پہننا، بچوں کی شرارتیں دیکھنا اور ان کے ساتھ کھیلنا یہ سب ان خواتین اور لڑکیوں کے لیے تو ایک خواب ہی رہ جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں جذبات یا احساسات کو کون سمجھتا ہے۔ کون ان خوابوں کو دیکھ سکتا ہے جو خواب ان خواتین اور لڑکیوں نے دیکھ رکھے ہوتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں ہر کسی کو پرفیکٹ بیوی یا بہو کی تلاش ہوتی ہے اور اس تلاش میں لوگ بھول جاتے ہیں رشتوں کی خوبصورتی کیا ہے؟ کیا کوئی رشتہ بھلا ،خوبصورت احساسات سے بڑھ کر ہو سکتا ہے؟یقینا نہیں۔

ہمارے ہاں خواتین اور لڑکیاں جنہیں کوئی معذوری ہے کی شادی کے حوالے سے دوسرا مغالطہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ انہیں شادی کی کیا ضرورت ہے۔والدین یا معاشرہ انکے ان احساسات اور جذبات کو یکسر نظرانداز کر دیتا ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قدرت کی طرف سے یہ تمام خواتین اور لڑکیاں صحتمند ہوتی ہیں اور شادی جیسے خوبصورت جذبے کو بہت قریب سے محسوس کرتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہے۔ہمیں ان گھروں کو قابل رسائی بنانا ہے جہاں ان کی شادی ہونی ہے تاکہ انہیں وہاں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اور باقی ضروریات کی طرح خاندان بنانا بھی ان کی بنیادی ضرورت ہے۔شادی کے حوالے سے ان کی پسند اور ناپسند کا بھی ضرور خیال رکھیں۔جہاں ان کی شادی کریں ان کی خوشی اس میں ضرور شامل ہو۔

ہمارے ہاں ان خواتین اور لڑکیوں کے حوالے سے تیسرا مغالطہ یہ پایا جاتا ہے اگر شادی کر بھی لی تو بچے پیدا نہیں ہوں گے اور اگر بچے پیدا ہو بھی گئے تو معذور پیدا ہوں گے لیکن یہ صرف مغالطہ ہی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جن کے ہاں معذوری کے باوجود بھی صحت مند اولاد کی پیدائش ہوئی ہے۔ آپ یو ٹیوب یا گوگل پر تلاش کریں آپ کو ان افراد کی کامیاب زندگی کے بارے میں بہت کچھ مل جائے گا۔

ہمارے میں معاشرے میں شادی کے لیے یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی کو کھانا بنانا آتا ہو، گھر کی صفائی کر سکے ،کپڑوں کی دھلائی وغیرہ وغیرہ اور یہ تمام کام یہ خواتین اور لڑکیاں بھی کر لیں گی لیکن ہاں ان کا یہ سب کرنے انداز مختلف ہو سکتا ہے اور جتنا کام وہ آسانی سے کر سکتی ہیں وہ کریں گی اس حوالے صرف آپ کے مثبت رویوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔

شادی سے پہلے والدین کو ان لڑکیوں اور خواتین جنہیں کوئی معذوری ہے کو شادی کے حوالے سے مکمل آگاہی دینی چاہیے اور تولیدی عمل کے حوالے سے کسی معالج سے ضرور مشورہ کر لینا چاہیے۔ شادی کے بعد کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسکے لیے والدین کو ان لڑکیوں اور خواتین کو مکمل یقین دلانا چاہیے کہ وہ انکے ساتھ ہیں۔جیسے کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کے خاندان بنانا ان خواتین اور لڑکیوں کا حق ہے تو ان چیزوں کا والدین کو ضرور خیال رکھنا ہو گا کہ ضروری نہیں ان خواتین یا لڑکیوں کی شادی کے لے والدین کوئی ایسا فرد دیکھیں جیسے کوئی معذوری نہ ہو والدین کسی ایسے شخص کا بھی انتخاب کر سکتے ہیں جو معذوری کے ساتھ ہو اس صورت میں اگر شادی ہو بھی جائے تو دونوں معذوری کے ساتھ ایک دوسرے کے مددگار ہو سکتے ہیں، لحاظ اس طرح کے مغالطوں میں والدین کو نہیں پڑنا چاہیے۔اور والدین اگر ان لڑکیوں اور خواتین کو معاشی طور پر مستحکم بناتے ہیں تو انہیں مستقبل میں کسی قسم کے منفی رویوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔معاشی استحکام زندگی میں قدم قدم ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ خاندان سے بھی جوڑے رکھتا ہے اور معاشرے کے منفی رویوں سے بھی بچاتا ہے ۔

دیہی علاقوں میں رہنے والی ان خواتین اور لڑکیوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسکی بنیادی وجہ والدین بہت سے مغالطوں کا شکار ہوتے ہیں۔معاشرے کے منفی رویوں کی وجہ سے وہ یہ ضروری نہیں سمجھتے ان خواتین یا لڑکیوں کی شادی کرنا تو ایسے والدین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ یہ فیصلہ کر سکیں یا ذمہ داری نبھا سکیں۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو ان خواتین اور لڑکیوں کے احساسات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہو گا اور معاشرے میں ان کو عزت و احترام کا مقام دینا ہو گا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی تاکہ وہ معاشرے میں بااعتماد اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments